حکومت کے خلاف تحریک چلانے والے جلدی میں کیوں ہیں؟

حکومت کے خلاف تحریک چلانے والے جلدی میں کیوں ہیں؟
حکومت کے خلاف تحریک چلانے والے جلدی میں کیوں ہیں؟
کیپشن: haneef khan

  

مارشل لاءکا خواب رواں سال مئی کے اندر نہیں دیکھا گیا بلکہ اسے بعض سیاسی و مذہبی جماعتوں نے دسمبر 2013سے ہی دیکھ لیا تھا یعنی مسلم لیگ ن کی حکومت کے تشکیل ہونے کے چار پانچ ماہ کے بعد ،اس خواب کی تعبیر کے پیش نظر بعض سیاسی اور مذہبی شخصیات پروگرام مرتب کرنے کے لئے میدان میں اتر آتی تھیں۔ ذرائع نے واضح کردیا تھا کہ کہ عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے درمیان رابطے ہیں اور انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ-15 2014کابجٹ پیش ہونے کے بعد ہی عوام کو سڑکوں پر لایا جائے گا اس سلسلے میں باقاعدہ تحریک چلائی جائے گی اس تحریک میں تحریک انصاف کو شامل کرنے کی ذمہ داری شیخ رشید کو سوپنی گئی جبکہ دیگر چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کو اس تحریک کا حصہ بنانے کے لئے بھی مشترکہ کوششیں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا ایجنڈا ہویا عمران خان کا منشور، مسلم لیگ (ن) کے اعلانات ہوں یا پیپلزپارٹی کے بیانات ،سب کے سب متاثر کن ثابت ہوتے ہیں خیر سے اس شخص کا تذکرہ کرنا تو بھول ہی گیا ہوںجس کوعوام بڑے شوق سے سنا کرتے تھے مگر آج اس اعتبار سے سکرین یا پرنٹ میڈیا کی زینت نہیں بنتے جس طرح پہلے بنتے تھے ۔ وہ ہیں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید ،جو بات اس انداز میں کرتے ہیں جیسے وہ اقتدار میں آئیں گے یا وزارت سنبھالیں گے تو الہ دین کا چرا غ لئے سب کچھ ٹھیک کردیں گے لیکن عوام ماضی میں انہیں بھی آزما چکے ہیں اور ےہ بات بھی قوم جانتی ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے انہیں انکی ناقص کارکردگی کی وجہ سے وزارت اطلاعات و نشرےات سے ہٹا کر ریلوے کی وزارت سونپ دی تھی قوم جانتی ہے کہ انہوں نے ریلوے میں کس قدر ”انقلاب برپا“کیا ، کتنے تیر چلائے ہیں۔ اس کا ذکر ریلوے پر لکھے جانے والے کالم میں کروں گا ۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا ایجنڈا انقلابی ہے انہوں نے انقلابی ایجنڈ ا پیش کرکے عوام کی ترجمانی کی ہے ٹیکس چوروں کو بھگانے اور موروثی سیاست کے خاتمے کاعہد کرچکے ہیں انتخابی نظام میں اصلاحات اور اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے میدان میں نکلنے کا اعلان کیا ہے اس سلسلے میں ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے مریدوں اور اپنی درسگاہوں کے طالبعلموں کو تیاری کرنے کی بھی ہدایت کردی ہے ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے آپ کو انقلابی قائد منتخب کرلیاہے اورانہوں نے عوام کی قیادت کے لئے کینیڈاسے واپس پاکستان آنے کی نوید سنادی ہے اور وہ انقلاب کی جلد امامت کے لئے نکلیں گے۔ مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتے ہیں ڈاکٹرطاہر القادری جو انقلابی ایجنڈ لے کر نکلیں گے وہ کہیں خود اس ایجنڈے کی زد میں تو نہیں آتے ،کیونکہ ڈاکٹر طاہر القادری کتنے پراپرٹی ٹیکس سمیت دیگر ٹیکس اداکرتے ہیں ان کے بارے میں تو ایکسائز ہی بہتر بتاسکے گا لیکن ہاں مجھے یہ ضرور معلوم ہے کہ جب ڈاکٹر طاہر القادر ی جنوری2013میں لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد جارہے تھے تو انہوں نے راستے میں جتنے بھی ٹول پلازے آئے یہاں ایک روپیہ بھی ٹیکس ادا نہیں کیا۔کم ازکم 80سے زائد گاڑیاں ٹیکس ادا کئے بغیر ہی اسلام آبادتک پہنچیں،لہذ ا ڈاکٹر طاہر القادری کس قدر ٹیکس دینا پسند کرتے ہیں مجھے اسی روزخوب اندازہ ہوگیا۔

 ڈاکٹرطاہر القادری کیسے اقتدار اور وسائل میں عوام کو حصہ دار بنائیں گے ماضی کے عمل سے یہ صرف بیا ن ہی لگ رہا ہے کیونکہ ان کی قیادت میںاسلام آباد ڈی چوک دھرنے کے دوران کھلے آسمان تلے دھرنے کے شرکاءباہر سردی میں ٹھٹھر رہے تھے اور موصوف کنٹینر میں اپنے بچوں کے ہمراہ آرام فرما رہے تھے۔باہر صحت کے لئے نقصان دہ سرد ہوائیں چل رہی تھی اور ڈاکٹر طاہر القادر ی کنٹینر میں ہیٹر کے قریب گرمائش سے لطف اندوز ہورہے تھے اور اس ہیٹر کی وجہ سے انکے ماتھے پر جو پسینہ آر ہا تھا وہ بھی ٹیلی ویثرن کی سکرین کے ذریعے پوری قوم نے دیکھا لیکن سردی کی وجہ سے ننھے منے بچوں کی نمونیا سے حالت بگڑ رہی تھی اور موصوف ڈاکٹر ان بچوں کی عیادت کرنے سے بھی قاصر تھے اور ایک منٹ کے لئے بھی آسائش سے بھرے کنٹنر سے باہر نہیں آئے اور انہوں نے ےہ اخلاقی مظاہرہ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا کہ میرے جو مرید اپنے اہل خانہ کے ساتھ میری آواز پر ےہاں آئے ہیں انکی خیریت ہی درےافت کرلوں ابھی تو انہیںاقتدار میں آنے کا موقع نہیں ملا اگر وہ حکومت میں آگئے تو عوام کی کتنی خبر رکھیں گے اس کا اندازہ عوام کو اس عمل سے خود ہی لگا لینا چاہئے۔

ڈاکٹر طاہر القادی نے موروثی سیاست کا خاتمہ کرنے کا اعلان کرکے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت کئی سیاسی جماعتوں کی دل آزاری کی ہوگی لیکن ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے چونکہ وہ ہمارے دل کی آواز کو اپنی زبان پر لائے ہیں ہماری بھی تمنا ہے کہ اس ملک سے موروثی سیاست کا خاتمہ ہوسکے نسل در نسل اقتدار منتقل ہونے کی لڑی تھم سکے ۔جب یہ لڑی تھمے گی تو تب ہی ملک میں صحیح معنوں میں جمہوریت ہوگی۔ ڈاکٹر طاہر موصوف خود اپنی جماعت عوامی تحریک میں موروثیت کا کتنا خاتمہ کرچکے ہیں اس کے بارے میں جاننا مشکل نہیں ،جب 11مئی 2014کواحتجاجی ریلی نکالی گئی تو لاہور میں ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اورراولپنڈی میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ریلی کی قیادت کی ۔ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اورڈاکٹر حسین محی الدین قادری دونوں ڈاکٹر طاہر القادری کے صاحبزادے ہیںڈاکٹر صاحب کوچاہیے کہ وہ نسل در نسل اقتدار(پارٹی عہدہ) منتقل کرنے کا خاتمہ پہلے اپنی جماعت سے کریں۔جب تک وہ موروثی سیاست کا خاتمہ اپنی جماعت سے نہیں کریں گے تو اس وقت تک دوسروں پر انگلی اٹھانے کا عمل سود مند ثابت نہیں ہوسکے گا۔

رہا معاملہ مستقبل میں چلائی جانے والی وفاقی حکومت کے خلاف تحریک کا،یہ تحریک مسلم لیگ ق ،تحریک انصاف ،عوامی تحریک اورعوامی مسلم لیگ کی طرف سے چلائے جانے کا امکان ہے ۔اس کے لئے گرینڈ الائنس ابھی تو نہیں بن پایا تحریک چلانے والوں کے بیانات سے واضح ہے کہ وہ ملک میں مارشل لاءیا نئے ماڈل کی جمہوریت چاہتے ہیں۔لیکن ذرائع اس کا کہنا تھا کہ اس نظام حکومت کو ختم کردیا جائے گا اور ٹیکنوکریٹ پر مشتمل نئی حکومت تشکیل دی جائے گی ۔موجودہ حکومتوں کے خاتمے کے لئے سڑک پر عوام کو نکالا جائے گا اس تحریک میں چھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں کو شامل کیا جائے گا۔

حکومت کے خلاف زوردارتحریک چلانے میں سب سے بڑا کردار تحریک انصاف کا ہوگااگرچہ خیبر پختونخواہ میں ان کی کارکردگی متاثر کن نہیں رہی لیکن ابھی بھی عمران خان کے پاس سٹریٹ پاورہے ان کے کارکنوں کے جذبات کم ضرور ہوئے ہیںمگر وہ عمران خان کی پکارپر سڑکوں پر نکلنے سے گریز نہیں کریں گے۔

حکومت کو گرانے کاروزانہ خواب دیکھنے والے اوراس خواب کی تعبیر کے لئے تحریک چلانے کے خواہشمند عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیداحمدجو آجکل زیادہ ہی بے چین ہیں ان کے خواب کی تعبیر یہاں تک تو ہوگئی ہے کہ عمران خان ،ڈاکٹر طاہر القادری اور چودھری شجاعت حسین کی کال پر انکے کارکنوں نے سڑکوں پر آنا شروع کردیا ہے احتجاجی مظاہروں کا آغازبھی ہوگیا ہے تھوڑی بہت سیاسی ہلچل بھی پیدا کی گئی ہے ،ایک دوسرے کی مخالف جماعتیں تحریک انصاف ،مسلم لیگ ق سمیت دیگر جماعتوں نے پس پردہ اور ظاہری طور پرملاقاتوں کا آغاز کردیا ہے مستقبل میں ان جماعتوں کا مل کر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا امکان ہے ۔اس سارے منصوبے کے بانی شیخ رشید کے دل کو سکون تو ضرور ملے گا لیکن یہ بات انہیں ضرورمدنظر رکھنی چاہیے کہ اس تحریک کے نتیجے میں ملک کو کتنا نقصان پہنچے گا۔یہ حکومت جیسی بھی ہے ان اقدامات کو دیکھنا ہوگا جس کے پیش نظر بیرون ممالک سے پاکستان میں سرمایہ کاری آرہی ہے سٹاک مارکیٹ تیزی میں ہے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے منصوبے لگ رہے ہیں کرپشن سکینڈ ل تاحال کوئی سامنے نہیں آیا لہذاان تمام مثبت صورتحال کے پیش نظر شیخ رشید کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت برداشت کرلینی چاہیے اور اس حکومت کو کھل کر کام کرنے دینا چاہیے جبکہ بے روزگاری اور تھانے کلچر کے خاتمے کے لئے تعمیری تنقید ضرور کرنی چاہیے ذاتی مفادات اور خواہشات کے لئے بلاجواز پوائٹ سکورنگ سے گریز کرنا چاہیے ۔اس تنقیدکا بہترین فورم پارلیمنٹ ہے نہ کہ سڑک۔ ٭

مزید :

کالم -