وہ ”ایک شخص“

  وہ ”ایک شخص“
  وہ ”ایک شخص“

  

”آپ بنگلہ دیش کو دیکھ لیں یہ کہاں تھا اور آج کہاں پہنچ گیا، انڈیا نو ّے کی دہائی میں کہاں تھا اور یہ آج کہاں آ گیا جبکہ ہم کہاں تھے اور کہاں پہنچ گئے ہیں لیکن ہمیں شرم بھی نہیں آتی“۔میں نے پوچھا، ”ملک کو ٹریک پر واپس کیسے لایا جا سکتا ہے؟“ عمران خان نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا، ”صرف ایک چیز ہے، اگر ساری ناکامیاں اور بدنامیاں وزیراعظم کی جھولی میں آ رہی ہیں تو پھر اختیار بھی اُس کے پاس ہونا چاہیے۔ہم جب تک وزیراعظم کو بے اختیار رکھیں گے،اُسے بدنامیاں جمع کرانے پر لگائیں رکھیں گے،اُس وقت تک یہ ملک نہیں چل سکے گا“۔میں نے پوچھا،آپ اِس صورتِ حال کا ذمہ دار کس کو سمجھتے ہیں؟ عمران خان نے پورے جوش سے جواب دیا،”صرف ایک شخص کو“۔۔۔ اور ہماری میٹنگ ختم ہو گئی۔

پاکستان کے انتہائی ممتاز اور منفرد کالم نگار جاوید چودھری نے اپنے ایک حالیہ کالم میں سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اپنی تازہ ملاقات کا حال لکھا ہے، جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ ان کی یہ ملاقات آٹھ سال کے بعد ہو رہی تھی،2014ء میں عمران،قادری دھرنے کے بعد سے ان کے درمیان رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ عرصہئ اقتدار کے دوران دونوں کے درمیان کوئی مکالمہ ممکن نہیں ہو سکا،ایسا کیوں ہوا،اس کی تفصیل فاضل کالم نگار ہی کی زبانی سن لیجیے: ”میری عمران خان سے آخری ملاقات 2014ء میں ہوئی تھی، میں ان کے ساتھ بنوں گیا تھا، ریحام خان بھی ہمارے ساتھ تھی، یہ اُس وقت تک صرف اینکر تھی، مسز خان نہیں بنی تھی، عمران خان 2013ء میں اگلے وزیراعظم کی حیثیت سے لانچ ہو چکے تھے۔ پرو فائلنگ کے عمل سے گزر رہے تھے اور میرا یہ تیس سال کا تجربہ ہے کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں کے دوست مختلف ہوتے ہیں، آپ جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں اور سڑکیں آپ کا مقدر ہوتی ہیں تو آپ کو باغی، نیوٹرل، سیلف لیس،بے خوف مگر جذباتی اور بے وقوف لوگ درکار ہوتے ہیں لیکن آپ جوں ہی اقتدار میں پہنچتے ہیں تو دیگر ترجیحات کے ساتھ ساتھ آپ کے دوست بھی بدل جاتے ہیں۔آپ کو پھر واہ واہ، سبحان اللہ اور کیا بات ہے جناب جیسے لوگ چاہیے ہوتے ہیں اور یہ دوسری قسم کے لوگ کمال کاری گر ہوتے ہیں، یہ اقتدار کے کوریڈورز میں پہنچ کر سب سے پہلے وزیراعظم اور وزراء کے گرد خندق کھودتے ہیں اور بے وقوف جذباتی لوگوں کو خندق کی دوسری طرف دھکیل دیتے ہیں اور بے وقوف جذباتی دوسری طرف کھڑے ہو کر تھوڑی دیر حیرت سے محل کو دیکھتے ہیں۔ قہقہہ لگاتے ہیں اور پھر اپنے اپنے گھر روانہ ہو جاتے ہیں  اور یوں چند دِنوں میں پورے صدارتی محل پر کاری گروں کا قبضہ ہوتا ہے اور یہ لوگ اُس وقت تک وزیراعظم، صدر یا آرمی چیف کے کان، ناک، آنکھیں اور محسوس اور چکھنے کی حس بنے رہتے ہیں جب تک اقتدار کا میلا پوری طرح لٹ نہیں جاتا، 2014ء میں بھی یہی ہوا۔کاریگروں نے خان کا محاصرہ کیا اوربے وقوف جذباتی لوگوں کو خندق کی دوسری طرف دھکیل دیا۔ بہرحال ماضی لاش ہوتی ہے اور ہم جب تک اسے دفن نہیں کرتے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے، اور اس لاش کو 4 جولائی کو عمران خان نے بھی دفن کر دیا اور میں نے بھی، فواد چوہدری نے میری عمران خان کے ساتھ ملاقات طے کی، میں آٹھ سال بعد بنی گالا گیا اور مجھے ایک گھنٹہ عمران خان کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا“۔

عمران خان سے میرا رابطہ بھی2014ء کے بعد اگر یکسر منقطع نہیں ہوا تو بحال بھی نہیں رہا۔وہ وزیراعظم بن گئے تو ان سے چند ملاقاتیں ہوئیں،ان سے ملنے والے کئی وفود کا میں حصہ رہا،ان کی تقریب ِ حلف برداری میں بھی شرکت کی لیکن ”خصوصی ملاقات“ ایک ہی ہوئی جس کی نگرانی برادرم کامران شاہد کر رہے تھے۔ان سے جو عرض کیا جاتا رہا، اس کے کئی عینی شاہد موجود ہیں لیکن اب یہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے یا یہ سمجھئے کہ اسے ”لاش“ سمجھ کر دفنایا جا چکا ہے۔عمران خان نے وزیراعظم کی کسمپرسی کا جو نقشہ کھینچا ہے اگر ان کا نام نکال کر ان کی جگہ نواز شریف یا بے نظیر بھٹو لکھ دیا جائے تو بھی ان سے منسوب کسی لفظ کو بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔یوسف رضا گیلانی سے بات کیجیے تو وہ بھی یہی کہیں گے،ہر وزیراعظم اقتدار کے خاتمے کے بعد اُس ”ایک شخص“ کی نشاندہی کرتا ہے جس نے اسے چین سے کام نہیں کرنے دیا۔ وہ اپنی ناکامیوں کا بوجھ اُس پر ڈالتا ہے اور اسے تمام مسائل کی جڑ قرار دیتا ہے۔عمران خان آج کل اپنی حکومت کی کارکردگی کا جن الفاظ میں ذکر کر رہے ہیں اور جو جو سوالات اٹھا رہے ہیں، برادر عزیز کامران خان نے  چند روز پہلے اپنے ٹی وی شو میں نواز شریف صاحب کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد کی چند تقریروں کے ٹکڑے جمع کر کے سنائے تھے  تو دونوں سابق وزرائے اعظم میں تمیز کرنا مشکل ہو رہا تھا۔اگر چہرے پر پرڈہ ڈال دیا جاتا تو پہچاننا مشکل ہو جاتا کہ کہنے والا کون ہے؟

وہ ایک شخص جو وزرائے اعظم کو مسلسل تنگ کرتا چلا آ رہا ہے،اُس کی تلاش اقتدار کے خاتمے کے بعد شروع کی جاتی ہے،اگر اقتدار کے دوران یہ مہم شروع کر دی جائے تو شاید نہیں یقینا نتیجہ مختلف برآمد ہو گا۔خان صاحب اگر برا نہ منائیں تو ان کی خدمت میں عرض کیا جائے کہ انہوں نے اپنے حریفانِ سیاست کو ”ذاتی دشمن“ بنا لیااور ان کا قلع قمع کرنے کے لیے ویسے ہی سر دھڑ کی بازی لگائے رکھی، جیسی ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن نے ایک دوسرے کے خلاف لگائی تھی، محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے بھی اپنے اپنے انداز میں اسی رویے کو اپنایا تھا،ایک دوسرے کی حکومتیں گرا کر اظہارِ مسرت کرتے رہے تھے۔ یوسف رضا گیلانی اور ان کے مخالفین بھی اسی رنگ میں رنگے رہے،گیلانی کے خلاف ”چودھری کورٹ“ کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور قانون کی بالادستی کا ڈھونڈورا پیٹنے والوں نے قانون ہی کو پیٹ ڈالا۔ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو تو اقتدار سے محرومی کے بعد ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے کی توفیق ہو گئی، آئندہ کے لیے ”توبہ،تلّا“ بھی کر لی گئی،”میثاق جمہوریت“ پر دستخط بھی ہو گئے لیکن معاملہ دونوں کے ہاتھ سے نکل کر عمران خان کے پاس پہنچ چکا تھا، وہ تیسرے فریق کے طور پر ابھر آئے تھے،انہوں نے جیسے تیسے اقتدار حاصل کیا تو اپنے سیاسی مخالفین کو سب سے بڑا خطرہ سمجھااور انہیں دیوار کے ساتھ لگانے کو منزل قرار دے لیا۔ نتیجتاً انہوں نے اِن کے ساتھ وہ کر دکھایا جو وہ اُن کے ساتھ کرنا چاہ رہے تھے۔ خان صاحب کے حلیفوں کو ساتھ ملا کر انہیں پٹخنی دے دی۔”وہ ایک شخص“ جو وزیراعظم کے ہاتھ باندھ لیتا ہے،اسے وہ کچھ کرنے نہیں دیتا، جو وہ کرنا چاہتا ہے۔ ”وہ ایک شخص“ ہر وزیراعظم کے اندر موجود ہوتا ہے،اسے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، نتیجتاً وہی ہوتا ہے جو عمران خان کے ساتھ ہو چکا ہے۔ خان صاحب ”وہ ایک شخص“ وہی ہے جو آپ کو آئینے میں نظر آتا ہے،وہ ایک شخص اگر حریفانِ سیاست کو ”غدار“ اور ”ملک دشمن“ قرار دینے کے بجائے اُن کے ساتھ مل کر آئین کی پاسداری یقینی بنائے تو کسی اور شخص کو تجاوز کی جسارت نہیں ہو گی۔ہر ادارے میں بیٹھا ہوا ہر شخص اپنی اوقات میں رہے گا۔

(یہ کالم روزنامہ ”پاکستان“ اور  روزنامہ ”دُنیا“ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید :

رائے -کالم -