ایک دن میں گالف کھیلنے میں مصروف تھا تو اطلاع ملی کہ وزیر اعلیٰ آدھ گھنٹے کے اندر پروجیکٹ پہنچ رہے ہیں، کھیل بند کیا اور ٹی شرٹ میں ہی وہاں پہنچ گیا

 ایک دن میں گالف کھیلنے میں مصروف تھا تو اطلاع ملی کہ وزیر اعلیٰ آدھ گھنٹے کے ...
 ایک دن میں گالف کھیلنے میں مصروف تھا تو اطلاع ملی کہ وزیر اعلیٰ آدھ گھنٹے کے اندر پروجیکٹ پہنچ رہے ہیں، کھیل بند کیا اور ٹی شرٹ میں ہی وہاں پہنچ گیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:158
 ان درخواستوں کی دفتری تصدیق کے علاوہ مقامی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں جن میں مقامی انتظامیہ کے نمائندوں کے علاوہ ایک نیک نام فلاحی تنظیم اخوت اور سول سوسائٹی کے کچھ لوگ بھی شامل کئے گئے۔ ان کو یہ ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں کہ وہ امیدواروں کی اپنے بارے دی گئی معلومات کی مختلف ذرائع سے تصدیق کریں اور اس سلسلے میں ان کے محلے داروں اور پڑوسیوں سے بھی رابطہ کریں۔ تصدیق کرنے کا یہ طریقہ کار بہت مؤثر تھا اور اس پر عمل کرتے ہوئے تقریباً 50 فیصد امید وار تو فوری طور پر اس سہولت کے لیے نا اہل قرار پائے۔ اس کے باوجود بھی پلاٹوں کی تعداد تصدیق ہو جانے والی درخواستوں سے کہیں زیادہ تھی، اس لیے یہ طے پایا کہ ایک شفاف قرعہ اندازی کا اہتمام کیا جائے۔ پنجاب کے آئی ٹی بورڈ نے ہمارے ساتھ مل کر ایک کمپیوٹر پروگرام تخلیق کیا تاکہ ایک صاف ستھری اور اور شفاف قرعہ اندازی کو  یقینی بنایا جا  سکے۔ ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کے دفتر میں بنے ہوئے آڈیٹوریم میں پریس اور عوام کے سامنے یہ قرعہ اندازی ہوئی۔ جیسے ہی کمپیوٹر سے نکلی ہوئی کامیاب امیداواروں کی فہرست سامنے آئی تو اس کو فوراً ہی حتمی شکل دے دی گئی۔ یہ سارا نظام اتنے پر امن اور شفاف طریقے سے طے پایا تھا کہ کسی کو اس  نظام پر انگلی اٹھانے کی جرأت نہ ہوئی۔ اس کے بعد جسٹس (ریٹائرڈ)عامر رضا کی صدارت میں ایک ٹریبونل قائم کیا گیا جس میں اخوت کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب کے علاوہ ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو بھی شامل کیا گیا تاکہ اس سلسلے میں آنے والی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔ میں اس ٹریبونل کا سیکریٹری تھا۔
میں نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے سخت روئیے کے بارے میں بہت کچھ سن اور دیکھ رکھا تھا اور یہ بات آشیانہ ہاؤسنگ سے متعلق متعدد میٹنگوں میں ثابت بھی ہوگئی تھی۔ وہ ایک تواتر سے موقع پر آتے جاتے رہتے تھے تاکہ کام کے معیار اور رفتار کے بارے میں خود جان سکیں۔ ان کا یہ دورہ اکثر صبح 6 بجے یا بہت ہی مختصر سے نوٹس پر کسی وقت بھی طے پاتا تھا۔ ایک دن جب کہ میں گالف کھیلنے میں مصروف تھا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ وزیر اعلیٰ صاحب آدھ گھنٹے کے اندر پروجیکٹ پہنچ رہے ہیں۔ یہ خبر سنتے ہی میں نے کھیل بند کیا اور ٹی شرٹ میں ہی وہاں پہنچ گیا۔ ایسے موقع پر پریس کی حاضری یقینی ہوتی تھی تاکہ وہ کام کی رفتار اور معیار کے بارے میں میڈیا والوں کو بتا اور دکھا سکیں۔ لاہور کے علاوہ میں نے فیصل آباد، ساہیوال، جہلم اور سرگودھا میں بھی آشیانہ سکیم کے لیے ایسی ہی جگہیں تلاش کر کے ان پر ماڈل گھروں کی تعمیر شروع کروا دی۔ چونکہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ آئے روز متعدد بار میٹنگ ہوتی رہتی تھیں جس کی وجہ سے میں اس پروجیکٹ کے چیف ایگزیکٹو افسر ہونے کی وجہ سے ایک دن کے لیے بھی لاہور نہیں چھوڑ سکتا تھا اور یہ سلسلہ 7 ماہ تک یوں ہی چلتا رہا ۔ 
میں نے اس پروجیکٹ میں چیف ایگزیکٹو افسر کی حیثیت سے 4 ماہ تک کام کرنے کی حامی بھری تھی اور پھر جیسے ہی یہ مدت پوری ہوئی میں نے استعفیٰ دے دیا۔ اس کو منظور کروانے میں مجھے 3 مہینے اور لگ گئے۔ میرے ساتھ کام کرنے والے سینئر افسر اور بیوروکریٹ اس بات پر حیران تھے کہ میں اتنی اعلیٰ سطحی ملازمت کیوں چھوڑ کر جا رہا تھا۔ لیکن میں یہاں سے خوش اور مطمئن ہو کر جا رہا تھا کہ میں نے ایک ایسے عظیم منصوبے کا آغاز کردیا تھا جس میں 2800 گھروں کے ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو کم لاگت کے عوض ایک معقول اور آرام دہ رہائش گاہ ملنے والی تھی۔ مجھے دی گئی ذمہ داریوں کی تکمیل کے آخری دن وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف پراجیکٹ پر آئے۔ اس دن وہ وہاں کام کی رفتار اور معیار کو دیکھ کر واضح طور پر خوش اور مطمئن نظر آ رہے تھے۔ جب میں نے ان کو بتایا کہ میں کل آشیانہ ہاؤسنگ کے منصوبے سے فارغ ہو رہا ہوں تو انھوں نے میرا شکریہ ادا کیا اور دیر تک مجھ سے ہاتھ ملاتے رہے۔ میں اس وقت دنیا کا مسرور ترین شخص تھا کہ میں ان کی توقعات پر پورا اترا تھا اور وہ میرے کام سے مطمئن اور خوش تھے جو اکثر لوگوں کے کہنے کے مطابق ایک مشکل کام تھا۔ میں نے اُنھیں ایک ایسے سخت منتظم کے طور پر دیکھا تھا جو غریبوں کے لیے بنائے گئے ایسے منصوبوں کی اعلیٰ معیار کی تعمیر اور بر وقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدام اٹھاتے تھے۔ مجھے بھی بے حد خوشی تھی کہ میں نے بھی کم آمدنی والے اور غریب لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے بنائے گئے ایک ایسے منصوبے کے لیے اپنی خدمات انجام دیں جو قابل تقلید تھیں اور مستقبل میں میری اس کارکردگی کو نمونے کے طور پر پیش کیا جا سکتا تھا۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -