طوفانی بارشوں سے تباہی،کراچی ڈوب گیا،بلوچستان میں ڈیم ٹوٹ گیا،انٹرنیٹ،موبائل اور اے ٹی ایم سروسز بندمختلف حادثات میں 14افراد جاں بحق، 20سے زائد زخمی

طوفانی بارشوں سے تباہی،کراچی ڈوب گیا،بلوچستان میں ڈیم ٹوٹ ...

  

     اسلام آباد،لاہور، کراچی، کوئٹہ،پشاور (سٹاف رپورٹرز، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) لاہور، اسلام آباد اور کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں جاری بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے،بلوچستان اور سندھ میں جولائی میں ہونیوالی بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا،خیبر پختونخوا، بلوچستان، راولپنڈی، ملتان، لاہور اور کراچی میں مون سو ن بارشوں نے تباہی مچادی، مختلف حادثات اور چھتیں گرنے کے واقعات میں 14افراد جاں بحق،20 سے زائد زخمی ہوگئے۔ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارشوں کاسلسلہ و قفے وقفے سے جاری ہے جس سے برساتی نالے بپھر گئے جبکہ صوبے میں مواصلاتی نظام کو بھی نقصان پہنچا ہے،اب تک صوبہ میں بارشوں سے اموات کی تعدا 57ہوگئی ہے، بلو چستا ن کے ضلع قلات، خضدار، آوران، تربت، قلعہ سیف اللہ، لسبیلہ،کوڑک ٹاپ، چمن اور کوہلو سمیت کئی علاقوں میں طوفانی بارشیں ہوئیں جبکہ لورالائی کے نواح میں قائم ڈیم ٹوٹ گیا، جبکہ محکمہ موسمیات نے عید کے دنوں میں بھی بادل برسنے کی پیش گوئی کی ہے، بارشوں کا نیا سلسلہ آج پاکستان میں داخل ہوگا، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے اکثر علاقوں میں جل تھل ایک ہونے کا امکان ہے۔ کراچی میں موسلا دھار بارش سے نظام زندگی درہم برہم ہوگیا جس کے بعد نکاسی آب کیلئے پاک فوج میدان میں آگئی، جبکہ مزید 8شہریوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔کراچی کے تین مقامات پر پاک فوج کے جوان نکاسی آب میں مصروف ہیں، ایک ٹیم پاکستان چوک، دوسری سندھ اسمبلی تیسری سپریم کورٹ کے باہر موجود ہے۔جدید مشینری کے ذریعے پانی کی نکاسی کی جا رہی ہے۔ بارش نے تیسرے دن بھی شہر قائد کو ڈبو دیا، ضلع وسطی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔عیسیٰ نگری، عائشہ منزل اور شاہراہ پاکستان سمیت کئی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، گڈاپ کاٹھور کے اطراف سیلابی ریلے سے سڑک کا بڑا حصہ بہہ گیا، ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ادھر اسلام آباد اور گردونواح میں بھی تیزہواؤں کیساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، سیکٹر ایچ 13 تالاب کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔بارش کا پانی عمارتوں کی بیسمنٹ میں بھی داخل ہو گیا، راولپنڈی کے نالہ لئی میں پانی کی سطح 10 فٹ تک بلند ہو گئی جس کے باعث انتظامیہ ہائی الرٹ ہے۔دوسری جانب صوابی میں طوفانی بارشوں سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، سکندری میں مکان کی چھت گر نے سے ماں اور بیٹی جاں بحق جبکہ 3 افراد زخمی ہو گئے ہیں جن کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان کے ضلع چمن میں سیلابی ریلوں سے فائبر آپٹک کو نقصان پہنچا اور بینکوں کا سرور ڈاؤن ہوگیا جس سے اے ٹی ایم سروسز بند ہوگئیں جبکہ کئی علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بھی معطل ہو گئیں۔لسبیلہ کے شہربیلہ میں بارشوں کے باعث بڑا باغ بند میں شگاف پڑگیا جس سے شہرکا اسماعیلانی گوٹھ سے رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ کپاس کی فصلوں کو بھی نقصان ہوا۔لسبیلہ کے علا قے سالاری میں پھنسے37 افراد کو محفوظ مقامات پرمنتقل کردیا گیا اور کوڑک ٹاپ پرکوئٹہ چمن شاہراہ آمدورفت کیلئے بحال کردی گئی۔ادھر ہوشاب میں ایف سی نے برساتی نالے میں پھنسے 4 افراد کو بچالیا،دوسری جانب نیلم آزاد کشمیر، بھمبر، باغ، سوات اور مینگورہ سمیت کئی شہروں میں بھی بارشیں ہوئیں۔ادھر پی ڈی ایم اے نے شدید بارشوں کے پیش نظر مری میں لینڈسلا ئیڈنگ اور پنجاب کے مختلف شہروں کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق آج سے مون سون ہوائیں شدت کیساتھ ملک میں داخل ہو رہی ہیں جس کے باعث آج سے 12 جولائی کے دوران پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان ہے جس کے تحت راولپنڈی، گو جرانوالہ،سرگودھا،ساہیوال،فیصل آباد اور لاہور ڈویژن میں بھی بارش متوقع ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق آج اور کل بارش سے اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور کے نشیبی علاقے زیر آب آنے،جبکہ موسلادھار بارش کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی اور گوجرانوالہ ڈویژن کے ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خدشہ ہے۔ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں سے مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے لہٰذا مسافر اور سیاح محتاط رہیں، دریاؤں اور نہروں میں نہانے، نشیبی علاقوں میں گاڑیاں کھڑی کرنے سے گریز کریں۔کراچی کے علاقے کورنگی مہران ٹاؤن میں کرنٹ لگنے سے ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا، جس کی شناخت 25 سالہ عبدالخالق ولد عبدالماجد کے نام سے ہوئی ہے۔دوسری جانب بدین میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 افراد جاں بحق ہو گئے۔ راولپنڈی میں جھنگی سیداں کے علاقے میں بارش سے بوسیدہ کمرے کی چھت گرگئی، جس کے ملبے تلے دب کر ایک شخص جاں بحق ہوگیا جبکہ دوسرے کو بچالیا گیا۔شجاع آباد میں فوجی گراؤنڈ کے قریب گھر کی بوسیدہ دیوار گرگئی جس کے ملبے تلے دب کر خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد شدید زخمی ہوگئے۔ لاہور میں بھاٹی گیٹ میں شیش محل گھاٹی کے قریب کمرے کی چھت گرگئی، جس سے دو افراد ملبے تلے دب گئے، جنہیں فوری امدادی کارروائی کرکے زندہ نکال کر طبی امداد کیلئے میو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔زخمی ہونیوالوں میں ایک مرد اور خاتون شامل ہیں، جن کی شناخت 64 سالہ غزالہ اور 30 سالہ عمر کے نام سے ہوئی ہے۔پاک بحریہ کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ بلوچستان کے دور دراز ساحلی علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے جہاں متاثرہ علاقوں میں راشن اور دیگر ضروریات زندگی فراہم کرنے سمیت میڈیکل کیمپ لگاکر لوگوں کو علاج اور ادویات کی سہولتیں فراہم کی جا ر ہی ہیں۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق پاک بحریہ مشکل کی اس گھڑی میں ساحلی علاقوں کے عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ بلوچستان اور سندھ میں جولائی میں ہونیوالی بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیاہے،انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کالم وار بارشوں کا تقابل پیش کیا ہے، پہلے کالم میں بتایا گیا ہے کہ مختلف جگہوں پر یکم تا 9 جولائی زیادہ سے زیادہ بارش کتنی ہوئی جبکہ دوسرے کالم میں اسی مدت میں 2022ء کے دوران ہونیوالی بارشیں ملی میٹر میں بتائی گئی ہیں۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے چارٹ کے مطابق بلوچستان میں یکم تا 9 جولائی زیادہ سے زیادہ بارش کا اوسط ریکارڈ 6.9 ملی میٹر ہے تاہم اس سال اسی مدت میں بلوچستان میں اوسطً 45.9 ملی میٹر بارش ہوئی جو کہ 39 ملی میٹر زیادہ ہے۔اسی طرح سندھ میں یکم تا 9 جولائی میں زیادہ سے زیادہ بارش کا ریکارڈ اوسط 10.5 ملی میٹر ہے تاہم اس سال سندھ میں اسی مدت میں اوسطً 72.1 میٹر بارش ہوئی جو کہ 61.6 ملی میٹر زائد ہے۔چار ٹ میں اسی مدت میں دیگر صوبوں کا بھی تقابل پیش کیا گیا ہے۔

بارشیں 

مزید :

صفحہ اول -