کنٹریکٹر ز ایسوسی ایشن سی اینڈ ڈبلیو کے افسران کے ناجائز مطالبات کیخلاف سراپا احتجاج 

کنٹریکٹر ز ایسوسی ایشن سی اینڈ ڈبلیو کے افسران کے ناجائز مطالبات کیخلاف ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                        نوشہرہ(بیورو رپورٹ) کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن سی اینڈ ڈبلیو کے افسران کے ناجائز مطالبات اور کمیشن خوری کے خلاف سراپا احتجاج کنٹریکٹرز نے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے علاوہ دیگر اداروں کے فیسز یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنسٹرکشن ایک صنعت کی سی حیثیت رکھتی ہے لیکن فنانس ڈیپارٹمنٹ سے لیکر سی اینڈ ڈبلیو تک کے افسران کی وجہ سے یہ صنعت تباہی کے دہانے پر لاکھڑا ہوگیا ہے کیونکہ صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کے دفاتر میں کنٹریکٹرز سے فنڈز ریلیز پر ناجائز کمیشن مطالبہ کرتے ہیں اور فنڈز ریلیز میں مصروف منظور نظر اور چہیتوں کو نوازا جارہا ہے جس کی صوبائی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن پرزور مذمت کرتی ہے ان خیالات کا اظہار کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے صوبائی نائب صدر الحاج طارق اقبال،داد محمد خان،فیاض خان,ارشد سمیت دیگر کنٹریکٹرز نے احتجاج کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے شروع کردئیے جاتے ہیں لیکن کنٹریکٹرز کو فنڈز کی فراہمی میں لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے جس کی وجہ سے کئی پرانے ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکے اسی وجہ سے کئی کنٹریکٹرز کے بلز اور سیکیورٹی کی ادائیگیوں میں مشکلات درپیش ہورہی ہیں انہوں نے کہا کہ ایک طرف ناجائز کمیشن خوری دوسری طرف انکم ٹیکس اور تیسری مارکیٹ ریٹ نہ دینا چوتھی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کنٹریکٹرز کی معاشی قتل عام کے مترادف ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے سارا کا سارا فنڈ ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کر دیا ہے کیا نوشہرہ،پشاور مردان،صوابی اور دیگر اضلاع اس صوبے کا حصہ نہیں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا کا ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز ریلیز میں غیر منصفانہ طریقہ کار کسی صورت منظور نہیں کنٹریکٹرز کا مزید کہنا تھا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اعلیٰ افسران اپنے دفتروں میں بیٹھ کر دفتروں کے کلاس فور ملازمین کے زریعے اپنا کمیشن وصول کرنے لگے ہیں جبکہ کمیشن دینے والے منظورِ نظر اور چہیتوں کو نوازا جارہا ہے انہوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جون 2024کے فنڈز ریلیز پر اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے اور مجوزہ کرپشن کی تحقیقات کی جائیں تاکہ حقدار کو اپنا حق مل سکے اور اس میں شامل افراد کو قرار واقع سزا دلوائی جائے اب جولائی 2024میں جو فنڈز ریلیز ہورہا ہے اگر یہی فنڈز بھی ناانصافی کی نظر ہوئی تو خیبرپختونخوا کی پوری کنٹریکٹرز برادری سڑکوں پر نکل پر مجبور ہوجائے گی انہوں نے حکومت خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا کہ صوبائی فنڈز منصفانہ بنیادوں پر تقسیم کیا جائے صوبائی کنٹریکٹرز سے سالانہ فیس کا خاتمہ کیا جائے تمام ترقیاتی منصوبوں پر پاکستان انجینئرنگ کونسل کے فارمولے کے مطابق اسکلیشن دیا جائے نیا شیڈول 2024مارکیٹ ریٹ کے مطابق بنانا اور جاری کرانا اور اگر اگلے سال کے لیے اے ڈی پی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے مطلوبہ فنڈز مختص نہ کئیے گئے تو نئے ترقیاتی منصوبوں پر پابندی لگائی جائے بصورت دیگر اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئیے گئے تو صوبائی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا بھر کے دس ہزار کنٹریکٹرز ان کے ساتھ لاکھوں مزدوروں کو اسمبلی چوک پشاور میں یکجا کر کے بھرپور احتجاج کریں گے اور کسی وزیر،ایم پی اے وغیرہ کو ترقیاتی منصوبوں پر تختی نہیں لگانے دیں گے کیونکہ یہ لوگ کسی ترقیاتی منصوبے پر تو اپنے نام کی تختی لگادیتے ہیں لیکن پھر فنڈز کی فراہمی کا بندوست نہیں کرسکتے