اپنے براہیم کی تلاش میں 

   اپنے براہیم کی تلاش میں 
   اپنے براہیم کی تلاش میں 

  

  اب تک کی زندگی میں گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنے والا جو ایک ہی ادارہ دیکھا وہ ہے مسرت نذیر کی مشہور فلم ’یکے والی‘ میں ماماں جی کی عدالت۔ مسرت نذیر وہی فنکارہ ہیں جنہوں نے مدت ہوئی فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کی اور پھر کئی سال کینیڈا میں خاموشی سے گزار کر ’میرا لونگ گواچا‘ کی لَے پکڑی تو پاکستانی گائیکی کے ٹھہرے ہوئے پانیوں میں ہلچل سی مچ گئی۔ ماماں جی کی موبائل عدالت کے جج اپنے دَور کے مقبول ایکٹر ظریف تھے، جن کے چھوٹے بھائی منور ظریف نے بعد ازاں غیر روایتی مزاحیہ اداکاری کے زور پر ہر دلعزیزی کے اگلے پچھلے ریکارڈ مات کر دیے۔

  ’یکے والی‘ کی عدالت، جو ساری بستی میں گھوم کر اُس کے باسیوں کو ’پورا پورا انصاف ہو گا‘ کا یقین دلاتی، جج کے علاوہ نائب کورٹ، بان کی چارپائی اور ایک چارٹ نما کاغذ پر مشتمل تھی۔ چارٹ پر، جس کی جگہ جگہ نمائش کی جاتی، جلی حروف میں کچھ اصول و ضوابط درج تھے  یہ البتہ واضح نہ ہو سکا کہ مذکورہ ضابطے بنیادی آئینی حقوق پر مبنی ہیں یا مینوئل آف پاکستان ملٹری لا کا خلاصہ۔ عدالتی پروسیجر یہ تھا کہ ماماں جی کسی بھی مقدمے کا نوٹس لیتے ہی چارپائی بچھا کر فی الفور کچہری لگاتے اور نائب کورٹ کو حکم دیتے کہ ”قانون نکالو“۔ بظاہر چارٹ کی مدد سے فیصلہ سُنایا جاتا تو ناظرین قانون سے زیادہ فلمی جج کی لوک دانائی پر رشک کرنے لگتے، جیسے یہ حکم کہ پورے زور سے اپنی اپنی طرف کھینچی جانے والی متنازعہ چادر دونوں میں سے کسی عوررت کی نہیں بلکہ عدالت کی ہے، کیونکہ عدالت پہ آج کل بہت تریل (اوس) پڑ رہی ہے۔ 

 عید الاضحی پر ماماں جی سے رجوع کرنے کی تمنا دوستوں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی نظر میں تیزی سے گرتی ہوئی میری ریٹنگ کا نتیجہ ہے۔ اول اول کرسمس اور نیو ائر کارڈ تعداد میں کم ہونا شروع ہوئے پھر اِس احساس سے حوصلہ مِلا کہ عید بقر عید پر روایتی کارڈ کی جگہ ایس ایم ایس، سوشل میڈیا پیغامات اور ڈیجٹل جی آئی ایف نے لے تو لی ہے، لیکن ہمارے مومنانہ جذبوں کی صداقت کم نہیں ہوئی۔ تو کیا وجہ ہے کہ پچھلے سال قربانی کے گوشت کی مد میں میری مجموعی قومی پیداوار میں حیرت انگیز کمی واقع ہو گئی۔ اخبار کی چیف رپورٹری کے دنوں میں میرے لیے دوستوں کی سخاوت نے چار عدد ران دنبہ فی عید کی سطح کو چھو لیا تھا پھر کم مقبول چینلوں کے ساتھ وابستگی نے یہ سوچنے پرمجبور کر دیا لوگ گوشت کا ایک تہائی اہل خانہ، ایک تہائی عزیز و اقارب اور باقی تیسرا غریب غرباء میں بانٹتے رہیں تو یہی مناسب ہوگا۔ 

  فی الوقت چند روز کے لیے برطانیہ میں ہوتے ہوئے رواں عید ِقربان پر یہ اندازہ لگانا آسان نہیں کہ لاہور شہر کی جس جنٹری میں گزشتہ بیس سال سے پھنسا ہوا ہوں، وہاں میرے متمول ہمسائے مجھے اب مستحقین کی کس کیٹگری میں شمار کرتے ہیں؟ کیا پتا انہوں نے میری توازن ادائیگی کی مشکلات کا اندازہ لگا کر مجھے عزیز و اقارب کی گرے لسٹ میں ڈال دیا ہو؟ یہ بھی ممکن ہے کہ بدلتے ہوئے سماج میں قربانی تقسیم کرنے کے شرعی زمرے بھی تبدیل ہو گئے ہوں۔ آخر شیر اور گیدڑ نے بھی جب شکار مارا تو شیر نے تین حصے کیے اور کہا کہ ایک تو بطور شراکت دار میرا، دوسرا بحیثیت بادشاہ میرا، اور تیسرا اگر ہمت ہے تو اٹھا کر دکھاؤ۔

  قربانی کی نئی زمرہ بندی کااشار ہ یوں کہ عمومی رجحان کے بر عکس ہماری شادمان کالونی میں اجتہاد کے دروازے بند نہیں ہوئے  اسی لیے چند سال پہلے ایک نواحی مسجد میں عید کے دن حضرت ابراہیم کی شان تو تقریر کا موضوع تھی ہی، مگر ساتھ یہ نکتہ بھی کہ ہر اُس شخص پہ قربانی واجب ہے جس کے پاس چھیالیس ہزار روپے زائد از ضرورت ہوں، اِس سے پہلے کہ مسجد میں موجود غریبی دعوے والے مسلمان کسی شبہے میں پڑتے، منبر سے سونے چاندی کی مثال دے کر واضح کیا گیا کہ اگر آپ کے پاس پنتالیس ہزار نو سو روپے کے زیورات ہیں تو ایک سو روپیہ نقد جیب سے ڈالیں اور قربانی کر دیں۔ بات شماریاتی طور پہ تو سمجھ میں آ گئی، مگر سنتِ ابراہیمی چونکہ ایک کیفیتی معاملہ بھی ہے، اس لیے یہ سمجھ میں نہ آیا کہ ”قربانی واجب ہو جاتی ہے“ کہتے ہوئے مولوی صاحب کو گئیر کیوں لگانا پڑا تھا۔

  اصلاحِ معاشرہ کے اُن حامیوں کے نزدیک جن کا نعرہ ہے کہ ’قربانی اللہ کے لیے اور کھال شوکت خانم کے لیے‘ گلی کوچوں میں دنبوں، بکروں اور بیلوں کی باقیات کے غیر جمالیاتی مناظر تشویش کا باعث ہوا کرتے ہیں۔ مَیں بھی اللہ میاں کو جمال اور یحب الجمال سمجھتا ہوں۔ مگر کیا کہوں کہ وطنِ عزیز میں مجھ جیسے سبزی خور کا عیدِ قربان کی ’شو شاء‘ سے گریز کِن تاریخی وجوہات کا نتیجہ ہے؟ ایک امکانی سبب تو تقسیم سے پہلے سیالکوٹ کے آبائی علاقے میں غیر مسلم زمینداروں کا غلبہ ہو گا، دوسرے مالی پسماندگی کا وہ تحفہ جو برسوں پہلے گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن سے حج پہ جاتے ہوئے پرنانا نے میرا نام لے کر ٹرین کے ڈبے سے پرانی دونی کی صورت میں اچھال دیا تھا۔ کچھ تو ہے کہ پانچ ستاروں والے عمرے، پلاؤ کی دیگ بانٹنے کی رعونت اور دنبوں کو بیوٹی پارلر لے جانے کا عمل میری سمجھ میں نہیں آتے۔

  اخبار کے ایڈیٹر کی طرح مَیں اور میرا دنبہ مراسلہ نگاروں کی اِس رائے سے متفق ہیں کہ جانور ذبح کر دینے سے ایک سنت پوری تو ہوگئی۔ مگر یہیں سے ایک اور تگ و دو کا آغاز بھی ہوتا ہے جسے ’صنم کدہ ہے جہاں‘ والے قومی ڈاکٹر نے ’اپنے براہیم کی تلاش‘ کا نام دیا تھا۔ پتا نہیں دنبے قربان کرتے ہوئے ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارے وہ جلیل القدر پیغمبر جن کے لیے نارِ نمرود گلزار میں بدل گئی، رہتی دنیا تک کے لیے ایک بہت بڑے بت شکن بھی تھے۔ تو کیا ہمارے لیے عید کی قربانی سے فارغ ہوتے ہی ’مال و دولت دنیا‘ کے ’بتان وہم و گماں‘ کو مٹی میں ملا دینا ضروری نہیں ہو جاتا؟ یہی بات اپنے آپ سے پوچھی تو ’رشتہ و پیوند‘ کی ترکیب کا پنجابی ترجمہ سوجھا مفادات کی ’گنڈھ تروپ‘۔

  اِس بے ساختہ ترجمے نے اُن ابتدائی سوالوں کا جواب فراہم کردیا ہے جو مَیں نے اپنی سماجی حیثیت، قربانی کے محرکات اور مستحقین کے زمروں کے ضمن میں اُٹھائے تھے۔ دوسروں کے بارے میں کیا کہوں، دو سال پہلے عیدِ قربان پہ خود احتسابی کو سنتِ ابراہیمی جان کر اپنے باطن میں جھانکا تو ذات کے آنگن میں ظاہری مفاد پرستیوں کا بت خانہ ہی نہیں، ناگفتنی خواہشوں کا ایک چڑیا گھر بھی آباد تھا چڑیا گھر کے اکثر جانور بھی وہ نکلے جن کی قربانی جائز نہیں اور ایسے درندے بھی جن پہ وار کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ تذبذب کے اِس عالم میں فیض صاحب سے مشورہ کرتے تو ارشاد ہوتا کہ ہاں بھئی، کچھ کرتے ہیں۔ یہی جواب اپنے اُس نوجوان دوست کے لیے دہراؤں گا جنہوں نے میرے چڑیا گھر کی دریافت کے اگلے دن یہ شعر بھیج کر نئے دَور میں ’اپنے براہیم کی تلاش‘ کا مطلب سمھا دیا تھا: 

اُس پہ بھی تیغ آزمائے کوئی

 وہ جو اک جانور ہے اندر کا

مزید :

رائے -کالم -