ننھے منے ایٹم بم 

 ننھے منے ایٹم بم 
 ننھے منے ایٹم بم 

  

 میں منصور علی خان کا و ی لاگ دیکھ رہا تھاجس میں وہ وفاقی وزیر احسن اقبال کے ساتھ بھیرہ انٹرچینج پرواقع مکڈونلڈز پرہونے والی طوفان بدتمیزی کی تفصیلات بتا رہے تھے، جس میں ایک فیملی جس میں خاتون خانہ اوربچے احسن اقبال کے ساتھ بدتمیزی کر رہے تھے احسن اقبال کی تربیت ان کی عظیم والدہ آپا نثار فاطمہ نے کی ہے اورانہوں نے انجینرنگ یونیورسٹی اورامریکہ سے اعلی ڈگریاں لے رکھی ہیں، اعلی تربیت، اعلی تعلیم اورتدریس کی جھلک اس واقعہ میں بھی نظر آئی۔ یہی واقعہ اگر پی ٹی آئی کے کسی سیاست دان کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو اس نے بڑھ کر جوابی بدتمیزی کرنا تھی۔ پی ٹی آئی اوردوسری پارٹیوں میں پہلا فرق توتمیز کا ہے آپ عمران خان کی تقریر سن لیں تو کسی تھڑے باز کا گمان ہوتا ہے ان کے اکثر جملے ”اوئے“ سے شروع ہوتے ہیں، دھرنے کے دنوں میں روزانہ کنٹینر پر وہ ایک انتہائی بدتمیزتقریر کیا کرتے تھے جس میں نہ صرف سیاسی مخالفین بلکہ سرکاری افسروں کو بھی اوئے کہہ کر دھمکیاں دیتے تھے، ان دنوں اسلام آباد کے آئی جی طاہر عالم خان تھے عمران خان کنٹینر پر چڑھ کر ”اوئے طاہر عالم خان، میں یہ کردوں گا، وہ کردوں گا“ کی دھمکیاں لگایا کرتے تھے مجھے نہیں پتہ کہ ان کی تربیت کس نے کی ہے لیکن میراحسن ظن ہے کہ تربیت تو اچھی ہی ہوئی ہوگی لیکن غالباًانہوں نے سیکھاکچھ نہیں۔ کرکٹ کے دنوں میں بھی وہ ایک مغرور اوربدتمیزانسان کے طورپر مشہورتھے ایک دفعہ کراچی کے ایک ٹیسٹ میچ میں ایک تماشائی لڑکا ففٹی یا سنچری ہونے پردوڑتاہوا شاباش دینے گراؤنڈ میں آیاتوعمران خان نے اس کی بیٹ سے پٹائی کر دی، اس زمانے کی کرکٹ میں تماشائیوں کا اس طرح گراؤنڈمیں جانا نہ صرف عام تھا بلکہ کرکٹ کے کلچر اور روایات کا حصہ تھا جو کرکٹ کھیلنے والے دنیا کے تمام ممالک میں رائج تھااوربیٹسمین گراؤنڈمیں آنے والے تماشائی سے ہاتھ ملایا کرتے تھے یہ تو بعدمیں جب دہشت گردی عام ہوئی تواس چیزکی اجازت سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے ختم ہوئی۔ 1985 میں جب عمران خان کپتان تھے توایک دفعہ انہوں نے کرکٹ بورڈکے سیکرٹری کرنل رفیع نسیم کو ڈریسنگ روم سے بدتمیزی کرکے نکال دیا اورکہا کہ وہ ان کی اجازت کے بغیر اندرنہیں آسکتے، کرنل رفیع نسیم نے ڈریسنگ روم کے دروازے پرلگی تختی کی طرف اشارہ کیا جس پرلکھا تھا ONLY PLAYERS AND OFFICIALS ALLOWED تو عمران خان نے شرمندہ ہونے کی بجائے انہیں ننگی گالیاں دیناشروع کردیں۔ مجھے عمران خان کی کرکٹ کے دنوں میں ان کی بدتمیزی کے اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات یادہیں لیکن انہیں دہرانے سے خود اپنا دل دکھتا ہے، اس سے زیادہ دل جنرل حمید گل کی نگاہ انتخاب پر دکھتا ہے کہ انہوں نے کرکٹ کے کھلاڑی کے سٹارڈم کو استعمال کرنے کا سوچا لیکن اس کھلاڑی کی شخصیت میں موجود کمزوریوں کو نظر انداز کر دیا۔ 

