سفارتکاری کو صرف سیاست کے پیمانے پر پرکھنا افسوسناک 

سفارتکاری کو صرف سیاست کے پیمانے پر پرکھنا افسوسناک 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) پاکستان میں سیاسی ماحول اتنا گرم ہو چکا ہے کہ وہاں پاکستان کی امریکہ کے ساتھ سفارت کاری کو صرف سیاست کے پیمانے پر پرکھا جا رہا ہے۔ جو بہت افسوسناک بات ہے۔ یہ تجزیہ ایک سینئر پاکستانی سفارت کار نے یہاں ایک ”بیک گراؤنڈ بریفنگ“  میں پیش کیا۔ انہوں نے صاف الفاظ میں امریکی کانگریس اورانتظامیہ کے علاوہ اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان کے حالیہ الیکشن اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو واشنگٹن میں پکستانی سفارت کاری کی ناکامی تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ پاکستانی سفارت کار کا موقف ہی تھاکہ اصل صورتحال بالکل مختلف ہے کیونکہ انہیں بہت سے محاذوں پر بہت کامیابیاں ملی ہیں۔ پاکستانی سفارت کاروں کی محنت، کوششوں اور رابطوں کے نتیجے میں صاحب حیثیت پاکستانی امریکنز سمیت امریکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ  لگانے کیلئے آمادہ ہو چکے ہیں۔  پاکستانی نوجوانوں کو آئی ٹی سمیت دیگر شعبوں میں تعلیم اور ٹریننگ فراہم کرنے کیلئے امریکی حکومت سے رابطوں کے  حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ پاکستان کے ایک اہم مسئلے دہشت گردی کے انسداد کیلئے واشنگٹن کے پاکستانی سفارت کاروں کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان اور امریکہ  باہمی تعاون کر رہے ہیں۔ سینئر سفارت کار کاکہنا تھا کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ اپے ذیلی قونصل خانوں کی مدد سے مشرق سے لے کر مغربی ساحل تک تمام مقامات پر پاکستانی امریکنز سے رابطے میں ہے اور ان کی مشکلات کے ازالے کیلئے ہر وقت سرگرم رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو پاکستانی امریکنز پاکستان میں تجارت یا سرمایہ کاری کر رہے ہیں ہم ان کی حوصلہ افزائی اور ان کی مدد کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ سینئر سفارت کار نے اس تاثر کو بھی بے بنیاد قرار دیا کہ انہیں امریکہ سے اچھے تعلقات قائم کرنے کے ٹارگٹ کو پورا نہ کرنے پر قبل ازوقت پاکستان بلا لیا گیا ہے ان کا کہنا تھاکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ان کی پوسٹنگ فارن سروس کی بجائے سیاسی بنیاد پر ہوئی تھی جس کی مدت دوسال  ہوتی ہے جو مارچ میں پوری ہوگئی تھی۔ تاہم پاکستانی حکومت نے انہیں اپنی پالیسیوں کی تکمیل کیلئے مزید تین ماہ کا عرصہ دیا جو اب پورا ہو چکا ہے۔

سفارکار بریفنگ

مزید :

صفحہ آخر -