انتخابی مرحلے کے بعد .... تجدید ِ عہد اور عزمِ نو(3)

انتخابی مرحلے کے بعد .... تجدید ِ عہد اور عزمِ نو(3)
انتخابی مرحلے کے بعد .... تجدید ِ عہد اور عزمِ نو(3)

  


حالیہ انتخابات اور جماعت اسلامی کی حکمت عملی

جماعت اسلامی کے مقصد ، اس کی پالیسی اور اس کے طریق کار کے ان بنیادی نکات کی روشنی میں ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور تحریک اسلامی کے بے لوث کارکنوں کو ہدیہ¿ تبریک پیش کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اپنی تمام بشری کمزوریوں کے باوجود جماعت اسلامی اور اس کے کار کنوں نے حالیہ انتخابا ت میں اپنے بنیادی اصولوں اور اہداف کی روشنی میں پورے اطمینانِ قلب، ذہنی یکسوئی اور عملی انہماک کے ساتھ شرکت کی۔ اس نے قوم کے سامنے اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں ایک واضح پروگرام پیش کیا۔ اس کا منشور ایک ایسی تاریخی دستاویز ہے جس میں پاکستان کے موجودہ حالات کی روشنی میں زندگی کے ہر شعبے کے لئے اصلاح کار کے واضح خطوط کار پیش کیے گئے ہیں اور تحدیث ِ نعمت کے طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مدینہ کے ماڈل کا جو نقشہ جماعت اسلامی کے منشور میں پیش کیا گیا ہے اس کی آوازِ بازگشت دوسری جماعتوں کی انتخابی مہم میں بھی سنی جا سکتی تھی۔

مندرجہ بالا گزارشات کی روشنی میں تین امور بالکل واضح ہیں:

اولاً: جماعت اسلامی محض ایک انتخابی جماعت نہیں وہ اقامت ِ دین کے مقصد کے لئے ایک ہمہ جہتی نظریاتی تحریک ہے، جس نے دین کا ایک واضح تصور ، امت اور انسانیت کے سامنے پیش کیا ہے اور الحمد للہ اس فکر اور اس نقطہ ¿ نظر کے اثرات ملک اور خطے میں ہی نہیں دُنیا کے طول و عرض میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہمار ا اصل ہدف اقامت دین ہے اور سیاسی جد و جہد اس کا ایک حصہ ہے نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔

دوم: جماعت اسلامی نے انسانی زندگی میں تبدیلی کے لئے جو طریق کار اختیار کیا ہے وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی ، قلب کی کیفیات، ذہن کے ادراک، فکر کی تشکیل، کردار کی تعمیر، اداروں کی اصلاح اور معیشت ، معاشرت، ثقافت، قانون اور حکمرانی کے نظام اور آداب کار سب ہی کی نئی صورت گر ی پر محیط ہے۔ یہ طریق کار منہج نبوی پر مبنی ہے اور ہر دور میں مطلوبہ تبدیلی کے لئے یہی طریق کار مو¿ ثر اور کامیاب ہو سکتا ہے۔

سوم: مقصد اور طریق کار کی روشنی میں جو بھی نظام کار ترتیب دیا جائے اور وقتی مصالح، حالات اور چیلنجوں کی روشنی میں جو بھی پالیسیاں ترتیب دی جائیں،نیز مقصد کے حصول کے لئے جو بھی انتظامات اور اقدام کئے جائیں وہ اجتہادی نوعیت کے امور ہیں اور ان پر حالات اور تجربات کی روشنی میں سوچ بچار اور ترک و اختیار کا سلسلہ اصولوں سے وفاداری اور بدلتے ہوئے حالات کے اِدراک کے ساتھ دلیل اور مشاورت سے ہوتے رہنا چاہئے۔ یہ ایک مستقل عمل ہے اور قرآن کے الفاظ میں اس حکمت کا حصہ ہے، جس کی تعلیم نبوت کا ایک اہم وظیفہ تھی۔