منصور علی خان نے اپنے و ی لاگ میں بالکل درست تجزیہ کیا ہے کہ 2011 میں جب عمران خان کو لانچ کیا گیا تو اس وقت ان کی سب سے بڑی فین بیس وہ دس بارہ یا پندرہ اٹھارہ سال کے بچے تھے جو اب بیس پچیس یا تیس سال کے ہیں یہ وہ جذباتی نوجوان ہیں جو چلتے پھرتے ننھے منے ایٹم بم ہیں، ان کے دماغوں میں عمران خان نے طوفان بدتمیزی بھر دیا ہے اور یہ چلتے چلتے کہیں بھی پھٹ جاتے ہیں ایسے ہی دوتین بھیرہ انٹر چینج پر مکڈونلڈز میں بھی پھٹے،انہیں دنیا، یا پاکستان کی بھی2011 سے پہلے کے ساٹھ پینسٹھ سال کی تاریخ اور سیاست کا نہیں پتہ انہیں صرف ایک چیز بتائی گئی ہے کہ ہر سیاسی مخالف یعنی جو بھی شخص عمران خان کا حامی نہیں ہے وہ کرپٹ اور غدار ہے۔ یہ گالیوں، الزامات اور دشنام طرازی سے کم کوئی بات نہیں کرتے۔ انہیں تاریخ،جغرافیہ، سیاست، روایات اور پارلیمان وغیرہ کا نہیں پتہ، اس لئے ان کے نزدیک پہلی دفعہ عمران خان وہ پاکستانی وزیراعظم تھے جو سعودی عرب، امارات، چین یا امریکہ گئے یا ان ملکوں سے کسی نے پاکستان کا دورہ کیا۔ یہ عمران خان کو چین اورسعودی عرب سے دوستی کا معمار سمجھتے ہیں اور جب عمران خان وہاں گئے تھے تو انہوں نے خوب طوفان بدتمیزی برپا کیا تھاکہ ایسا پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ ویسے بعض بوڑھے بھی چلتے پھرتے ایٹم بم بن چکے ہیں جس کی ایک مثال پشاور کے وہ عمر رسیدہ ڈاکٹر آفریدی ہیں جو چند ماہ پہلے نور عالم خان کے پاس اسلام آبادکے میریٹ ہوٹل میں اس وقت پھٹے تھے جب وہ ندیم افضل چن اور مصطفی نواز کھوکھر کے ساتھ افطار کر رہے تھے۔ میں عمران خان کی نجی زندگی کی رنگینیوں کا ذکر نہ بھی کروں توبہرحال کرکٹ اورسیاست دونوں public domains ہیں اس بات کو کیسے جھٹلایا جا سکتاہے کہ عمران خان ان چھ کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہوں نے 1976 میں معاوضہ 500 روپے فی ٹیسٹ میچ بڑھانے کا مطالبہ داغاتھااور نہ مانے جانے کی صورت میں آسٹریلیا جانے والی ٹیم میں شامل ہونے سے انکار کردیا تھا، اس کے اگلے سال 1977 میں عمران خان ان پانچ کھلاڑیوں میں شامل تھے جو پیسوں کی خاطر کیری پیکرسرکس میں چلے گئے تھے اورجس کی وجہ سے پاکستانی ٹیم انگلینڈ میں بری طرح سیریز ہار گئی تھی۔ بلیک میلنگ کرکٹ کے دنوں میں بھی عمران خان کا ہتھیار تھی۔ 1981 میں جب پاکستان ٹیم نے آسٹریلیا کی مضبوط ترین ٹیم کو میلبورن کی گراؤنڈ میں اننگ کی شکست دی تھی توبورڈ کو بلیک میل کرنے کے لئے عمران خان نے فاتح کپتان جاویدمیاں داد کے خلاف بغاوت کر دی تھی اور دباؤ میں بورڈ نے جاوید میاں داد کی بجائے عمران خان کو کپتان بنا دیا تھا۔ طیبہ گل کے ہوشرباانکشافات سے ایک نیا پنڈورابکس کھل گیاہے کہ کس طرح عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کو بلیک میلنگ کا اڈابنایا ہواتھا اسی طرح وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے اپنے خلاف 15 کلو ہیروئن کے جعلی مقدمہ کی تفصیل بتائی ہے کہ یہ ہیروئن بنی گالہ سے پہنچائی گئی تھی اور شہزاداکبراسے ایک ماہ تک پاس لئے پھرتے رہے کہ پارلیمنٹ لاج میں وہ رانا ثناء اللہ پرڈالی جاسکے لیکن جب کامیابی نہ ہوئی تو یہ واردات موٹروے ٹول پلازہ پرڈالی گئی۔عمران خان کی کرپشن فرح گوگی اور مانیکا خاندان کے سینکڑوں ارب کے قصے سامنے آنے پر کھلتی جائے گی۔ کرپشن اور بلیک میلنگ ایک طرف،عمران خان کا سب سے گھناؤنا جرم یہ ہے کہ انہوں نے جو لاکھوں ننھے منے ایٹم بم تیار کئے ہیں، آنے والے دنوں میں وہ چلتے پھرتے پھٹتے رہیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -