سرچارلس مٹکاف نے ورنیکلر پریس ایکٹ بنایا جس کی رو سے ہندوستانی اخبارات کو پوری آزادی حاصل ہو گئی کہ وہ جو چاہیں لکھیں

سرچارلس مٹکاف نے ورنیکلر پریس ایکٹ بنایا جس کی رو سے ہندوستانی اخبارات کو ...
سرچارلس مٹکاف نے ورنیکلر پریس ایکٹ بنایا جس کی رو سے ہندوستانی اخبارات کو پوری آزادی حاصل ہو گئی کہ وہ جو چاہیں لکھیں

  

مصنف : ای مارسڈن 

 ہندوستان زیر حکومت ملکہ معظمہ قیصرۂ ہند

اگلے 5 وائسرائے صاحبان کا عہد حکومت1877ءسے 1901ءتک:

 لارڈ لٹن (1876ءسے 1880ءتک) نے دہلی میں ایک عظیم الشان دربار کیا جس میں ملکہ وکٹوریا کے ہندوستان کی ملکہ معظمہ قیصرۂ ہند ہونے کا اعلان کیا گیا۔قیصر یا شہنشاہ (امپرر) کا لقب ان بادشاہوں کے نام کے ساتھ لگتا ہے جو شاہوں کے بھی بادشاہ ہوتے ہیں۔ بادشاہ صرف ایک ملک پر حکمران ہوتا ہے اور شہنشاہ بہت سے ممالک کے بادشاہوں پر حکومت کرتا ہے۔ اسی لیے ہم مغل بادشاہوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کو شہنشاہ لکھتے ہیں۔ انہوں نے بھی ہندوستان کے بہت سے ملکوں پر حکمرانی کی ہے اور وہ بھی بہت سے راجاﺅں نوابوں اور شہزادوں پر حکمران تھے۔ اس لیے سلطنتِ برطانیہ کے فرمانروا کے لیے بھی یہ لقب موزوں تھا۔ ہمارا مالک تاج و تخت مثلاً جارج پنجم انگلستان کا بادشاہ ہے مگر ہندوستان اور بہت سے دیگر ممالک کا جو سلطنت برطانیہ میں شامل ہیں شہنشاہ ہے۔

 یکم جنوری 1877ءکو دہلی میں ایک شاہی مجمع (امپیریل اسمبلی) ہوا۔ اس میں تمام شہزادگانِ ہند اپنی قیصرہ کو اس کے وائسرائے کی موجودگی میں تعظیم دینے کے لیے جمع ہوئے۔ ان سب نے اپنے قدیم لڑائی جھگڑوں کو بھول جانا منظور کیا اور وہ قیصرہ کی وفادار رعایا و سلطنتِ برطانیہ کے شہزادگان کی حیثیت سے دربار میں رونق افروز ہوئے۔ 

 1876ء، 1877ء، 1878ءمیں دکن اور جنوبی ہند میں بارش نہیں ہوئی۔ اس خشک سالی کے باعث وہاں متواتر 2 سال تک سخت قحط رہا۔ 50 لاکھ آدمی ہلاک ہوئے۔ فاقہ کش رعیت کو موت کے پنجہ سے بچانے کے لیے گورنمنٹ سے جو کچھ بن پڑا اس نے کیا۔ سمندر پار سے اور ملک کے دیگر حصوں سے جہاں قحط نہیں تھا غلے کے ذخیرے جنوبی ہند میں لائے گئے۔ بے شمار خلقت میں خوراک تقسیم کرنے کے لیے 10 کروڑ سے زیادہ روپیہ خرچ کیا گیا اور لاکھوں آدمیوں کو مرنے سے بچایا گیا۔ اس قحط کے بعد جنوبی ہند میں ریلوے لائنوں کی اور بھی توسیع کی گئی اور نئی ریلوے لائنیں تیار ہوئیں تاکہ اگر ملک کے کسی حصے میں پھر قحط پڑے تو وہاں غلہ باآسانی پہنچایا جا سکے۔

 انہی ایام میں شیر علی امیرِ افغانستان نے ایک روسی افسر سے ملاقات کی اور اس انگریز افسر سے ملنے سے انکار کر دیا جس کو گورنر جنرل نے اس سے دوستانہ طور پر ملاقات کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ گویا کہ اپنے اس طرز عمل سے شیر علی نے دکھانا چاہا کہ اگر روسی ہند پر حملہ آور ہونگے تو وہ ان کی امداد کرے گا، اور وہ برطانیہ کا دوست نہیں بلکہ دشمن ہے۔ اس لیے اس کے خلاف اعلان جنگ کیا گیا اور برطانوی فوجوں نے افغانستان پر دھاوا بول دیا۔ شیر علی روسی ترکستان کو بھاگ گیا۔ جہاں بعد میں وہ فوت ہو گیا اور اس کا لڑکا یعقوب خاں اس کے بجائے امیر افغانستان بنایا گیا۔ اس نے انگریزوں سے صلح نامہ کر لیا لیکن جب اس سے ملاقات کرنے کے لیے ایک برٹش افسر سر ال کیوگنری نامی کو بھیجا گیا تو اس کے افغان سپاہیوں نے بلوہ کر کے اس افسر اور اس کے محافظ دستے (باڈی گارڈ) کو قتل کر ڈالا۔ اس پر یعقوب خاں نے تخت چھوڑ دیا اور اسے ہندوستان بھیج دیا گیا۔

 لارڈ رپن (1880ءسے 1884ء) ساتویں وائسرائے تھے جن کے عہد میں جنگ افغانستان کا خاتمہ ہوا۔ یعقوب خاں کے چھوٹے بھائی ایوب خاں نے تخت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن جنرل رابرٹ (جو بعد میں لارڈ بنائے گئے) جلدی سے کابل سے قندھار پہنچ گئے اور انہوں نے اسے بھگا دیا۔ افضل خاں کا سب سے بڑا لڑکا عبدالرحمن تخت کا جائز وارث تھا۔ اسے امیر افغانستان بنا دیا گیا۔ وہ 1901ءمیں فوت ہوا اور اس کے بجائے اس کا بیٹا حبیب اللہ خاں تخت نشین ہوا جو کہ انگریزوں کا پکا دوست اور معین تھا۔ اس کو اس کی رعایا نے 1919ءکے آغاز میں قتل کیا اور اس کا تیسرا بیٹا امان اللہ خاں کابل کے تخت کا مالک ہوا۔

 لارڈ رپن ہندوستانیوں میں نہایت ہر دلعزیز ہوئے، چونکہ ان پر وہ بہت مہربان تھے۔ سرچارلس مٹکاف نے جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں ایک ورنیکلر پریس ایکٹ بنایا جس کی رو سے ہندوستانی اخبارات کو اس امر کی پوری آزادی حاصل ہو گئی کہ وہ جو کچھ چاہیں لکھیں بشرطیکہ ان کی کوئی تحریر کسی کے نقصان یا تکلیف کا موجب نہ ہو۔ لارڈ لٹن کے عہد حکومت میں یہ آزادی کسی قدر روک دی گئی تھی کیونکہ بعض اخبارات نے اس آزادی کا نامناسب استعمال کیا تھا۔ لارڈرپن نے لارڈ لٹن کے ایکٹ کو منسوخ کر کے اخبارات کو پھر پوری پوری آزادی عطا کر دی اور فرمایا کہ اگر کوئی اخبار قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس پر ایک قانونی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا اور اگر وہ مجرم ثابت ہوا تو اسے سزا دی جائے گی۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -