زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آجاتے ہیں جب محسوس ہوتا ہے کہ ہم غلطی پر ہیں، اس قسم کی صورت حال پیش آجائے تو فوراً غلطی کو درست کر لیجئے

زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آجاتے ہیں جب محسوس ہوتا ہے کہ ہم غلطی پر ہیں، اس ...
زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آجاتے ہیں جب محسوس ہوتا ہے کہ ہم غلطی پر ہیں، اس قسم کی صورت حال پیش آجائے تو فوراً غلطی کو درست کر لیجئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:145
جان نے اپنی بات جاری رکھی ”اور جہاں تک زیادہ کھانے کا تعلق ہے، اس کا ذمہ دار صرف اور صرف اس میز کے پیچھے بیٹھا ہوا وہ شخص ہے۔ تم نے شاید دیکھا نہیں ہوگا کہ کیفے ٹیریا میں داخل ہوتے وقت میں نے اس سے نہایت شائستہ اور مہذب لب لہجے میں کہا تھا کہ سب سے مزیدار کھانا زیادہ مقدار میں مجھے چاہیے اور اس طور اس نے میری خواہش کے مطابق مجھے کھانا مہیا کر دیا۔“
زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی پیش آجاتے ہیں جب ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم غلطی پر ہیں۔ اگر اس قسم کی صورت حال پیش آجاتی ہے تو فوراً ہی اپنی غلطی کو درست کر لیجئے۔ لیکن اپنے اس فعل کو درست کرنے کے لیے ایک خاتون کا سا لب و لہجہ انپائیے اور نہایت شریفانہ اور نفیس انداز میں معذرت چاہیں۔ اکثر لوگ جو ہماری زندگیوں پر کسی قدر اثر انداز ہونے کی قدرت رکھتے ہیں تو اس صورت میں وہ اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے۔ لیکن جب آپ محسوس کریں کہ آپ غلطی پر ہیں، تو پھر نہایت خوش اخلاقی اور شائستہ انداز میں، اپنی غلطی درست کر لیجئے۔ جب آپ اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، تو اس کے ذریعے آپ دوسروں لوگوں کو اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے سے روکنے، آپ کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنے کے لیے حوصلہ فراہم کرتے ہیں، اور پھر بالآخر، آپ شکست کھا جاتے ہیں۔
آپ کو اس امر کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جانا چاہیے کہ اگر آپ کسی سے مدد طلب کریں تو آپ کو انکار کا خوف نہ ہو:
اپنے علم اور معلومات میں اضافہ کرنے کی خاطر سوالات پوچھنے کے فوائد کے موضوع پر میں نے کچھ عرصہ ایک کانفرنس میں اپنا ایک تفصیلی مقالہ پیش کیا۔ کانفرنس کے بعد بیکی (Backy) نامی ایک خاتون نے مجھے سے نجی طور پر ملاقات کی اجازت چاہی۔ لہٰذا ہم جلد ہی ایک نزدیکی کافی شاپ(Coffee Shop) پر چلے گئے اور یہ خاتون اپنے دل کی بھڑاس نکالنا شروع ہوگئی۔ اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ”سوالات پوچھنے کے متعلق مجھے آپ کے موقف سے اتفاق ہے، لیکن،صاف بات تو یہ ہے کہ میں علم، معلومات حاصل کرنے کی خاطر، سوالات کرنے سے خوفزدہ ہوں۔ میں سوال کرنے سے اس لیے گھبراتی ہوں اور ہچکچاتی ہوں کہ کہیں میرا سوال مسترد نہ کر دیا جائے۔ اور پھر میں اپنی مطلوبہ خواہش کے بارے میں سوالات پوچھنے سے محروم رہ جاتی ہوں۔ اور پھر مجھے یہ بتا دیا جاتا ہے کہ میں اپنی مطلوبہ خواہش کی تکمیل نہیں کر سکتی۔“
میں نے پوچھا، ”تمہیں کیسے محسوس ہوتا ہے کہ تم اس قسم کے خوف میں مبتلا ہو؟ کیا تم یہ سمجھتی ہو کہ اس کا تعلق تمہارے بچپن سے ہے؟“(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -