نئی حکومت، پرانے مسائل

نئی حکومت، پرانے مسائل
نئی حکومت، پرانے مسائل

  


شیر آ بھی گیا تو.... عہد ساز صحافی اور منفرد اسلوب کے کالم نگار عباس اطہر (شاہ جی) مرحوم کی وہ تحریر ہے جو 2010ءکے اوائل میں خطرات میں گھری پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں حالات کی عکاس تھی۔ شاہ جی کا پیپلز پارٹی کے ساتھ قلبی تعلق قائم تھا جو ان کی زندگی کی آخری سانس تک برقرار رہا۔ اگرچہ 2008ءسے 2013ءمیں ان کی وفات سے 2 ماہ قبل تک قائم رہنے والی پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت کی بدعنوانیوں اورانتظامی کوتاہیوں نے شاہ جی کو بھی خاصا دل گرفتہ کر دیا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ پیپلز پارٹی کا مسلسل دفاع اس لئے کرتے رہے کیونکہ ان کے خیال میں جس وقت اسے اقتدار سونپا گیا تھا تو حالات اس قدر گھمبیر ہو چکے تھے کہ ان کا سدھار محض حکومت کے بس میں نہ رہا۔ ملک کے کئی اور تجزیہ کاروں کا بھی خیال تھا کہ 12 اکتوبر1999ءسے 18 اگست2008ءکے درمیان ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہنے والے آمر نے خرابیوں کے اس قدر بیج بوئے، کہ فصل پیپلز پارٹی کی حکومت کو کاٹنا پڑی، اس لئے ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر، توانائی بحران سمیت دیگر بحرانوں کے لئے پیپلز پارٹی کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں۔

16 دسمبر2009ءکو سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی مفاہمتی آرڈیننس المعروف این آر او کو کالعدم قرار دے کر اس سے مستفیض ہونے والوں (بشمول آصف علی زرداری) کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ جس کا مطلب تھا کہ ان شخصیات سے متعلق ختم کئے گئے مقدمات کا از سر نو آغاز کیا جائے۔ ایسے میں صدر آصف علی زرداری اوران کے رفقائے کار کا مستقبل مخدوش نظر آنے لگا اور حکومت مخالف اسٹیبلشمنٹ کے حامی قلمکاروں اور اینکرز نے حکومت کے خاتمے کی تاریخیں دینا شروع کر دیں۔

اسے کہنا کہ دسمبر آ رہا ہے.... آصف علی زرداری کے سابق دوست (جو 2008ءسے 2009ءکے دوران سرکاری ٹی وی کے ایم ڈی رہے)کا نجی ٹی وی سے نشر ہونے والا وہ پروگرام تھا جس میں انہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت کے بہت جلد خاتمے کا اعلان کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس قدر متعصبانہ رویہ مخصوص اینکر کے لئے زہر قاتل ثابت ہوا، ان کی ساکھ بُری طرح مجروح ہوئی اور اب وہ سکرین سے غائب ہو چکے ہیں۔ ایسی ہی صورت حال کا سامنا پیپلز پارٹی کی حکومت کو میمو گیٹ سکینڈل کے بے نقاب ہونے کے بعد بھی کرنا پڑا، لیکن دونوں مرتبہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) (موجودہ حکمران جماعت) نے حکومت کو گرانے کے آسان مواقع ملک میں جمہوری نظام کو سبوتاژ ہونے سے بچانے کے لئے جانے دئیے۔

شاہ جی مرحوم بخوبی جانتے تھے کہ جنرل پرویز مشرف کے 9 سالہ دورِ اقتدار میں ملک کو جن خرابیوں سے دوچار کر دیا گیا ہے ان کا تدارک نئی حکومت کے لئے بھی بے حد مشکل ہوگا۔ اسی لئے2010ءمیں انہوں نے لکھا تھا کہ شیر آ بھی گیا تو اس قدر گھمبیر مسائل کا فی الفور حل کرنا اس کے لئے بھی ممکن نہ ہوگا۔ شاہ جی اب اس دنیا میں نہیں6 مئی 2013ءکو پیپلز پارٹی کی شکست فاش سے قبل ہی وہ دارالفناءسے دار البقاءمیں کوچ کر چکے تھے۔ شاہ جی جا چکے اور شیر نے میدان مار لیا، لیکن یہ اقتدار مسلم لیگ (ن) کے لئے پھولوں کی سیج نہیں، بلکہ اسے اس قدر گھمبیر اور ہمہ جہت مسائل کا سامنا ہے جن کا ماضی میں کسی حکومت نے تصور بھی نہ کیا ہوگا۔

