سکندر کی موت کے بعد مقدونیہ کے نئے حکمرانوں نے ارسطو کی کوئی مدد نہ کی

 سکندر کی موت کے بعد مقدونیہ کے نئے حکمرانوں نے ارسطو کی کوئی مدد نہ کی
 سکندر کی موت کے بعد مقدونیہ کے نئے حکمرانوں نے ارسطو کی کوئی مدد نہ کی

  

تحریر: ملک اشفاق

قسط: (5)

 بادشاہ فلپ اور اس کے بیٹے سکندر نے ارسطو کا بہت احترام کیا اور وہ اس کے فطری علوم سے بہت متاثر ہوئے۔ جب سکندر ایشیا کو فتح کرنے کی مہم پر روانہ ہوا تو ارسطو ایتھنز لوٹ گیا۔ یہاں اس نے لائسیم(Lyceum) کے گھنے درختوں میں فلسفے کا سکول قائم کیا کیونکہ ارسطو اپنے استاد افلاطون کی طرح اپنے شاگردوں کو تعلیم چل پھر کر دیتا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے شاگردوں سے دوسرے موضوعات پر بھی گفتگو کرتا تھا۔ سکندر کی موت کے بعد مقدونیہ کے نئے حکمرانوں نے ارسطو کی کوئی مدد نہ کی تو ارسطو بحیرہ اسود کے کنارے کالسس(Chalcis) کے مقام پر چلا گیا۔ یہیں اس نے 322 قبل مسیح میں وفات پائی۔

 اس وقت کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں سیاسیات، اقتصادیات، سماجیات، اور دینیات موجودہ زمانے سے بہت مختلف تھیں لیکن انہیں بھی آج کے دور جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ ارسطو نے ایک اچھی زندگی جو کہ اعلیٰ اخلاقیات پر مشتمل ہو کے بارے میں اپنی ”اخلاقیات“ (The Eihics) کی بنیاد رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر اس کی تحریریں انتہائی شاندار ہیں(Nicomachean Ethics) دراصل نیکومیکین ارسطو کے بیٹے کا نام تھا جو کہ ایک لونڈی کے بطن سے تھا۔ اس لیے خیال کیاجاتا ہے کہ یہ کتاب اسی کو مخاطب کرکے لکھی گئی ہے اور یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ شاید اس کتاب کو اس کے بیٹے نیکومیکین نے مرتب کیا ہو اور اس کی دوسری کتاب یوڈیمین(Eudemian) ارسطو نے اپنے شاگرد یوڈیمین کو مخاطب کرکے لکھی ہے لیکن کچھ محققین کا کہنا ہے کہ اس کتاب کا منصف خود ایڈومس(Eudomis) ہے۔ ارسطو کی وہ تمام تحریریں جوکہ سیاسیات اور اخلاقیات کے بارے میں ہیں فلسفہ مقصدی پر مشتمل ہیں۔ وہ اشیاءکی تشریح کرکے ان کے اصل مقصد تک پہنچتا ہے۔ اس کی تحریریں اس بات کی شاہد ہیں کہ ان میں مقصد نمایاں ہے وہ نیکو مادوس کو مخاطب کرکے کہتا ہے تمام آرٹ اور علوم کچھ نہ کچھ مقاصد ضرور رکھتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص کا ہر عمل کوئی نہ کوئی نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ ہر عمل کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔ اگر خیال اچھا ہوگا تو عمل اچھا ہوگا۔ سچائی کا انحصار متعلقہ اشیاءپر ہوتا ہے۔ کسی شخص کے اعمال اس کے ذہن کی عکاسی کرتے ہیں جس کے لیے وہ خود ہی ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس کا خوبصورت عمل ہی اعلیٰ خوبی ہے۔ اعلیٰ خوبی ہی اس کے اعلیٰ انسان ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ 

اعلیٰ خوبی کیا ہے؟ اعلیٰ خوبی اپنے عمل سے خوشی پیدا کرتی ہے۔ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرنا یا فلاح و بہبود کرنا اعلیٰ خوبی ہے اور اس میں مشترک چیز”خوشی“ ہے۔ اس طرح اعلیٰ عمل، عقل کی نشاندہی کرتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دولت اور حشمت خوشی کا باغ ہے لیکن دراصل ان دونوں چیزوں کی اہمیت نہیں کیونکہ جب آدمی بیمار ہوتا ہے یا غریب ہوتا ہے تو وہ پھر بھی اعلیٰ خوبی کی بدولت خوشی حاصل کر سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کی رائے مختلف ہے وہ کہتے ہیں کہ خوشی اعلیٰ ترین خوبی ہے اور سچائی کا دخل اس میں بہت کم ہے لیکن یہ بات بہت اہم ہے کہ سچائی ہی اعلیٰ خوشی کا باعث ہے اور سچائی اصل میں فطرت ہے۔ جب ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص کیا کام کرتا ہے تو پھر ہم آسانی سے اس کی خوشی کے ماخذ کو تلاش کر لیتے ہیں جیسے ایک بانسری بجانے والے بانسری بجا کر خوش رہتا ہے، ایک مجسمہ ساز ایک خوبصورت مجسمے کو تراش کر خوش ہوتا ہے یا پھر فنون کی دوسری اقسام۔ یہ تمام کام کرنے والے اپنے فنی عمل سے ایک مسرت حاصل کرتے ہیںتو ان کی اعلیٰ خوبی ان کا کام ہوتا ہے۔

 زندہ رہنے کا عمل گھوڑوں، بیلوں اور دوسرے جانوروں میں بھی ہوتا ہے لیکن انسان ایک ذی عقل ہے اور اس کا یہی کردار اس کی طاقت ہے جو کہ اسے حیوانوں سے افضل بناتی ہے۔ اس طرح ہم ارسطو کے حتمی نتائج تک پہنچتے ہیں کہ آدمی کی اعلیٰ خوبی وہ کام ہے جو وہ اپنی روح کی گہرائی سے کرتا ہے کیونکہ وہ کام ہر لحاظ سے مکمل اور اعلیٰ ہوتا ہے۔

 اس اعلیٰ خوبی کا یہ سرسری بیان اس بات کا نتیجہ ہے کہ انسان اعلیٰ ترین دانشوارانہ خوبیوں کا حامل ہے۔ اس لیے وہ دوسری مخلوق سے برتر ہے اور انسان کو، جس ماحول یا ریاست میں وہ رہتا ہے ،اپنی اعلیٰ خوبیوں کو استعمال کرنا چاہیے۔ ایک عملاً عقلمند انسان اس خوبی کو ہر جگہ نمایاں کرتا ہے اور یہی اس کا عقیدہ ہے۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -