آصف علی زرداری نے تین روز لاہور میں گذارے، پی پی کے پارلیمانی گروپ،  گورنر اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی!

آصف علی زرداری نے تین روز لاہور میں گذارے، پی پی کے پارلیمانی گروپ،  گورنر ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

صدر آصف علی زرداری تین روزہ دورے پر لاہور آئے تو ان کی مصروفیات بھی طے شدہ تھیں،ان میں دانشور وارث میر کی برسی کے حوالے سے ہونے والی مجلس مذاکراہ کی صدارت بھی شامل تھی، سوئے اتفاق کہ وارث میر کی برسی کے دِنوں ہی میں سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے حوالے سے صدارتی ریفرنس میں سنائے گئے مختصر فیصلے کے بعد اب تفصیلی فیصلہ بھی جاری کر دیا گیا کہ بھٹو معصوم تھے اور ان کو غلط عدالتی کارروائی کے نتیجے میں پھانسی چڑھا دیا گیا،اس 48 صفحات کی تحریر میں یہ بھی بتایا گیا کہ بھٹو کو سزا دینے کی کارروائی مارشل لاء کے دوران ہوئی اور مارشل لاء کے تحت حلف اٹھانے والی عدالتیں عدالت کہلانے ہی کی مستحق نہیں۔

اس فیصلے کی تفصیل کی جو خبریں شائع ہوئیں، سیمینار کے مقررین نے اس سے خوب استفادہ کیا اور تقریروں میں وارث میر کے قلمی جہاد کی تحسین کے ساتھ ہی مارشل لائی واقعات اور جنرل ضیاء الحق کا ذکر بھی بہت ہوا، پھانسی کے علاوہ لاہور کے  قلعہ کی صعبتوں اور برسر عام کوڑوں کی سزاؤں کا بھی ذکر کیا گیا اور رائے دی گئی کہ جمہوریت ہی مسائل کاحل ہے اور ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے حقیقی جمہوری عمل لازم ہے اور سیاست دانوں کو اس کی روح کے مطابق آئین پاکستان کے تحفظ کی جدوجہد بھی کرنا ہو گی۔

صدر آصف علی زرداری لاہور پہنچے تو انہوں نے پہلے روز گورنر ہاؤس میں گورنر سلیم حیدر سے ماقات کے دوران حالات حاضرہ اور پنجاب کی صورتحال پر غور کیا،اور اسی گورنر ہاؤس میں صدرِ مملکت نے پیپلزپارٹی پنجاب کے پارلیمانی گروپ اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا۔یوں سارا دن گورنر ہاؤس میں مصروفیت کے بعد بلاول ہاؤس بحریہ ٹاؤن گئے، وہ آج لاہور سے روانہ ہو جائیں گے۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے تاخیر سے تاہم پیپلزپارٹی (پارلیمنٹیرین) کی سربراہی سے استعفیٰ دیا کہ صدر کا عہدہ غیر جانبداری کا تقاضہ کرتا ہے۔ ابھی تک کسی نئے سربراہ کا تقرر نہیں ہوا اور بلاول بھٹو زرداری نبھا رہے ہیں، آصف زرداری نے بہرحال جماعتی سیاست میں دلچسپی لی۔

لاہور ان دِنوں سخت حبس اور بڑھتی ہوئی گرانی کی زد میں ہے جبکہ یہاں گورننس کا معاملہ بھی بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ یہ سب سیکرٹریٹ کی سطح پر نظر آتا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز  چچا کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے تسلسل سے کام کر رہی ہیں، تاہم ان کی ساری کارکردگی نچلی سطح کے اہلکاروں کی وجہ سے برسر زمین نظر نہیں آتی اور شعبہ اطلاعات تشہیر سے مطمئن کر رہا ہے،نچلی سطح کی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ ٹریفک سے صفائی اور صوبائی سے پارکوں کی بہتری اور مہنگائی کو روکنے کی کارروائیوں میں اہلکار اپنے فرائض ادا کرتے نظر نہیں آتے، پارکوں کی حالت زار جوں کی توں ہے، پی ایچ اے کے پاس عرصہ سے زیر التواء درخواستوں پر کوئی عمل نہیں ہوا،چہ جائیکہ نئے احکام پورے کئے جائیں۔یہی حال دوسرے محکموں کا ہے،وزیراعلیٰ کو اس صورتحال پر غور کرنا ہو گا اور بہتر یہ ہے کہ یا تو جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں یا پھر مسلم لیگ (ن) ہی کے سابق کونسلروں کو معاونت اور کارکردگی کی دیکھ بھال کا موقع دیا جائے۔

ایسے ہی حالات وفاقی محکموں کے بھی ہیں، خصوصاً لیسکو کی طرف سے صارفین کو جان بوجھ کر اوور بلنگ کی گئی جس کا نوٹس بھی اعلیٰ ترین سطح پر لیا گیا، وزیراعظم نے ریلیف دینے کا بھی اعلان کر دیا ہے، لیکن لیسکو کے ریونیو والے صارفین کے بل درست کرنے میں تاخیر کر رہے ہیں،میلوں چل کر شاہ پور کانجراں کے ریونیو آفس میں صارفین جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ریونیو آفیسر یا متعلقہ کلرک نہیں ہیں،حالانکہ بل کی درستگی از خود بھی ہونا چاہئے کہ سب آن لائن ہے، اوور بلنگ کا یہ عالم ہے کہ بل پر میٹر کی تصویر میں ریڈنگ200یونٹ سے کم واضح نظر آتی ہے، لیکن زیادہ یونٹ میٹر ریڈر نے اپنی قلم سے لکھے ہوئے ہیں جن کے مطلق ہزاروں روپے زائد بل بھیجے گئے۔

عیدالاضحی سے پہلے ذخیرہ اندوزی نے جو مصنوعی مہنگائی کی وہ عید کے ایک ہفتہ کی مسلسل چھٹیوں کے بعد قدرے بہتر ہوئی تھی،لیکن جونہی بجٹ منظور ہوا اور ایف بی آر کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر نئے نئے ٹیکس سامنے آنے لگے، ویسے ویسے اشیاء ضرورت اور خوردنی کو پر لگ گئے،منافع خوروں نے نہ صرف اشیاء ضرورت بلکہ سبزیوں اور پھلوں کے نرخ آسمان پر پہنچا دیئے ہیں۔ صارفین پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا، جبکہ آٹا بھی مہنگا ہوا، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر سختی کی گئی تو فلور ملز ایسوسی ایشن نے ہڑتال کر دی، اگر کوئی تصفیہ نہ ہوا تو آج سے ملوں سے آٹے کی سپلائی بند ہو جائے گی اور نیا بحران پیدا ہو گا، فلور ملز ایسوسی ایشن نے بھی جنرل سیلز ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے وہ چاہتے ہیں کہ ان کو ٹیکس نہ دینا پڑے اور مرضی کے نرخ وصول کریں۔ایسا ہی ہر وہ شعبہ کر رہا ہے جس پر ٹیکس بڑھا،البتہ صارفین، شہری اور سفید پوش پس کر رہ گئے ہیں۔

موسم کا ذکر کریں تو بارش کے بعد یہ خبر کہ موسم خوشگوار ہو گیا ایک مذاق بن کر رہ گئی کہ بارش سے ہمیشہ کی طرح حبس بڑھا حتیٰ کہ29 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت کا احساس46 ڈگری کا تھا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

٭٭٭٭٭

دانشور وارث میر کی برسی، صدرِ مملکت نے صدارت 

کی، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ موضوع بن گیا

فلور ملز نے ہڑتال کا اعلان کیا، مفاہمت نہ ہوئی تو آج سے ملیں 

بند، نیا بحران پیدا ہو گا،بجٹ کے بعد مہنگائی ناقابل ِ برداشت

مزید :

ایڈیشن 1 -