بانی چیئرمین سے ملاقات کے بعد علی امین کے لہجے میں پھر تیزی 

بانی چیئرمین سے ملاقات کے بعد علی امین کے لہجے میں پھر تیزی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپورکی وفاقی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کے بعد خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وفاق اور صوبے میں تناؤ یا کشیدگی میں کمی ضرور واقع ہو گی، بعض اطراف سے کہا جا رہا تھا کہ برف پگھلنے لگی ہے جلد دونوں فریق شِیر و شکر ہو جائیں گے۔اسلام آباد اور پشاور کے مذاکرات کی تاثیر زیادہ دیر نہیں چلتی اور  علی امین جیسے ہی پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سے ملتے ہیں، معاملات میں پھر تیزی اور گرما گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ ابھی گزشتہ روز وزیر اعلیٰ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی جس میں پارٹی کے تنظیمی اور صوبائی حکومتی امور پر بات چیت کی گئی۔ بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات اڈیالہ جیل کے کانفرنس روم میں کروائی گئی۔ملاقات کے دوران حالیہ ملکی معاملات بالخصوص کپتان کی رہائی کے لئے چلائی جانے والی احتجاجی تحریک پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات سوا گھنٹہ جاری رہی۔ملاقات سے قبل اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ عمران خان کے تحفظات بالکل درست ہیں، لوگوں کو ملاقات نہیں کرنے دی جاتی۔ جو نام وہ ملاقات کے لئے دیتے ہیں وہ نکالے جاتے ہیں ان کو مانیٹر کیا جارہا ہے،یہ ان کے بنیادی حقوق ہیں۔ جب یہ ہمارے حقوق چھین رہے ہوں تو آئین کے مطابق آواز اٹھانے کا حق بنتا ہے، ہم قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔۔ ہم اپنا حق لینے کے لیے پر امن احتجاج کر سکتے ہیں، اگر بانی پی ٹی آئی نے بھوک ہڑتال کی تو یہ بھوک ہڑتال پورے پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کی ہو گی۔

ماہ جون کے آخر میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے دورہ افغانستان کے دوران سننے میں آیا تھا کہ پاک افغان تعلقات میں بہتری کی سبیل پیدا ہوئی ہے لیکن ہفتہ دس روز سے ہر سطح پر کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا بڑا دروازہ ہمسایہ ملک سے ہی کھلتا ہے  اور انتہا پسند گروپوں کے کارندے پاکستان میں امن دشمن کارروائی کے بعد افغانستان جا کر ہی پناہ لیتے ہیں۔ ہماری عسکری و سیاسی قیادت بار ہا اس امر کا اظہار کر چکی ہے کہ امن و امان کے حوالے سے کابل سے در اندازی ہو رہی ہے۔ پاک افغان سرحد پر واقع قبائلی بستیوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا انکشاف بھی ہوا ہے جہاں گاہے بگاہے افواج پاکستان سمیت قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے آپریشن بھی کرتے رہے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ڈول بھی ڈالے جا رہے ہیں جبکہ بعض اطراف سے یہ اعتراضات بھی سامنے آ رہے ہیں  کہ حکومتی سطح پر مذاکرات ضرور کئے جائیں لیکن تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہونی چاہئے۔تازہ ترین   اطلاع یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کا مطالبہ کردیا ہے۔ باجوڑ سپورٹس کمپلیکس میں آپریشن نامنظور اور ہم امن چاہتے ہیں کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان اور خصوصاً پختون بیلٹ مزید آپریشنز کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ ہم امن چاہتے ہیں اور اس حوالے سے تمام سیاسی پارٹیوں اور عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے۔حافظ نعیم الرحمن نے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات ہی مسائل کا ہیں، جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوسکتیں، طالبان سے مذاکرات کیے جائیں۔ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ  بھی مذکرات کرنے چاہئیں کیونکہ افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے۔  میں افغانستان پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ وہ بھی اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔

 خیبرپختونخوا میں امن دشمن کارروائیاں دوسرے صوبوں کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔ اس حوالے سے  سرکاری طور پر جاری کردہ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ رواں سال ابتدائی 6 ماہ کے دوران 640 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں کالعدم ٹی ٹی پی کے 297 شدت پسند مارے گئے۔ان آپریشنز کے دوران 510 دستی بم، 217 مار ٹرشیل، 34 آئی ای ڈی بم اور 11 ہزار497 ایس ایم جی سیمت دیگر اسلحہ بھی  شدت پسندوں سے برآمد کیا گیا۔ رواں سال صوبے کے 13 اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 297 شدت پسند مارے گئے۔ جنوری میں 41، فروری میں 55، مارچ میں 52 شدت پسند، اپریل اور مئی میں 55،55 جبکہ اس کے علاوہ گزشتہ ماہ 39 شدت پسند واصل جہنم کئے گئے۔   شمالی وزیرستان میں سب سے زیادہ 112، ڈیرہ اسماعیل خان میں 46، ٹانک میں 32، لکی مروت میں 30، خیبر میں 24 اور جنوبی وزیرستان میں 18 شدت پسند مارے گئے۔ صوبہ بھر میں ہونے والے ان آپریشنز میں قبائلی ضلع باجوڑ میں 10، پشاور اور بنوں میں 7،7، کرم، کوہاٹ اور سوات میں 3،3 جبکہ مردان میں 2 شدت پسند  ہلاک کئے گئے۔ یاد رہے کہ صوبہ بھر میں ہونے والے ان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی کے 297 دہشتگرد مارے گئے۔ ایسی صورت حال میں یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ ٹی ٹی پی صوبے میں بالخصوص اور دیگر علاقوں میں بالعموم کتنی کارروائیوں میں ملوث ہے۔

  

وزیر اعلیٰ علی امین نے عمران خان کے تحفظات درست قرار دے دیئے

ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے

جماعت اسلامی  طالبان کے ساتھ بات چیت کی ضرورت پر زور دے رہی ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -