میاں شہباز شریف کے عزائم

میاں شہباز شریف کے عزائم
میاں شہباز شریف کے عزائم

  


شہباز شریف صوبے کے تیسری بار وزیراعلیٰ بن کر نہ صرف اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بھاری اکثریت اور اختیار سے موجود ہیں ،بلکہ انہوں نے دو نئے ایسے منصوبے شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ،جن سے ایک طرف عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے تو دوسری جانب ملک کی تاریخ میں پہلی بار شہباز شریف نے ایک بہت بڑے کام کو چیلنج کے طور پر قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شہباز شریف نے ایوان سے منتخب ہونے کے فوراً بعد دو اہم باتوں کا اعلان کیا ،جن میں ایک سال کے اندر پورے پٹواری نظام کو ختم کرنے اور دوسرا کاشتکاروں کو زرعی سولر ٹیوب ویل دینا شامل ہے۔ دونوں ایسے منصوبے ہیں ،جن سے نہ صرف غریب عوام کو فائدہ ہو گا ،بلکہ ملک میں ترقی کے نئے راستے بھی کھل جائیں گے ۔پاکستان کی 60 فیصد سے زائد زرعی زمین رکھنے والے ترقی یافتہ صوبے پنجاب کے پٹواری نظام کی وجہ سے با اثر لوگوں نے غریب لوگوں کی زمینوں پر نہ صرف قبضے کئے ہیں، بلکہ کئی کمرشل جگہوں پر بڑے بڑے پلازے بھی تعمیر کئے ہیں۔ ان کا ریکارڈ نہ ہونے اور ان کے مسائل حل نہ کرنے میں پٹواری نظام ہی بڑی رکاوٹ ہے اور اسی پٹواری نظام کی وجہ سے پاکستان کی عدالتوں پر مقدمات کا ایک سیلاب آیا ہے۔ اس وقت پاکستانی عدالتوں میں لاکھوں مقدمات میں سے کئی لاکھ مقدمات کا تعلق زمینوں سے ہے ،جو گزشتہ کئی سال سے حل نہیں ہو رہے ۔اس کی بنیادی وجہ پٹواری نظام ہی ہے۔

میاں شہباز شریف نے اس نظام کو ٹھیک کرنے کا چیلنج قبول کر کے شفافیت اور پاکستان کے غریب عوام کے لئے امید کا ایک نیا دیا روشن کر دیا ہے۔ لیپ ٹاپ سکیم،آشیانہ سکیم،سولر لیمپس سکیم اور میٹرو بس سروس جیسی سکیمیں شہباز شریف نے انتہائی کم مدت میں پوری کیں، لیکن پٹواری نظام کے خاتمے کے مقابلے میں یہ سکیمیں بہت معمولی ہیں ،اس لئے شہباز شریف نے پہلے دن جو اعلان کیا کہ وہ جس کام کو کرنے جارہے ہیں، وہ پٹواری نظام کا خاتمہ ہے ، شہباز شریف اگر اس میں کامیاب ہو گئے تو گزشتہ 65 سال سے پاکستان کے اندر غریب عوام میں جو بے چینی پائی جاتی ہے وہ نہ صرف ختم ہو جائے گی، بلکہ شہباز شریف عوام میں ہیرو بن جائیں گے ۔دوسری جانب اس وقت ملک میں بجلی کا شدید بحران ہے اور چھوٹے کسانوں کو انتہائی شدید مشکلات کا سامنا ہے ،کیونکہ چھوٹے کسان کو نہ بجلی ملتی ہے اور نہ ہی اس کے پاس اتنا سرمایہ ہوتا ہے کہ وہ زرعی جنریٹر لگائے اور نہ اسے چلانے کی سکت ہے، اس لئے شہباز شریف نے ان کو زرعی ٹیوب ویلز مہیا کرنے کا اعلان کر کے پاکستان کی زرعی ترقی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے ۔ اگر شہباز شریف اس منصوبے میں بھی کامیاب ہو گئے تو پاکستان کی زرعی ترقی پچاس فیصد بڑھ جائے گی ،کیونکہ یہ چھوٹے چھوٹے کاشتکار، جو زرعی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں، پاکستان کی زرعی ترقی کے لئے ان کا کردار بڑھ جائے گا۔

میاں شہباز شریف نے غریبوں کے لئے ہیلتھ انشورنس کارڈ بھی جاری کرنے کا اعلان کیا ہے ،تاہم ان تمام منصوبوں میں شہباز شریف کے پٹواری نظام کے خاتمے اور چھوٹے کاشت کاروں کے لئے سولر ٹیوب ویلوں کے اعلان بہت بڑے منصوبے ہیں۔

