مشرق وسطی میں امن کا قیام ایک فرض اور مقدس مشن ہے،اسرائیلی وزیراعظم

مشرق وسطی میں امن کا قیام ایک فرض اور مقدس مشن ہے،اسرائیلی وزیراعظم

  

ویٹی کن سٹی/مقبوضہ بیت المقدس(این این آئی)رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے اسرائیلی اور فلسطینی صدور پر زوردیا ہے کہ وہ مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے اپنے عوام کی خواہش کا جواب دیں اور غیر متزلزل انداز میں مذاکرات کا عمل جاری رکھیں،انھوں نے اسرائیلی صدر شمعون پیریز اور فلسطینی صدر محمود عباس سے یہ اپیل ویٹی کن میں منعقدہ مشترکہ دعائیہ تقریب کے موقع پر کی ،ویٹی کن کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ عیسائیوں ،مسلمانوں اور یہودیوں نے اکٹھے عبادت کی ہے اور مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے دعا کی ہے۔پوپ نے اس موقع پر اپنی تقریر میں تنازعات سے بچنے اور تشدد سے گریز پر زوردیا اور کہا کہ اشتعال انگیزی کے اقدامات سے بچتے ہوئے دوطرفہ سمجھوتوں کا احترام کیا جائے۔منافقت کے بجائے اخلاص کو ترجیح دی جائے۔ پاپائے روم نے اس امید کا اظہار کیا کہ ویٹی کن میں اس مشترکہ دعائیہ تقریب سے مشرق وسطی میں تعطل کا شکار امن عمل بحال ہوگا۔تاہم ویٹی کن نے واضح کیا ہے کہ فلسطینی اور اسرائیلی صدور کے درمیان ملاقات میں خطے کے دیرینہ مسائل کے حل یا امن مذاکرات کی بحالی کے لیے فوری طور پر کسی نمایاں پیش رفت کا امکان نہیں ہے۔

اس کا مزید کہنا ہے کہ وہ خطے کے علاقائی ایشوز میں کوئی مداخلت نہیں کرتا ہے۔شمعون پیریز نے اپنی تقریر میں کہا کہ مشرق وسطی میں امن کا قیام ایک فرض اور مقدس مشن ہے۔یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے امن قائم کریں۔یہ والدین کا فرض اور مقدس فریضہ ہے۔ادھرفلسطینی صدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ تنازعے کے حل کو تلاش کرنے سے روکا نہیں جانا چاہیے تاکہ ہمارے لوگ ایک خود مختار ریاست میں رہ سکیں۔

مزید :

عالمی منظر -