سُنت ابراہیمی کس پر اور کیوں فرض ہے؟

سُنت ابراہیمی کس پر اور کیوں فرض ہے؟

  

اَبلق گھوڑے کا سوار

امیر اہلسنّت محمدالیاس عطار قادری 

حضرت سیدنا احمد بن اسحاق علیہ رحمۃ اللہ الرزاق فرماتے ہیں: میرا بھائی باوجودِ غربت رضائے الٰہی کی نیت سے ہر سال بقرہ عید میں قربانی کیا کرتا تھا، اسکے انتقال کے بعد میں نے ایک خواب دیکھا کہ قیامت برپا ہو گئی ہے اور لوگ اپنی اپنی قبروں سے نکل آئے ہیں، یکایک میرا مرحوم بھائی ایک ابلق (یعنی دو رنگے جتکبرے) گھوڑے پر سوار نظر آیا، اس کیساتھ اور بھی بہت سارے گھوڑے تھے، میں نے پوچھا:اے میرے بھائی، اللہ تعالیٰ نے آپ کیساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ کہنے لگا: اللہ عزوجل نے مجھے بخش دیا۔ پوچھا، کس عمل کے سبب؟ کہا: ایک دن کسی غریب بڑھیا کو بہ نیت ثواب میں نے ایک درہم دیا تھا وہی کام آ گیا۔ پوچھا: یہ گھوڑے کیسے ہیں؟ بولا: یہ سب میری بقرہ عید کی قربانیاں ہیں اور جس پر میں سوار ہوں یہ میری سب سے پہلی قربانی ہے۔ میں نے پوچھا: اب کہاں کا عزم ہے؟ کہا: جنت کا۔ یہ کہہ کر میری نظر سے اوجھل ہو گیا۔ (دُرَّۃُ الناصحین ص 290) 

جو لوگ قربانی کی استطاعت (یعنی طاقت)  رکھنے کے باوجود اپنی واجب قربانی ادا نہیں کرتے، ان کیلئے لمحہ فکریہ ہے، اوّل یہی خسارہ کیا کم تھا کہ قربانی نہ کرنے سے اتنے بڑے ثواب سے محروم رہ گئے مزید یہ کہ وہ گنہگار اور جہنم کے حقدار بھی ہیں۔ فتاویٰ امجدیہ جلد3 صفحہ 315 پر ہے: ”اگر کسی پر قربانی واجب ہے اور اُس وقت اسکے پاس روپے نہیں ہیں تو قرض لیکر یا کوئی چیز فروخت کر کے قربانی کرے“۔

سرکار نامدار، مدینے کے تاجدار جناب رسول اللہؐ کا فرمانِ عالیشان ہے: ”انسان بقرہ عید کے دن کوئی ایسی نیکی نہیں کرتا جو اللہ عزوجل کو خون بہانے سے زیادہ پیاری ہو، یہ قربانی قیامت میں اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کیساتھ آئیگی اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے لہٰذا خوشدلی سے قربانی کرو“۔ (ترمذی، ج3، ص162، حدیث 1498) 

حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قربانی، اپنے کرنیوالے کی نیکیوں کے پلڑے میں رکھی جائیگی جس سے نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گا۔ حضرت سیدنا علامہ علی قاری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں: پھر اس کیلئے سواری بنے گی جسکے ذریعے یہ شخص باآسانی پل صراط سے گزرے گا اور اُس (جانور) کا ہر عضو مالک (یعنی قربانی کرنے والے) کے ہر عضو (کیلئے جہنم سے آزادی) کا فدیہ بنے گا۔ 

مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمدیار خان علیہ رحمۃ الحنان ایک حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ”جو امیر وجوباً یا فقیر نفلاً قربانی کا ارادہ کرے وہ ذوالحجۃ الحرام کا چاند دیکھنے سے قربانی کرنے تک ناخن، بال اور (اپنے بدن کی) مردار کھال وغیرہ نہ کاٹے نہ کٹوائے تاکہ حاجیوں سے قدرے مشابہت ہو جائے کہ وہ لوگ احرام میں حجامت نہیں کرا سکتے اور تاکہ قربانی ہر بال، ناخن (کیلئے جہنم سے آزادی) کا فدیہ بن جائے۔ یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں (یعنی واجب نہیں، مستحب ہے اور حتی الامکان مستحب پر بھی عمل کرنا چاہئے البتہ کسی نے بال یا ناخن کاٹ لئے تو گناہ بھی نہیں اور ایسا کرنے سے قربانی میں خلل بھی نہیں آتا، قربانی درست ہو جاتی ہے) لہٰذا قربانی والے کا حجامت نہ کرانا بہتر ہے لازم نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اچھوں کی مشابہت (یعنی نقل) بھی اچھی ہے“۔ مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں: ”بلکہ جو قربانی نہ کر سکے وہ بھی اس عشرہ میں حجامت نہ کرائے، بقرہ عید کے دن بعدنمازِ عید حجامت کرائے تو ان شاء اللہ (قربانی کا) ثواب پائیگا۔ 

یاد رہے! چالیس دن کے اندر اندر ناخن تراشنا، بغلوں اور ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا ضروری ہے، 40 دن سے زیادہ تاخیر گناہ ہے چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مجدد دین و ملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان  فرماتے ہیں: یہ (یعنی ذوالحجہ کے ابتدائی دن میں ناخن وغیرہ نہ کاٹنے کا) حکم صرف استحبابی ہے، کرے تو بہتر ہے نہ کرے تو مضائقہ نہیں، نہ اس کو حکم عدولی (یعنی نافرمانی) کہہ سکتے ہیں، نہ قربانی میں نقص (یعنی خامی) آنے کی کوئی وجہ، بلکہ اگر کسی شخص نے 31 دن سے کسی عذر کے سبب خواہ بلاعذر ناخن نہ تراش ہوں کہ چاند ذی الحجہ کا ہو گیا تو وہ اگرچہ قربانی کا ارادہ رکھتا ہو اس مستحب پر عمل نہیں کر سکتا کہ اب دسویں تک رکھے گا تو ناخن تراشوائے ہوئے 41واں دن ہو جائیگا اور چالیس دن سے زیادہ نہ بنوانا گناہ ہے، فعل مستحب کیلئے گناہ نہیں کر سکتا۔ (ملخص ازفتاویٰ رضویہ ج20، ص 353۔354) 

ہر بالغ، مقیم، مسلمان مرد و عورت، مالک نصاب پر قربانی واجب ہے۔ مالک نصاب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اُس شخص کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یا اتنی مالیت کی رقم یا اتنی مالیت کا تجارت کا مال یا اتنی مالیت کا حاجت اصلیہ کے علاوہ سامان ہو اور اُس پر اللہ عزوجل یا بندوں کا اتنا قرضہ نہ ہو جسے ادا کر کے ذِکر کر دہ نصاب باقی نہ رہے۔ فقہائے کرام رحمہم اللہ السلام فرماتے ہیں: حاجت اصلیہ (یعنی ضروریاتِ زندگی) سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کی عموماً انسان کو ضرورت ہوتی ہے اور اُن کے بغیر گزراوقات میں شدید تنگی و دُشواری محسوس ہوتی ہے جیسے رہنے کا گھر، پہننے کے کپڑے، سواری، علم دین سے متعلق کتابیں اور پیشے سے متعلق اوزار وغیرہ۔(الہدایۃ ج1، ص 96) 

مزید :

ایڈیشن 1 -