زیر علاج بدمعاش کے ڈرائیور نے ہسپتال کے سیکیورٹی گارڈ کو مارا، ڈاکٹر صاحب نے غصے سے کہا ”بٹ صاحب میں ہڈیاں جوڑ سکتا ہوں توتوڑ بھی سکتا ہوں“ 

زیر علاج بدمعاش کے ڈرائیور نے ہسپتال کے سیکیورٹی گارڈ کو مارا، ڈاکٹر صاحب نے ...
زیر علاج بدمعاش کے ڈرائیور نے ہسپتال کے سیکیورٹی گارڈ کو مارا، ڈاکٹر صاحب نے غصے سے کہا ”بٹ صاحب میں ہڈیاں جوڑ سکتا ہوں توتوڑ بھی سکتا ہوں“ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:327
لاہور کی کسی بٹ برادری کے دو بھائی دشمن داری نبھاتے ہوئے اپنے مخالفوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوئے اور ٹانگوں پر بے شمار گولیاں کھانے کے بعد ہسپتال میں داخل ہوگئے۔ یہاں ان کی سرجری ہڈیوں کے مایہ ناز سرجن ڈاکٹر غضنفر علی شاہ نے کی، جو ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو بھی تھے۔ ڈاکٹر شاہ صاحب اس قسم کے پیچیدہ عمل جراحی کے ماہر جانے جاتے تھے، اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اس وقت ملازموں کی حد تک ان کا مزاج قدرے سخت اور اکثر برہم ہی رہتا تھا، سُنا ہے کہ آج کل تو وہ تواتر سے مسکراتے بھی ہیں، لیکن اس وقت وہ ذرا کم کم ہی تبسم کیا کرتے تھے۔
غرض، سرجری کے بعد دونوں بھائیوں کو ساتھ 2 کمروں میں لٹا کر ان کی ٹانگیں آسمان کی طرف اٹھا کر باندھ دی گئیں تھیں۔دونوں اپنے علاقوں کے بڑے بدمعاش تھے، اس تناظر میں ان کے ساتھیوں نے اپنا رعب تو قائم رکھنا ہی تھا۔ ان کا ایک ڈرائیور ہمیشہ ہسپتال کے مرکزی دروازے کے عین سامنے آ کر زبردستی گاڑی پارک کر دیتا تھا، سیکورٹی گارڈ نے جب اس کو ایسا کرنے سے روکا تو ڈرائیور نے نہ صرف اس کو برا بھلا کہا بلکہ اس کو ایک ہاتھ بھی جھاڑ دیا۔ وہ گارڈ آنکھوں میں آنسو لیے میرے پاس آیا، اور میں سب کچھ سن کر سیدھا ڈاکٹر غضنفر شاہ کے پاس چلا گیا۔ وہ ان ہی کے مریض تھے اور ہمیں کسی بھی مریض یا اس کے عزیز و اقارب کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے پہلے متعلقہ ڈاکٹر صاحب کو اعتماد میں لینا پڑتا تھا،ورنہ بعض حالات میں وہ ناراض بھی ہو جاتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب نے بڑے تحمل سے سارا قصہ سنا اور مجھے کہا کہ”آپ ابھی میرے ساتھ آئیں“، ہم دونوں بڑے بٹ کے کمرے میں گئے جہاں وہ ٹانگیں اوپر اٹھائے انتہائی کرب کے عالم میں لیٹا ہوا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کی ہوا میں معلق ٹانگوں پر ہاتھ مار کر غصے سے کہا کہ ”بٹ صاحب اگر میں ہڈیاں جوڑ سکتا ہوں تو ہڈیاں توڑ بھی سکتا ہوں۔“ بٹ کو کچھ سمجھ نہ آیا اور اس کا رنگ فق ہو گیا، غالباً اس کو اس بات کا ادراک تھا کہ ان ڈاکٹر صاحب کے علاوہ شاید کوئی اور ڈاکٹر اس قسم کے پیچیدہ کیس کو ہاتھ بھی نہ لگائے۔ گھبرا کر بولا”مائی باپ ہم سے ایسی کیا خطا ہوئی جو آپ خفا ہو بیٹھے۔“ سارا قصہ اس کے گوش گزار کیا تو اس نے اپنے قریب ہی بیٹھے ہوئے اس ڈرائیور کو سخت بُرا بھلا کہا اور شاید تھپڑ مارنے کی کوشش بھی کی ہو گی جو ظاہر ہے ہواؤں میں معلق ہونے کی وجہ سے کامیاب نہ ہوئی ہو گی۔ اس کو کہا کہ آئندہ تم ہسپتال میں داخل نہیں ہو گے اور اپنی گاڑی ہسپتال کے باہر سڑک پرہی کھڑی کرو گے۔ ڈاکٹر صاحب کے سامنے اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر گریہ زاری کی اور صدق دل سے معافی مانگی۔ صرف پیروں کو ہاتھ لگانا باقی تھا کہ ڈاکٹر صاحب واپس چلے گئے۔ میں بڑی دیر تک اپنے دفتر میں آ کر بے یقینی کے عالم میں مسکراتا رہا اور سوچتا رہا کہ انسان قدرت کے سامنے کتنا بے بس ہو جاتا ہے، اتنا بڑا نام نہاد بدمعاش کس طرح ایک سفید کوٹ والے ڈاکٹر سے گڑگڑا کر اپنی صحت کی بھیک مانگ رہا تھا۔ کسی نے سچ ہی کہا تھا کہ یہ بدمعاش لوگ اندر سے بہت ہی بزدل ہوتے ہیں جن کا رعب اور دبدبہ صرف کمزوروں کے لیے ہوتا ہے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -