ان لینڈ ریونیو کے آڈٹ آفیسرز ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود ترقی کے منتظر

ان لینڈ ریونیو کے آڈٹ آفیسرز ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود ترقی کے منتظر

  

لاہور(کامرس رپورٹر) ان لینڈ ریونیو کے آڈٹ آفیسرز کو ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود ترقی نہیں دی جارہی۔ ایف بی آر اپنے 260افسران کو ان کی شناخت اور حق دینے کے لیے تاخیری حربے استعمال کررہا ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار آڈٹ آفیسرز کا معاشی قتل ہونے سے بچائیں۔ آڈٹ آفیسرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ایف بی آر کی طرف سے 13سال گزر جانے کے باوجود آڈٹ آفیسرز کی ترقی اور ان کے اختیارات کا حق تسلیم نہ کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے اکتوبر 2007ءمیں ایف بی آر کو حکم جاری کیا تھا کہ آڈٹ آفیسرز کو اگلے گریڈ میں محکمانہ ترقی دیتے ہوئے انہیں اسسٹنٹ کلکٹر پروموٹ کیا جائے لیکن ایف بی آر میں اعلیٰ افسران کی مخصوص لابی آڈٹ آفیسرز کو ان کے حق سے محروم رکھنے کے لیے تاخیری حربے استعمال کرتی آرہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سیلز ٹیکس کا محکمہ 1996میں قائم کیا گیاجس میں کسٹمز گروپ کے افسران نے سیکشن 10کے تحت گریڈ سترہ سے گریڈ بیس کی پوسٹ سنبھال لیں۔لیکن فروری 1997میں نگران حکومت کے فیصلے کے بعد سیلز ٹیکس کو کسٹمز وایکسائز میں ضم کردیا گیا۔ بعد ازاں گریڈ سترہ میں محکمانہ ترقی کا فائدہ صرف کسٹمز کے گریڈ سولہ کے افسران کو دیا گیا جبکہ سیلز ٹیکس کے گریڈ سولہ کے افسران کی محکمانہ پروموشن میں رکاوٹیں ڈالی گئیں ۔

 اس دوران ان لینڈ ریونیو سروس کے نام سے نیا محکمہ بنا دیا گیا اور اس بار انکم ٹیکس گروپ کے افسران نے محکمانہ پروموشن میں رکاوٹیں ڈالنی شروع کردی ہیں۔سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد 2009ءمیں فیصلہ کو جزوی طور پر نافذ کرتے ہوئے کچھ آفیسرز کو پروموٹ کیا گیا۔ اس سازش سے 260آڈٹ آفیسر ز کے مستقبل اور ترقی کا قتل کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ فنانس بل 2012-13میں انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 210میں ترمیم کرکے سیلز ٹیکس کے ان لینڈ ریونیو آڈٹ آفیسرز کے اختیارات ختم کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ انکم ٹیکس کے افسران کے اختیارات بحال رکھے گئے جس پر آڈٹ آفیسرز نے ہر فورم پر احتجاج کیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ بھی دائر کی، جس کی وجہ سے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 210میں مجوزہ ترمیم نہ ہوسکی۔اس کے بعد سے سیلز ٹیکس کے ان لینڈ ریونیو آڈٹ آفیسرز کیساتھ امتیازی سلو ک زیادہ شدت کیساتھ جاری ان کو یونٹ انچارج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور اس وقت انکم ٹیکس کے گریڈ سولہ کے افسران سیلز ٹیکس کے گریڈ سترہ کے افسران کا کام کررہے ہیں جس کی وجہ سے ریونیو ٹارگٹس بھی بُری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ آڈٹ آفیسرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے وزیراعظم اور وزیر خزانہ سے اپیل کی کہ انہیں ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق اپنا حق دلوایا جائے۔

مزید :

کامرس -