ایم کیو ایم کے سابق رہنما کی واپسی

ایم کیو ایم کے سابق رہنما کی واپسی

  

سابق وفاقی وزیر برائے بحری امور بابر غوری خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے پاکستان پہنچ گئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی ایئرپورٹ پر انہیں گرفتار کرلیا، ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت نے اس پر خاموشی اختیار کررکھی ہے، ایم کیو ایم کے کئی سابق رہنماؤں نے غیرملکی شہریت بھی لے رکھی ہے۔ مذکورہ سابق وفاقی وزیر نے کئی سال پہلے اپنی فیملی کو بیرون ملک شفٹ کردیا تھا۔بابر غوری کے دور وزارت میں مبینہ طور پر غائب شدہ کنٹینرز کا ذکر بھی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں زبان زد عام رہا ہے،چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کہ سابق وفاقی وزیر نیب قوانین کا ترمیمی بل پاس ہونے کے بعد آئے ہیں، اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان کی آمد کسی ڈیل کا نتیجہ ہو،پاکستانی کی سیاسی تاریخ میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں۔سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں جلاوطنی ختم کرکے آ ئے تھے، ان پر بھی کئی مقدمات  تھے، لیکن 14برس تک صوبہ سندھ کے گورنر کی حیثیت سے  خدمات انجام دیتے رہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے کسی رہنما کی بابر غوری سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن ان کی آمد انتہائی اہم وقت میں ہوئی ہے۔ گو کہ ایم کیو ایم، تحریک انصاف کی بھی اتحادی تھی لیکن   وہ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں وطن واپس نہیں آئے تھے۔ بابر غوری ہی وہ شخص ہیں جنہو ں نے عمران خان کے خلاف ان کی مبینہ بیٹی کے حوالے سے میڈیا مہم چلائی تھی اور ایک ٹی وی شو میں عمران خان کی موجودگی میں  یہ موضوع اٹھایا تھا۔۔

بابر غوری کی زندگی کا سفر ہر خاص و عام کے لیے حیرت کا باعث بھی ہے کہ جنہوں نے ایک معمولی ملازمت سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور ترقی کرتے کرتے وہ بانی ایم کیو ایم کے دست راست بن گئے، دیکھنا یہ ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے، یا وہ دوسروں کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟

مزید :

رائے -اداریہ -