جماعت اسلامی نے ملک اور دنیا کے حالات کی روشنی میں جو طریق کار اور جمہوری عمل کے ذریعے تبدیلی کا جو راستہ اختیار کیا ہے وہ اس کے نصب العین کا فطری تقاضا ہے، البتہ ملک میں رائج انتخابی نظام میں کن اصلاحات اور تبدیلیوں کی ضرورت ہے اورپھر انتخابات میں شرکت کی صورت میں سیاسی ایجنڈے کی تشکیل، انتخابی مہم کے طور طریقے، اسلوب اور آداب وغیر ہ میں کیا روش اختیار کی جانی چاہئے اور اس میں کب کس نوعیت کی اور کس حد تک تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ یہ وہ ا±مور ہیں جن میں تجربات کی روشنی میں مشاورت کے ساتھ غور و فکر ہوتا رہنا چاہئے۔ عملی میدان میں کامیابی کے لئے اس عمل کو سنجیدگی سے جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

انتخابی نتائج: چند اہم سوال

2013ء کے انتخابات کے باب میں ایک بڑا اہم سوال انتخابی نظام ، الیکشن کمیشن کے کردار اور اس پورے عمل میں مختلف عناصر اور قوتوں کے کردار کا ہے۔ اس سلسلے میں جن مشکلات اور چیلنجوں کا سابقہ رہا ہے، ان میں سے کچھ کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں۔ اس نظام میں مطلوبہ تبدیلی کی کوششیں پوری دیانت داری اور معاملہ فہمی کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انتخابات تبدیلی کا ذریعہ بنیں اور عوام اس نظام سے مایوس نہ ہو جائیں۔جماعت اسلامی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے گی اور تمام سیاسی جماعتوں اورملک کے سوچنے سمجھنے والے افراد اور اداروں کو اس عمل میں بھر پور شرکت کی دعوت دیتی ہے، اس لئے کہ اگر انتخابی نظام کی اصلاح نہ کی گئی اوراسے ان غلطیوں اور خامیوں سے پاک نہ کیا گیا جو کھل کر سامنے آ گئی ہیں تو انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد ختم ہو جائے گا جو ہر اعتبار سے بڑے خسارے کا سودا ہے۔

دوسرا پہلو جماعت کی اپنی انتخابی مہم ، اس کی پالیسیوں، اہداف اور مقاصد کی کماحقہ وضاحت، اس کے کارکنوں اور ہمدردوں کی خدمات، اور اس سلسلے میں رونما ہونے والے مثبت اور منفی پہلووں کا ہے۔ نیز یہ سوال بھی بہت سے ذہنوں میں موجود ہے کہ کیا تنظیمی یا سیاسی حکمت عملی کے میدانوں میں کسی بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے یا یہ کہ کیا رائج الوقت اداراتی اور انتظامی ڈھانچے ہی کے بہتر اور مو¿ثر استعمال سے ان خامیوں اور کمزوریوں کو دور کیا جا سکتا ہے جن کا تجربہ ہوا ہے؟ یہ سب وہ سوال ہیں جن پر ہمیں پوری دیانت داری سے غور کرنا چاہئے۔ اوپر سے نیچے تک ہر سطح پر مشاورت اور اندرونی حلقوں اور بیرونی مخلصین کے ساتھ تبادلہ ¿ خیال کے ذریعے آیندہ کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی نے اسلام کی روشنی میں قوم کے سامنے ایک واضح راہ عمل پیش کی ، اس نے انتخابات میں جو نمائندے قوم کے سامنے پیش کئے وہ اپنی سیرت و کردار اپنی صلاحیت کار، اور عوامی خدمت کے اعتبار سے بہت نمایاں تھے اور ان پر کسی حلقے سے بھی کسی قسم کی بد عنوانی یا بے قاعدگی کے باب میں انگشت نمائی نہیں کی جا سکی نیز ہمارے کارکنوں نے جس جذبے، اَ ن تھک محنت اور قربانی اور ایثار سے یہ جد وجہد کی وہ بھی اپنی مثال آپ تھی۔ ان سب پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں لیکن ان تمام ا±مور پر قلبی اطمینان کے علی الرغم یہ سوال اہم ہے کہ نتائج ہماری توقعات کے مطابق کیوں نہ ہوئے؟

اس امر کے اعتراف میں ہرگز کوئی مضائقہ نہیں کہ معاشرے کے بڑے حصے تک ہم اپنی دعوت پہنچا ہی نہیں سکے ہیں۔ اپنے پیغام سے ان کو آگہی دے ہی نہیں سکے ہیں۔ جماعت اسلامی کا پیغام قرآن و سنت کی تعلیم کے علاوہ کسی اور شے کا نام نہیں ہے۔ مختلف علاقوں میں بسنے اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ مختلف سماجی تجربوں سے گزر کر قرآن و سنت سے کچھ نہ کچھ ہم آہنگی ضرور پیدا کر لیتے ہیں، مگر دعوت کو مقامی سانچوں کے اندر ڈھال کر پیش کرنے اور اسے پوری بلند آہنگی اور اپنی وسعتوں اور ہمہ جہت مقام کے ساتھ لوگوں کے دلوں میں اتارنے کے لئے شب و روز محنت کی ضرورت ہے، جہاں تک ’دیوانگی‘ اور ’جنون‘ کی کیفیتوں کا تعلق ہے، ہم کہاں تک وہ کیفیات اپنے تمام کارکنوں، معاونین اور ہمدردوں میں کم سے کم مطلوبہ حد تک بھی پیدا کر سکے ہیں؟ بلاشبہہ ہر دور کے اندر کچھ نام، کچھ مثالیں اور کچھ نمونے ضرور دیکھنے میں اور سننے کو ملتے ہیں اور کچھ لوگوں کے رویے واقعی متاثر کن ہوتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی پوری جماعت نے رابطہ عوام کے نتیجے میں عوام کو اپنی دعوت اور پیغام کے ساتھ کہاں تک مکمل طور پرآگاہ اور ہم آہنگ کر لیا ہے؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

الیکشن گھر گھر جا کر دستک دینے ، لوگوں کے دکھوں کو بانٹنے اور ان کے مسائل سے آگہی حاصل کرنے کا نام ہے۔ اس میں ہم کتنے کامیاب ہوئے ہیں یہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ انتخابات کے موقعے پر جو جوش و خروش پیدا ہوتا ہے ،اس کو منظم طریقے سے استعمال کرنے کے نتیجے میں اس کے کئی رخ سامنے آسکتے ہیں۔بے چین، بے کل اور بپھرے ہوئے لاکھوں لوگ سڑکوں پر اژدہام کر کے انقلاب کی منزل کو قریب کرسکتے ہیں ، لوگوں کو یقین سے سرشار کر کے انھیں بڑی قربانی کے لئے آمادہ کر سکتے ہیں۔ دعوت کے ابلاغ اور لوگوں کو ہم نوا بنانے کے حوالے سے آیندہ کا لائحہ عمل کیا ہو؟ دعوت کو کیسے فروغ دیا جائے؟ اور جو رویے ہم اپناتے رہے ہیں ان کو کیسے بہتر بنایا جائے؟ اب تک دعوت کو تحریری اور تقریری طریقوں سے پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے اس میں جدت کیسے پیدا ہو؟ اس پر بھی سوچنا چاہئے۔

ہمارے معاشرے میں انتخابات جیتنے کے لئے جو طریقے اپنائے جاتے ہیں ، جس طرح لائق انتخاب افراد (electables)کو مرکزی کردار دیا جاتا ہے، مقامی سطح پر انتخابی مہم کس طرح چلائی جاتی ہے اور ملکی سطح پر کس طرح لہریں اٹھائی جاتی ہیں، یہ سب امور بھی غور طلب ہیں۔ ان میں سے کون سا طریقہ کس حد تک جائز اور قابل قبول ہے اور کن حدود کا اہتمام ضروری ہے کہ ان کی پامالی سے ساری جدوجہد کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے، لیکن ان کے بغیر اگر یہ بازی سر نہیں کی جاسکتی تو پھر ہم کہاں کھڑے ہیں؟ یہ بھی بڑا قابل ِ غور مسئلہ ہے۔

اسی طرح انتخابات کے حوالے سے بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں۔ لوگ پیسا خرچ کرتے ہیں اور ایک حد تک اس بات کو درست مانا جاسکتا ہے کہ ہمارے پاس اتنا پیسا نہیں ہے جتنا دیگر لوگوں کے پاس ہے لیکن ہمارے پاس اس کا متبادل موجود ہے۔ ہمارا کارکن مفت کام کرتا ہے،پوسٹر اور جھنڈے لگاتا ہے، بلکہ مہمات میں اپنی جیب سے خرچ کرتا ہے۔ دوسری پارٹیوں میں ایسا نہیں ہے۔ان کا تو ٹکٹ بھی لاکھوں روپے دینے کے بعد ملتا ہے۔ اگر شخصیتوں کو بنایا اور کھڑا کیا جائے اور ان کے حوالے سے پیغام کو لوگوں تک پہنچایا جائے تو ہماری معاشرتی روایت کے مطابق لوگ اس شخصیت کی طرف دیکھتے اوراس کی بات سنتے ہیں، اس طرح بعض رکاوٹوں کو بآسانی عبور کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں کہاں احتیاط ضروری ہے اور کہاں نئے تجربات کی ضرورت ہے؟ یہ بھی غور طلب ہے۔

اس پس منظر میں کچھ اور بھی بنیادی سوالات ذہنوں میں کروٹیں لے رہے ہیں۔ خصوصیت سے ترکی، عرب دنیا، ملائیشیا اور دوسرے مسلم ممالک میں اسلامی قوتوں نے جو تجربات کیے ہیں، ان کو بھی غور سے دیکھنے اور ان کے تجربات کی روشنی میں سیکھنے کی ضرورت ہے لیکن اپنے حالات کے مطابق نئی راہوں کی تلاش نہ صرف یہ کہ شجر ممنوعہ نہیں بلکہ وقت کی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ بلاشبہہ یہ راہ مسائل اور مشکلات سے عاری نہیں اور اپنی پیچیدگیاں بھی رکھتی ہے اور امکانات بھی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ انمل بے جوڑ پیوندکاری سے اجتناب کیا جائے اور اپنے حالات کے مطابق ایک سوچے سمجھے عمل کے ذریعے تسلسل کو مجروح کیے بغیر تبدیلی اور نئے تجربات کے امکانات کا جائزہ لیا جائے اور مفید اور قابل ِ عمل اقدامات سے گریز نہ کیا جائے۔

عزمِ نو اور جہد ِ مسلسل کی ضرورت

انتخابات کا مرحلہ گزر جانے کے بعد کارکنان کو از سر نو کمربستہ ہونا چاہیے۔ معاشرے کی قدروں اور ترجیحات، دکھوں اور مسائل اور حالات کو بتدریج ذہن میں رکھتے ہوئے یہ سمجھنا چاہیے کہ بندوں کا کام بندگی کرنا ہے اور بندوں کے رب کا کام ربوبیت اور خدائی کرنا ہے۔ بندے اگر بندگی کا کام پورا کر لیں تو ان کا رب بھی اپنی مشیت کے تحت نئے فیصلے نازل کرتا ہے اور تبدیلیوں کا ایک نیا عنوان د±ور تک پھیلاتا ہے۔ اس پس منظر میں کارکنوں کو تازہ دم اور متحرک رہنا چاہئے اور اپنے اطراف کے معاملات میں دلچسپی لے کر منزل کے حصول کی جانب پیش قدمی کرنی چاہئے۔

تحریک اسلامی ایک جد و جہد اور کش مکش کا نام ہے۔ یہ جد وجہد اور کش مکش ہرزمانے میں جاری رہی ہے، آج بھی جاری ہے اور آیندہ بھی جاری رہے گی۔ فی الحقیقت یہ انبیا وصلحا کا راستہ ہے۔ اس راستے میں اپنے پاﺅں غبار آلود کرنے والے در اصل انبیا کے راستے کے راہ رو ہیں۔ یہ راستہ بہر حال پھولوں کی سیج نہیں، لیکن جو اخلاص کے ساتھ اس راستے پر چلنے کا عزم کرتا ہے، اللہ کی مدد و نصرت اور تائید اس کے ہم رکاب ہو جاتی ہے، اس کا دست و بازو ہو جاتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک اسلامی کا کارکن اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو د±ور کرے۔ جذبہ ¿ صادق اور عزمِ صمیم کے ساتھ منزل کے حصول کے لے جد و جہد کرے اور آگے بڑھے۔ جتنے جذبے خالص ہوتے جائیں گے، منزل قریب آتی جائے گی۔ نشان منزل یہ ہے کہ دُنیا کی بھلائیاں تحریک اور اس کے جلو میں چلنے والوں کا مقد ر بنتی چلی جائیں گی۔چراغ سے چراغ جلے، تاریکیاں چھٹ جائیں اور روشنی اس امت اور انسانیت کا مقدر بن جائے۔اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہمارا حامی و ناصر بن جائے، آمین!(ختم شد)   ٭

مزید : کالم