عیدالاضحی۔۔۔۔سنت ابراہیمی

عیدالاضحی۔۔۔۔سنت ابراہیمی

  

برائے اشاعت عیدالاضحی خصوصی ایڈیشن

 تحریر:مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور

حضرت زید بن ارقم  ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ!یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان قربانیوں کے بدلے میں ہمیں کیا ملے گا؟ فرمایا ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔ عرض کیا اوراون (جن جانوروں میں بال کے بجائے اون ہوتی ہے۔ ان سے ثواب کس طرح ہوگا) آپ نے فرمایا  اون کے بھی ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔“ (ابن ماجہ)

 حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا دنبہ لانے کا حکم فرمایا جس کے سر پر سینگ ہوں،وہ سیاہی میں چلتا ہو(یعنی اس کے پاؤں سیاہ ہوں) اور سیاہی میں بیٹھتا ہو۔(یعنی پیٹ اور منہ کالا ہو) اور سیاہی میں دیکھتا ہو۔(یعنی آنکھوں کا حلقہ سیاہ ہو) پس ایسا ہی دنبہ آپ کی قربانی کے لیے لایا گیا۔ آپ نے فرمایااے عائشہ چھری لاؤ پھرآپ نے فرمایا پتھر پر چھری تیز کر لو اس کے بعد آپ نے چھری کو ہاتھ میں لیا دنبہ کو لٹایا اور پھربِسْمِ اللّٰہِ اللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدِ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّد کہہ کر اسے ذبح کردیا۔

 حضرت ابویعلی شدادبن اوسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقہ سے ذبح کرو اور تم میں سے کوئی اپنی چھری بھی تیز کرلے تاکہ ذبیحہ کو ذبح کے وقت آرام پہنچے۔(رواہ مسلم)

 حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ابلق سینگوں والے دنبوں کی قربانی کی اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا بسم کہی اور تکبیر پڑھی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنبوں کے پہلو پر پاؤں رکھے دیکھا۔(متفق علیہ)

 حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب عیدالاضحی کا پہلا عشرہ آئے تو تم میں سے جو لوگ قربانی کا ارادہ کریں وہ نہ تو اپنے بال منڈوائیں اور نہ ترشوائیں اور نہ ناخن کٹوائیں۔ ایک روایت میں ہے کہ جو شخص ذی الحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کا ارادہ کرے اسے چاہیے کہ نہ بال منڈوائے نہ ترشوائے نہ ناخن کاٹے۔ (رواہ مسلم)

 حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنبوں کو ذبح کیا جو سینگدار ابلق اور خصی تھے۔(رواہ ابوداؤد)

 حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اولادِ آدم نے قربانی کے دن کوئی ایساعمل نہیں کیا جو خدا کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو‘ خون بہانے(قربانی) سے اور قیامت کے دن وہ ذبح کیا ہوا جانور آئے گا اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ، اور فرمایا کہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے خدا کے ہاں قبول ہوجاتا ہے پس تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔

 حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں دس سال تک رہے او رہرسال قربانی کرتے تھے۔

”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یوم الاضحی (قربانی کے دن) کو عید کا حکم دیا گیا جسے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے عید بنایا ہے۔“   (ابوداؤد)

 یوم عرفہ یعنی نویں تاریخ کی فجر کی نماز سے تیرھویں تاریخ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد بآواز بلند ایک مرتبہ یہ تکبیر پڑھنا واجب ہے اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد فتویٰ اس پر ہے کہ باجماعت نماز پڑھنے والے اور اکیلے نماز پڑھنے والے دونوں کے لیے تکبیر پڑھنا واجب ہے صاحبینؓ کے نزدیک مرد و عورت دونوں پر واجب ہے۔ البتہ عورت بلند آواز سے تکبیر نہ کہے بلکہ آہستہ آواز یں کہے۔(شامی)حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ لکھتے ہیں کہ:اس تکبیر کا متوسط (درمیانی) بلند آواز سے کہنا ضروری ہے بہت سے لوگ اس میں غفلت کرتے ہیں پڑھتے ہی نہیں یا آہستہ پڑھ لیتے ہیں اس کی اصلاح ضروری ہے۔(احکام عیدالاضحی و قربانی ص 32)

 عید الاضحی کے دن یہ چیزیں مسنون ہیں:

 صبح جلدی اٹھنا، غسل کرنا، مسواک کرنا، عمدہ سے عمدہ کپڑے پہننا جو پاس موجود ہوں، خوشبو لگانا، شرع کے موافق آرائش کرنا، عید گاہ میں جلدی جانا، عید گاہ میں نماز عید کے لیے جانے سے پہلے کوئی چیز نہ کھانا بلکہ نماز کے بعد قربانی کے گوشت میں سے کھانا۔عید گاہ میں نماز پڑھنے کے لیے پیدل جانا، جس راستہ سے جائیں اس کے سوا دوسرے راستے سے واپس آنا،راستہ میں بلند آواز سے اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد پڑھتے جانا۔ (جب کہ عید الفطر میں آہستہ آواز سے  پڑھنامسنون ہے) 

 حضرت خالد بن سعدؓ سے مروی ہے کہ آپ کی عادت کریمہ تھی کہ عیدالفطر یوم النحر اور یوم عرفہ میں غسل فرماتے تھے۔

 حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن خوبصورت اور عمدہ لباس زیب تن فرماتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سبز و سرخ دھاری دار چادر اوڑھتے تھے یہ چادریمن کی ہوتی تھی جسے بردیمانی کہا جاتا ہے۔ عید کے لیے زیب و زینت کرنا مستحب ہے لیکن لباس مشروع ہو۔ (مدارج النبوۃ)

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی کہ نماز عید عید گاہ (میدان) میں ادا فرماتے تھے۔(بخاری و مسلم)

 حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے اور جب نماز سے فارغ ہوتے تو کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔ 

 عیدین کے خطبہ میں پہلے تکبیر سے ابتدا کرے۔ اول خطبہ میں نو مرتبہ اللہ اکبر کہے اور دوسرے خطبہ میں سات مرتبہ۔(شرح التنویر جلد ۱ ص 116) (بحر، جلد 2ص 162)

مزید :

ایڈیشن 1 -