مصرمیں غیرمستند مبلغین پر پابندی عائد،خلاف ورزی پرقیدو جرمانہ ہوگا

مصرمیں غیرمستند مبلغین پر پابندی عائد،خلاف ورزی پرقیدو جرمانہ ہوگا

  

قاہرہ(این این آئی)مصری حکومت ملک میں اسلام پسندوں کا اثر و رسوخ کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اب قاہرہ حکومت نے غیر مستند مبلغین پر پابندی عائد کر دی ہے۔ مصری حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے ایک حکم نامے کے مطابق اب کوئی بھی غیر مستند مبلغ نہ تو مساجد میں اسلامی تعلیمات دے سکے گا اور نہ ہی اسے عوامی مقامات پر اسلام کی تبلیغ کرنے کی اجازت ہو گی۔ حکمنامے کے مطابق اگر کوئی شخص اس حکم نامے کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تواس پر سات ہزار امریکی ڈالر تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور اسے ایک سال کے لیے جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے اشخاص پر جامعہ الازھر کی جانب سے مبلغین کے لیے مقرر کردہ لباس پہنے کی بھی ممانعت ہو گی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو پکڑنے کے سلسلے میں مذہبی امور کی وزارت کے چند ملازمین کو وزارت انصاف کی جانب سے اضافی اختیارات دیے گئے ہیں۔ وزارت مذہبی امور کے بیان کے مطابق، اگلے جمعے سے کوئی بھی مبلغ بغیر سرکاری اجازت نامے مسجد کے منبر پر قدم نہیں رکھ سکے گا۔

یہ فیصلہ قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ قاہرہ حکام نے بتایا کہ اپریل میں سترہ ہزار مبلغین کو مسجدوں میں خطبے دینے کے اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ وہ مساجد کو عسکریت پسندوں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ اس طرح 12 ہزار غیر مستند مبلغین کو ہٹایا بھی گیا ہے۔ اس حکم کے مطابق وزارت مذہبی امور کے ماہرین یا پھر جامعہ الازھر سے سند یافتہ مبلغین ہی عوامی مقامات یا مساجد میں اسلام کی تبلیغ یا تعلیمات بیان کرنے یا پھر خطبے دینے کے اہل ہوں گے۔ مصرکی زیادہ تر آبادی اپنی قریبی مساجد میں نماز ادا کرتے ہیں۔ یہ مساجد اکثر چھوٹی ہوتی ہیں اور ان میں کوئی بھی غیر متعلقہ شخص داخل ہو کر اپنی مرضی کی تعلیمات دے سکتا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -