سپر ٹیکس کا حکومتی فیصلہ ملکی مفاد میں ہے، ٹیکس ایڈوائزرز ایسوسی ایشن

 سپر ٹیکس کا حکومتی فیصلہ ملکی مفاد میں ہے، ٹیکس ایڈوائزرز ایسوسی ایشن

  

لاہور(این این آئی)پاکستان ٹیکس ایڈوائزر زایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ سپر ٹیکس کا حکومتی فیصلہ ملکی مفاد میں ہے،پراپرٹی پر نیا ٹیکس ختم کرکے ویلتھ ٹیکس کا قانون بحال کیا جائے لیکن اس کا طلاق 10 کروڑ سے زائد اثاثہ جات پر ہونا چاہیے،فنانس بل میں تبدیلی سے متعلق اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالغفار،جنرل سیکرٹری خواجہ ریاض حسین،امانت بشیر،ایس اے جعفری،میاں شہر یار،منظور احمد میاں،جاویداقبال قاضی،اجمل خان اور دیگر عہدیداروں نے بیان میں کہا کہ ایف بی آر نے 2018 کے بجٹ میں زرعی انکم پر بہترین ٹیکس ریٹس متعارف کروائے تھے،اگر ان کا اطلاق ہوجاتا تو آج ٹیکس محصولات کا ہدف 10 ہزار ارب کی حد کو عبور کر جاتا، اب بھی اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے  کہاکہ زیادہ ٹیکسز اور زیادہ شرح کرپشن کا باعث بن رہے ہیں۔حکومت کو تجویز ہے کہ کچھ علاقوں میں ٹیکسز کی تعداد اور شرح کم کرنے کی پالیسی کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر نافذ کر کے نتائج دیکھیں جائیں۔۔اگر ہمارے دعوے کے مطابق اس کے نتائج برآمد نہ ہوں کو بیشک یہی شرح بر قرار رکھی جائے لیکن دعوے سے کہتے ہیں کہ یہ پائلٹ پراجیکٹ کامیاب ہوگا اور حکومت اسے پورے ملک میں نافذ کرنے پرمجبور ہو جائے گی۔

مزید :

کامرس -