ہندوستانی مسلمانوں کی انگڑائی 

 ہندوستانی مسلمانوں کی انگڑائی 
 ہندوستانی مسلمانوں کی انگڑائی 

  

 میں افغان جہاد میں خود کبھی شرکت نہیں کر سکا میں اس مبارک عمل میں ضمنا بھی شریک نہیں رہا لیکن زمانہ طالب علمی میں اور عملی زندگی کے شروع میں افغان جہاد کے اتار چڑھاؤ،  مجاہدین کی قیادت سے ملاقاتیں، جہادی افراد کی افغانستان روانگی، اور جہادی تقریبات، ان میں سے بہت کچھ میرے سامنے ہوتا رہا۔ جہادی افراد عالم عرب سے آئے، عجم سے آئے، افریقی ممالک سے لاتعداد مسلمان افغان جہاد میں شریک ہوئے، مغربی دنیا کے ان متعدد ممالک کے مسلمان بھی افغان جہاد میں شریک ہوتے رہے جہاں وہ نہایت معمولی اقلیت میں ہیں لیکن ایک عشرے پر محیط افغان جہاد کے دوران میں میرے علم کبھی نہیں آیا کہ ہندوستان سے کبھی کوئی ایک بھی مسلمان اس عمل میں شریک ہوا ہو مختلف اندازوں کے مطابق ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی 15 سے 22 فیصد ہے، یوں یہ کوئی معمولی اور کمزور اقلیت نہیں، ہر پانچواں ہندوستانی مسلمان ہے۔

اس کے کئی محرکات رہے ہوں گے لیکن باعث تعجب امر یہ ہے کہ ہندوستان کی آئینی حدود کے اندر کشمیری مسلمان تین عشروں تک آزادی کی جنگ لڑتے رہے، چلیے ذرا دیر کے لیے ہندوستانی اہل دانش کی دل جوئی کی خاطر کشمیر کے ہر گھر سے اٹھنے والے جنازوں کو ہم انسانی حقوق کی پامالی میں ڈال دیتے ہیں انسانی حقوق کی اس بے دریغ پامالی پر ارون دھتی رائے جیسے متعدد غیر مسلم دانشور آواز بلند کرتے رہے، پڑوسی سکھ قیادت بھی کشمیری مسلمانوں کے ساتھ رہی اس نے کھل کر ساتھ نہیں دیا تو اس کی خاموش تائید بھی کشمیریوں کے لیے بڑا سہارا رہی، لیکن اس الجھن کا کوئی سرا نہیں مل سکا کہ دنیا بھر سے مسلم کافر،  لادین اور آزاد خیال سب لوگ کشمیری مسلمانوں کے لیے آواز بلند کرتے رہے لیکن تین عشروں میں بے بس اور لاچار کشمیری مسلمانوں کے لئے ہمدردی کے وہ دو بول نہیں سنے تو ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے جنھیں ہم قابل ذکر کہہ سکیں۔

لیکن  1992 میں بابری مسجد کا تنازعہ ہندوستانی سیکولرزم میں وہ پہلی دراڑ تھی جس کے لیے پہلی ضرب خود ہندو اکثریت نے لگائی تھی اور اس دفعہ ہندوستانی مسلمانوں کا ردعمل توقع سے کہیں زیادہ حیرت انگیز رہا سیکولرزم پر لگی اس ضرب سے ہندوستانی معاشرت میں پیدا شدہ دراڑ ہر گزرتے دن کے ساتھ گہری ہوتی چلی گئی، باقی کسر نریندر مودی نے پوری کردی جس نے ہزار سالہ خوبصورت ہندوستانی تہذیب کو اس دوراہے پر پہنچا دیا جس کے ایک طرف تہذیبی انحطاط کی تاریک سرنگ ہے جس میں داخلے کے بعد واپسی کا کوئی راستہ نہیں دوسری طرف رقبے کے لحاظ سے امریکہ، روس، اور چین کے بعد اس چوتھی بڑی سلطنت ہندوستان کا جمہوری مستقبل واضح ہو گیا ہے سلطنتوں کا عہد اب قریب الختم ہے تو کیا ان باقی ماندہ چار سلطنتوں کے انہدام یا تحلیل کی ابتدا ہندوستان سے ہوگی؟ سر دست یقین کے ساتھ کہنا دشوار ہے دوراہے کی طرف بگٹٹ بھاگتے نریندر مودی کے پاس بھی فی الحال جواب اس لئے نہیں ہے کہ وہ خود اس ہندتوائی خواب کی تعبیر کی تلاش میں ہے جس کے احیائی امکانات آج ناممکن ہیں، اب ہم سلطنتوں کی بجائے ممالک یا قومی ریاستوں کے عہد میں رہ رہے ہیں۔

ہندوستانی مسلمان نظری طور پر خود کو یقینا عالمگیر امت مسلمہ کا جزو قرار دیتے رہے لیکن عملاً انہوں نے اپنی منفرد حیثیت کے حصار سے باہر نکلنا کبھی مناسب نہیں سمجھا۔ افغان جہاد اور اپنے کشمیری مسلمان بھائیوں کی بیچارگی پر ان کی خاموشی اس کی مثالیں ہیں۔ لیکن بابری مسجد کے انہدام سے ہندوستانی معاشرت میں پیدا شدہ تفریق خاموشی اور تدریج کے ساتھ دن بدن گہری ہوتی جا رہی ہے۔  

ہندوستان میں، دیگر سیکولر ممالک کی طرح، مسلمانوں کا غیر مسلموں سے شادیاں کرنا اتنا عام نہیں ہے کہ مسلمان فکرمند ہوں لیکن یہ حقیقت ہے کہ قابل ذکر تعداد میں مسلمان مردوزن غیر مسلموں سے شادیاں کرتے رہتے ہیں، سیکولر ممالک میں یہ عام سی بات ہے۔ لیکن گزشتہ ایک ڈیڑھ عشرے سے مسلمان لڑکوں کے ہندو لڑکیوں سے شادی کرنے کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے "لو جہاد" کا نام دے کر معاشرتی تفریق مزید گہری کردی۔ ہم اسے اکثریتی ہندو معاشرت کے اندر اقلیتی اسلام کی شاید پیش قدمی قرار نہ دے سکتے،لیکن اقلیت کے خلاف اکثریت کے اس واویلے کو اور کیا کہا جائے؟

 چند ہفتے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان نوپور شرما کی طرف سے محرم راز خالق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی نے ہندوستان ہی نہیں، پورے عالم اسلام کو ہلا کر رکھ دیا۔ بی جے پی کی طرف سے محض علامتی طور پر اس گستاخ رسول کو عہدے سے تو ہٹا دیا گیا لیکن یہ عورت جو چنگاری بارود میں ڈال چکی تھی، اس سے آگ لگنا شروع ہو گئی ہے، اسی کی شہ پا کر راجستھان کے شہر اودھے پور کا ایک ہندو درزی اس کے نقش قدم پر چل پڑا اس درزی کو گرفتار تو کیا گیا لیکن ہندتوائی نظام عدل نے اسے رہا کردیا، نو پور شرما تو عام محبان رسول کی پہنچ میں نہیں تھی۔ لیکن دو جرات مند محبان رسول نے اس گستاخ رسول درزی کا سر تلوار کی ایک ضرب سے یہ نعرہ لگاتے ہوئے تن سے جدا کر دیا: "گستاخ رسول کی ایک سزا۔ سر تن سے جدا سر تن سے جدا"۔ تلوار لہراتے ہوئے ویڈیو بھی بنائی نتیجہ یہ نکلا کہ شہر میں کرفیو، اور انٹرنیٹ سروس معطل، کشیدگی بڑھتے بڑھتے پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔

ہندوستانی مسلمانوں کے ماضی اور ان کی افتاد طبع پر نظر ڈالی جائے تو ان سے اس جرات مندانہ اقدام کی توقع نہیں کی جا سکتی لیکن بابری مسجد سے سلگائی گئی آگ کی لپٹیں ھندوستانی سیکولرزم اور اس کے آئین کو اپنی لپیٹ میں لینے کے قریب جا پہنچی ہیں۔ لگتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں میں سیکولر آئین اعتماد کھو چکا ہے اودھے پور کے گستاخ رسول کا سر تن سے جدا کیا جانا ظاہر کرتا ہے کہ مسلمان انگڑائی لے کر بیدار ہوچکے ہیں۔ بلاشبہ اس ایک واقعے سے لمبی چوڑی توقعات وابستہ نہیں کی جاسکتیں لیکن یہ واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں ایسے واقعات رکیں گے نہیں، اگر ہندتوائی نظریہ اپنا پھن پھیلائے پورے ہندوستان پر حاوی ہونے کے لیے کوشاں ہے  تو متحارب فریق بھی انگڑائی لے کر بیدار ہوچکا ہے۔ بظاہر یہ عمل رکنے والا نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -