وہ جماعتیں جو آج پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی کوشش کررہی ہیں اللہ نہ کرے ان پر کبھی برا وقت آئے اور ۔۔۔؟ حامد میر کھل کر بول پڑے

وہ جماعتیں جو آج پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی کوشش کررہی ہیں اللہ نہ کرے ان ...
 وہ جماعتیں جو آج پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی کوشش کررہی ہیں اللہ نہ کرے ان پر کبھی برا وقت آئے اور ۔۔۔؟ حامد میر کھل کر بول پڑے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد  (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ  وہ جماعتیں جو آج پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی کوشش کررہی ہیں اللہ نہ کرے ان پر بھی کبھی برا وقت آئے اور یہ تحریک انصاف سے مدد مانگتی ہوئی نظر آئیں ۔سیاستدانوں کی  کمزوریوں کی وجہ سے فوج کو سیاست میں مداخلت کا موقع ملا، اسمبلیاں ٹوٹنے کا سلسلہ پاکستان بننے کے فوراً بعد شروع ہوگیا، پھر سیاستدانوں کو نااہل قرار دینے کا سلسلہ شروع ہوا،جنرل ایوب خان نے صدارتی الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دی، ایوب خان جیت گئے مگر پاکستان ہار گیا، تاریخ بار بار ہمیں بتاتی ہے کہ آپ جو کنواں دوسروں کیلئے کھودتے ہیں اسی کنویں میں خود بھی گرتے ہیں،حکومت بھی ویسے ہی کام کررہی ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں  تجزیہ پیش کرتے ہوئے میزبان حامد میر کا کہنا تھا کہ  اسمبلیاں ٹوٹنے کا سلسلہ پاکستان بننے کے فوراً بعد شروع ہوگیا، پھر سیاستدانوں کو نااہل قرار دینے کا سلسلہ شروع ہوا، پھر سیاستدانوں نے ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالنا شروع کیا، سیاستدانوں کی انہی کمزوریوں کی وجہ سے فوج کو سیاست میں مداخلت کا موقع ملا، پھر 1958ء میں مارشل لاء لگ گیا، سیاستدانوں کی جبری نااہلیوں، گرفتاریوں اور سیاست میں خفیہ اداروں کی مداخلت کا جو سلسلہ پاکستان بننے کے فوراً بعد شروع ہوا تھا وہ آج تک نظر آرہا ہے، سپریم کورٹ بار بار ایسے فیصلے دیتی ہے کہ خفیہ اداروں کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے لیکن آج بھی سیاستدان شکایت کرتے ہیں کہ خفیہ ادارے سیاست میں مداخلت کرتے ہیں بلکہ اب تو عدلیہ کے ججوں نے بھی ایسی ہی شکایتیں کرنا شروع کردی ہیں۔

حامد میر کا کہنا تھا تحریک انصاف پر پابندی کی بات ایک سال سے ہورہی ہے، پیپلز پارٹی جس کے پہلے دور حکومت میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگائی گئی تھی، جنرل ضیاء الحق کے دور میں پیپلز پارٹی بھی پابندی لگ گئی تھی، 8 فروری 2024ء کے انتخابات سے کچھ دن پہلے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے ذریعے  پی ٹی آئی سے اس کا انتخابی نشان چھینا گیا مگر اس سے پہلے جنرل ضیاء کے دور میں پیپلز پارٹی سے اس کا انتخابی نشان تلوار بھی چھینا گیا تھا۔

 حامد میر نے کہا کہ ایوب خان نے اقتدار سنبھالا تو سیاستدانوں کو نااہل کرنے کیلئے قانون لائے ، اس وقت بڑ ی تعداد میں سیاستدان سیاست سے دستبردار ہوئے ان سیاستدانوں میں قاضی محمد عیسیٰ بھی شامل تھے جو آج کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے والد تھے، 1990ء کے الیکشن میں خفیہ اداروں کی مداخلت سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی صورت میں سامنے ہے ، جنرل پرویز مشرف کے تکبر اس کا وقت کیا عالم تھا لیکن بعد میں وہی پرویز مشرف جلاوطنی کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے اور جلاوطنی میں ہی ان کا انتقال ہوا ، عمران خان کے دور میں 2دفعہ سیاسی پارٹیوں اور بعض گروپس پر پابندی لگی، عمران خان آج اسی طرح نااہل اور جیل میں ہیں جیسے 2018ء کے الیکشن سے پہلے نواز شریف نااہل ہوئے اور جیل میں تھے ، آج بھی جو حکمراں ہیں انہوں نے بھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا، وہ تمام غلطیاں جو ماضی کے حکمران کرتے رہے اور ایک دوسرے کیخلاف کنویں کھودتے رہے پھر خود بھی ان کنوؤں میں گرتے رہے اب موجودہ حکومت بھی ویسے ہی کام کررہی ہے ، وہ جماعتیں جو آج پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی کوشش کررہی ہیں اللہ نہ کرے ان پر بھی کبھی برا وقت آئے اور یہ تحریک انصاف سے مدد مانگتی ہوئی نظر آئیں۔