الزام دہرانے کے پیسے ملتے ہیں 

 الزام دہرانے کے پیسے ملتے ہیں 
 الزام دہرانے کے پیسے ملتے ہیں 

  

 ایک عجیب سی روش بعض ایک ٹی وی چینلوں پر دیکھنے اور سننے کو مل رہی ہے کہ عمران خان جو بھی الزام لگاتے ہیں وہاں بیٹھے ہوئے اینکر اسے دہرانا شروع کردیتے ہیں شائد انہیں الزام کے دہرانے کے ہی پیسے ملتے ہیں  یہ صرف اس وقت نہیں ہو رہا ہے کہ جب عمران خان اقتدار سے نکال باہر کیے گئے ہیں بلکہ تب بھی یہی صورت حال تھی جب وہ برسراقتدار تھے کہ وہ صبح اپوزیشن پر کوئی الزام لگاتے اور شام کو ہر ٹی وی چینل اس کی تکرار کرکر کے ایک طرف ناظرین کا ناک میں دم کردیتا تھا اور دوسری جانب اپوزیشن کو کٹہرے میں کھڑا کرلیتا تھا، اب جب کہ عمران خان اپوزیشن میں ہیں تب بھی یہی صورت حال ہے کہ بجائے اس کے کہ ان کی چار سال کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھتے ہوئے سخت پروگرام کئے جائیں، الٹا حکومت کوکٹہرے میں کھڑا کرلیا جاتا ہے۔ 

جن دنوں عمران خان کا 2014کا دھرنا چل رہا تھا اور جب پانامہ کا شور مچا تھا، ان دنوں ایکسپریس ٹریبون کی ایک خاتون ایڈیٹر نے پاکستان سے امریکہ شفٹ ہو کر ایک مضمون لکھا تھا جس میں اس نے بتایا تھا کہ کس طرح مخصوص کوارٹرز سے انہیں بنی بنائی خبریں ڈیسک پر پہنچائی جاتی ہیں جس کا فل سٹاپ اور کوما بھی تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی  اور یہاں تک کہ اس کی سرخی بھی گھڑی گھڑائی ہوتی ہے جس میں کسی ردوبدل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور وہ پلانٹڈ خبریں عین اسی طرح اخبار کی زینت بن جاتی تھیں۔ آج جب سابق خاتون اول بشریٰ پنکی کی مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آئی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ کیسے خبر سے پہلے اس کے ردعمل کو سوشل میڈیا پر پھیلا کر فضا کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چنانچہ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ سوشل میڈیا نے صحافت کی ہیئت کو بدل کر رکھ دیا ہے  جسے ہم تازہ اخبار سمجھ کر پڑھ رہے ہوتے ہیں وہ تو گزشتہ کل کی خبروں پر مشتمل ہوتاہے جبکہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ  پر لمحہ موجود کی تازہ ترین صورت حال دستیاب ہوتی ہے۔ 

جن دنوں روس نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو تب یہ خبریں عام پڑھنے کو ملا کرتی تھیں کہ روس افغانستان میں کھلونا بم پھینکتا ہے جسے بچے شوق شوق میں اٹھا کر گھر لے جاتے ہیں اور جونہی اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کرتے ہیں، وہ پھٹ جاتا ہے۔ دیکھا جائے توسوشل میڈیا نے یہی کام پاکستان سمیت ہر معاشرے کے ساتھ کیا ہے  حتیٰ کہ امریکہ جیسے ملک میں یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ روس اور چین نے اس کے عام انتخابات میں سوشل میڈیا پر ایک پراپیگنڈہ وار شروع کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوایا اور یوں امریکی انتخابات میں مداخلت کے مرتکب ہوئے۔ 

دوسرے معنوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے پراپیگنڈے کی تکنیک انٹرنیٹ کے عام صارف کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ اسے خفیہ ایجنسیاں ایک منظم پراپیگنڈے کے ذریعے کرتی ہیں اور مخالف ملکوں کے اندر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایسا کون کررہا ہے؟ لامحالہ اس حوالے سے پہلا شک بھارت کی طرف ہی جاتا ہے لیکن جب ایکسپریس ٹریبون کی خاتون ایڈیٹر کا مضمون پڑھنے کو ملتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس خفیہ کام میں بہت سے اندرونی اور بیرونی عناصر ملوث ہیں اور بشریٰ پنکی کی آڈیو ٹیپ تو بتاتی ہے کہ خود سیاسی جماعتیں، خاص طور پر پی ٹی آئی، بھی اپنے مخالفین کے خلاف ایسی ہی تکنیک استعمال کرتی ہے، خود عمران خان نے شیخوپورہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کے ہاتھ میں موبائل فون ایک بہت بڑاہتھیار ہے جس نے دنیا بدل کر رکھ دی ہے  ذرا غور کیا جائے تو نوجوانوں کے ہاتھ میں موبائل دراصل وہی کھلونا بم ہے جو روس افغانستان کی نئی پود کو attractکرنے کے لئے استعمال کرتا تھا اور دور بیٹھ کر عام افغان گھرانوں میں تباہی مچاتا تھا۔ 

صحافی عمران ریاض خان کے سوشل میڈیا پر فالوئرز کی تعداد پنتالیس پچاس لاکھ بتائی جاتی ہے اور بقول شخصے اس نے اپنے کسی وی لاگ میں کہا ہے کہ اس کی آمدن پندرہ کروڑ روپے ہے، جو اگر ہے تو یقینی طور پر سالانہ ہی ہوگی  اب جس شخص کی سالانہ آمدن پندرہ کروڑ روپے ہے اور جو سوشل میڈیا پر جو چاہے اپ لوڈ کرسکتاہے اسے کیا ضرورت ہے کہ ملک کے پانچ چھہ بڑے ٹی وی چینلوں میں سے کسی ایک پر لازمی طور پر روزانہ کی بنیاد پر پروگرام بھی کرے؟ اس کے پاس تو اپنے وی لاگ کو چلانے کیلئے اتنا سر کھپانا پڑتا ہوگا کہ کسی اور کام کی اسے فرصت نہ ہوتی ہوگی۔ لیکن عمران ریاض سمیت بہت سے ٹی وی اینکر ایسے ہیں جنھیں لانچ ہی اس مقصد کے لئے کیا گیا ہے کہ بقول بشریٰ پنکی جو بھی آپ کی مرضی کے خلاف بات کرے اس کے خلاف غدار کا پراپیگنڈہ شروع کردیا جائے۔ 

حکومت کو چاہئے کہ ٹی وی چینلوں پر سیاسی پروگراموں کے حوالے سے ایک ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کیلئے تما م اسٹیک ہولڈروں سے مشاورت کرکے ایک ایسا لائحہ عمل تشکیل دے کہ عام آدمی کو زہریلے پراپیگنڈے سے بچایا جا سکے اور معاشرے کے امن و سکون کو یقینی بنایا جا سکے کیونکہ اگر اس شتر بے مہار کو نکیل نہ ڈالی گئی تو جس طرح سیالکوٹ اور خیبرپختونخوا میں توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگا کر نوجوانوں کو سرعام قتل کیا گیا تھا، عین اسی طرح پراپیگنڈے کے زور پر سیاسی مخالفین کو سولیوں پر چڑھانے کا رواج جڑ پکڑسکتا ہے  اس ناسور کو جس قدر جلد ممکن ہو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہئے۔حال ہی میں راقم کو اپنے ایک عزیز سے ملاقات کا موقع ملا جو ہر وقت سوشل میڈیا دیکھتا رہتا ہے۔ کہنے لگا کہ ساری قوم امریکہ کی غلام بنی ہوئی ہے، پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا اور چوروں نے ملک لوٹ لینا ہے  راقم نے عرض کی اگر ملک کا اتنا ہی خیال ہے تو جناب کو عمران خان کے لانگ مارچ کے لئے نکلنا چاہئے تھا اس پر وہ مزید بضد ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ قوم جوتیوں کے ہی لائق ہے۔ راقم نے پوچھا کہ کیا آپ اپنے آپ کو قوم میں شامل سمجھتے ہیں کیونکہ اگر آپ ایسا سمجھ رہے ہوتے تو اس قدر جل بھن کر باتیں نہ کر رہے ہوتے، تب کہیں جا کر انہیں اپنے تلخ لہجے کا احساس ہوا اور ان کی گفتگو میں شائستگی نے کچھ راہ بنائی۔ 

مزید :

رائے -کالم -