شہباز شریف نے پنجاب میں اپنی حریف پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مل کر صوبے کے مسائل حل کرنے کا اعلان کر دیا ہے ،اس سے سیاسی پختگی کے ساتھ ساتھ صوبے اور ملک کے اندر سیاسی استحکام بھی آئے گا ۔اس طرح تنقید اور احتجاج کی جو سیاست گزشتہ دور میں پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کے خلاف روا رکھی تھی، اس کے بجائے تعمیری سیاست شروع ہو جائے گی اور شہباز شریف اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے ۔شہباز شریف پنجاب میں گنے کے پھوک سے بجلی بنانے کے منصوبے کے حوالے سے بھی پُر عزم دکھائی دے رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ان کی تمام تیاریاں مکمل ہیں ۔انتخابات سے قبل اس منصوبے پر شہباز شریف نے بہت کام کیا ہے ، اگر انہوں نے اس منصوبے پر فوری عمل کر کے اس کو تکمیل تک پہنچادیا تو پنجاب میں چھوٹی صنعتوں کے لئے بجلی کا جو بحران ہے ،وہ ختم ہو جائے گا اور چھوٹی صنعتوں کو ترقی ملے گی ،جبکہ عام گھریلو صارفین کو بھی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات مل جائے گی۔

خادم اعلیٰ تیسری بار تین سو ارکان کی حمایت لے کر منتخب ہو گئے ہیں ۔ ان کا منتخب ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ شہباز شریف نے گزشتہ پانچ سال میں نہ صرف عوام کی خدمت کی ،بلکہ مسلم لیگ (ن)کو سب سے بڑی پارٹی بنا دیا۔اب شہباز شریف کے بڑے بھائی محمدنواز شریف وفاق میں وزیر اعظم ہیں، اس لئے شہباز شریف کے منصوبوں کی راہ میں وہ رکاوٹیں نہیں رہیں گی، جو گزشتہ حکومتوں نے سیاسی اختلاف پر ان کے لئے کھڑی کی تھیں۔ بجلی کے لئے منگوائی گئی مشینری چار سال سے کراچی پورٹ پر پڑی ہے ،کیونکہ وفاقی حکومت اس کی کلیرنس نہیں دے رہی تھی ،جبکہ بجلی اور دیگر کئی منصوبوں کے لئے شہباز شریف نے بیرونی سرمایہ کار راضی کر لئے تھے ،مگر وفاقی حکومت کی جانب سے گارنٹی نہ دینے کی وجہ سے وہ سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کر سکے، شہباز شریف نے تیسری بار وزیراعلیٰ بننے کے بعد نہ صرف سادگی اختیار کرنے کا اعلان کیا، بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ کوئی بھی وزیر یا مشیر گاڑی پر جھنڈا نہیں لگائے گا اور نہ ہی دفاتر کے لئے نیا فرنیچر خریداجائے گا ،کیونکہ اس وقت ملک کو جو مسائل درپیش ہیں ،اس کے لئے سادگی اختیار کرناپڑے گی۔

میاں شہباز شریف کے اس اعلان کے بعد بیورو کریسی کو اپنا شاہانہ مزاج تبدیل کرنا پڑے گے ،کیونکہ اب وفاق میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے پر چار ایماندار افسروں کو اہم پوسٹوں پر تعینات کرنے کے بعد اب یہ الزامات بھی ختم ہو جائیں گے کہ شہباز شریف افسروں کو تنگ کرنے کے لئے مختلف بہانے ڈھونڈ رہے ہیں اور وفاق کے حامی افسران کو تنگ کر رہے ہیں ۔شہباز شریف نے اپنے پہلے خطاب میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے،سرکاری زمینوں پر یونیورسٹیاں اور کالج بنانے کا اعلان کیا ۔شہباز شریف نے کھل کر اعتراف کیا کہ ہم تھانہ کلچر ختم نہیں کر سکے، پنجاب میں آج بھی تھانوں میں انصاف بکتا ہے ۔شہباز شریف کے اس اعتراف نے ان کے بڑے پن کو واضح کیا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کے لئے ایک جامع پروگرام شروع کرنے والے ہیں۔اگر وہ پنجاب میں تھانہ اور کچہری نظام کو بھی تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی ۔    ٭

مزید : کالم