دہشت گردی، امن عامہ کی خراب صورت حال اورتوانائی کے بحران جیسے مسائل تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ دائمی امراض کی شکل اختیار کر کے جونک کی مانند اس ملک کو چمٹ چکے ہیں اوراب تک ان سے چھٹکارا پانے کی تمام تدابیر ناکامی سے دو چار ہوئیں، لیکن ان کے ساتھ ساتھ غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور افراط زر میں ہونے والا مسلسل اضافہ عام پاکستانیوں کی زندگی مشکل سے مشکل تر بنا چکا۔ اقوام متحدہ نے 2006-7ءمیں غربت کے حوالے سے جو رپورٹ پیش کی تھی، اس کے مطابق ملک کی 23.91 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور تھی۔ گزشتہ 6 سال کے دوران اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہااور اب ملک کی نصف آبادی کے لگ بھگ (تقریباً45.8 فیصد) لوگ اس لکیر کو عبور کر چکے۔ 2010-11ءمیں شائع ہونے والی ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کی رپورٹ تو اس سے بھی زیادہ خوفناک منظر پیش کر رہی ہے، جس کے مطابق ملک کی آبادی کا 60.13 فیصد حصہ ایساہے جو یومیہ 2 ڈالر سے کم آمدن پر گزارہ کرنے پر مجبور ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت کا یہ دعویٰ کسی حد تک درست دکھائی دیتا ہے کہ مارچ 2008ءمیں جب اسے اقتدار ملا تو معیشت خستہ حال تھی۔ بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر اور توانائی کے بحران نے بہت سے اداروں کو مفلوج بنا رکھا تھا، لیکن اس کے باوجود گزشتہ حکومت نے نہ صرف ماضی کی حکومت کے پیدا کردہ مسائل کو جوں کا توں رکھا، بلکہ ان مسائل کی کوکھ سے جنم لینے والے ذیلی مسائل کو بھی پیدا ہونے دیا، جس کی بدولت آج ہمیں 2008ءکے مقابلے میں کہیں زیادہ گھمبیر مسائل کا سامنا ہے۔

محسوس یوں ہوتا ہے کہ عوام الناس کی اکثریت بھی اب ملک کے اہم مسائل، لاقانونیت، غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کو فراموش کر کے نو منتخب حکومت سے محض اس بات کی توقع کئے ہوئے ہے کہ وہ توانائی کا بحران حل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو ان کا مینڈیٹ ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔ معاشی تجزیہ کاروں کی اکثریت بھی اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہے کہ ملک کو درپیش معاشی مسائل کا براہ راست تعلق توانائی کے بحران سے ہے، جس کے جنم لینے سے ملک کے صنعتی شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، جس کی بدولت ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ہوئی، صنعتوں کے بند ہونے سے روزگار کے مواقع کم ہوگئے جو ملک میں جاری انتشار اور بدعنوانی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

پیپلز پارٹی کے برعکس مسلم لیگ (ن) کی حکومت اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے ان آئینی مسائل میں اُلجھ کر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا پڑے گا، جن کا سامنا پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت کو تھا۔ 342 کے ایوان میں 124 نشستیں رکھنے والی پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت کو آئینی ترامیم کے لئے اپنے اتحادیوںکے علاوہ حزب اختلاف کی بھی مدد درکار تھی، جس کے حصول کی اس نے اچھی خاصی قیمت چُکائی۔ مسلم لیگ (ن) کی خوش قسمتی ہے کہ وہ تن تنہا سادہ اکثریت کے حصول میں کامیاب ہو کر بیساکھیوں سے آزاد ہے۔ اس لئے وہ روز اول سے بغیر کسی خوف کے عوام کے مسائل کے حل پر توجہ دے سکتی ہے۔ غیر ملکی ڈرون حملوں کا معاملہ ہو ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی بات ہو۔ ملک کے شمال مغربی حصے میں ریاست کی عملداری کا مسئلہ ہو یا بلوچستان میں امن کی بحالی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پاس ان مسائل سے نبرد آزما ہونے کا بھرپور مینڈیٹ موجود ہے۔ آج اگر ایک جانب عوام کی اکثریت مسائل کے پہاڑ تلے دبی جا رہی ہے تو دوسری جانب ملک کی جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ اشرافیہ 3 ٹریلین سالانہ کی بدعنوانی میں ملوث ہے، جس کی بدولت بجٹ خسارہ اور غیر ملکی قرضے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ گردشی قرضوں کا مسئلہ ملک میں جاری توانائی بحران کے حل میں بڑی رکاوٹ ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ان بیش بہا چینلز سے نمٹنے کے لئے سائنٹیفک بنیادوں پر کون سے اقدامات کرتی ہے؟ معاشی اور تکنیکی ماہرین کو ابتدا سے ہی تن دہی سے کام کرنا ہوگا اور ماہانہ بنیادوں پر مختلف منصوبوں کی پیش رفت کے بارے میں جواب طلبی سے جاری منصوبوں کی رفتار بڑھائی جاسکتی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے عوام کو سبز باغ دکھانے کی بجائے حقائق سے روشناس کروایا ہے جو اچھی بات ہے، لیکن گھمبیر مسائل کا ادراک کرنے کے بعد ان کے حل کے لئے کی جانے والی سنجیدہ کوششیں ہی عوام کا حکومت پر اعتماد بحال رکھنے میں معاون ہوں گی۔  ٭

مزید : کالم