حقیقت ،خواہش سے آگے!

حقیقت ،خواہش سے آگے!
 حقیقت ،خواہش سے آگے!
کیپشن: fiaz ahmad waraich

  


ہمارے ایک جاننے والے ہیں، انہیں بیٹے کو ڈاکٹر بنانے کا کچھ زیادہ ہی جنون تھا ۔اپنے اسی شوق کو پالنے کے لئے انہوں نے اپنی مالی حیثیت کا سہارا لے کر بچے کو پرائیویٹ میڈیکل کالج میں داخل کرا دیا ۔دو سال گزر گئے، کالج انتظامیہ کی پوری کوشش کے باوجود بچہ کوئی امتحان پاس نہ کر سکا تو پرنسپل نے بچے کے والد کو بلایا اور اسے سمجھانے کی کوشش کی اور مشورے کچھ یوں دےئے کہ حضور ! ہماری لاکھ کوشش کے باوجود آپ کے برخوردار میں ڈاکٹر بننے کے جراثیم نہیں ملے،البتہ اس میں ایک کامیاب پراپرٹی ڈیلر بننے کی تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ یقین کریں پراپرٹی کے کام میں اس کا دماغ اس کی قسمت سے بھی زیادہ تیز چلے گا اور یہ وہ مکان اور پلاٹ بھی بیچنے کی مہارت رکھتا ہے جو ابھی زمین پر موجود ہی نہیں ویسے اگر اسے گاڑیوں کا شو روم بھی بنا دیا جائے تو اس کی ترقی کی رفتار دیکھنے والی ہوگی ۔ والد صاحب کو پرنسپل کی بات ناگوار گزری، کہنے لگے: جناب! مجھے تو اپنے گھر کے باہر اپنے بیٹے کی ڈاکٹر کے نام کی پلیٹ لگانی ہے ، کام چاہے یہ کوئی بھی کرے۔

اپنے بچوں کو اپنی مرضی کے مطابق پروفیشنل بنانے کی خواہش ہمیشہ سے والدین کے ذہن میں رہی ہے۔ آج کل ہمارے ہاں اتنی اکیڈمیاں قائم ہو گئی ہیں جو اپنے اشتہار میں اس بات کی گارنٹی دیتی ہیں کہ آپ نے اپنے بیٹے کو انجینئر، ڈاکٹر، چارٹر اکاؤنٹینٹ یا سول سروس کا مغل شہزادہ بنانا ہے تو ہم سے رجوع کریں اوراپنی خواہش پوری کریں ۔ اس چکر میں اکیڈمیاں کروڑوں روپے بٹور رہی ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ کامیابی صرف انہی طالب علموں کو ملتی ہے جو محنت کرتے ہیں۔ اکیڈمیاں صرف ان کے نام اور نمبر چھاپ کر اس بات کا کریڈٹ لیتی ہیں ،طالب علموں کی اکثریت جو بھاری فیسیں ادا کرنے کے باوجود ناکام ہو جاتی ہے، اکیڈمیاں ان کا ذکر تک نہیں کرتیں۔

ایک زمانہ تھا جب ہم گاؤں میں پڑھتے تھے، مرزا شوکت نامی ایک ٹیچر جو شہر سے گاؤں پڑھانے آتے تھے، ان کا معمول تھا کہ آتے ہی طالب علموں سے دیسی لسی منگواتے۔ پھر بچوں کو مسواکیں لینے کے لئے بھیج دیتے۔اس کے بدلے میں وہ سالانہ امتحان میں سوال کی بجائے بچوں کو جواب لکھوادیتے ۔بظاہر نتیجہ سو فیصد ہوتا،لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ جب نویں جماعت کے داخلے کے لئے ہم نے شہر کے سکول کا رُخ کیا تو ہماری کلاس کے پچاس لڑکوں میں سے شائد ہی کوئی داخلے کے لئے شہر پہنچ سکا۔ ہمارے کلاس فیلو مرزا صاحب کی محبت سے جو کاروبار کر رہے ہیں، اس کی ایک مثال یوں ہے کہ پچھلے دنوں دریائے چناب کے پل پر ایک قلفیاں فروخت کرنے والا ہمارے پاس آیا، ہمیں بڑی آؤ بھگت سے قلفی کھلائی اور یاد دلایا کہ جناب والا ! ہم کلاس فیلو رہے ہیں اور مرزا صاحب کے لئے آپ کے ساتھ مل کر لسی اور مسواکیں لانے کا اعزاز انہیں بھی حاصل ہے ۔

یہ باتیں اپنی جگہ، دیکھا جائے تو آج کے جدید دور میں بھی بچوں کی تعلیم کے حوالے سے دو نقطہ نظر پائے جاتے ہیں۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ بچوں کو تعلیم دینے کے لئے بھرپور سختی کرنی چاہئے، جبکہ دوسرا گروپ بچوں کے ساتھ نرمی کا حامی ہے،حالانکہ یہ دونوں طریقے ناکام ہیں ۔نرمی کرو یا سختی، نتیجہ وہی آنا ہے جو بچے نے سوچا ہوا ہے۔ مار ۔۔۔ یا پیار سے ! والدین اور اساتذہ اپنے دل کو تسلی دے سکتے ہیں، لیکن بچے کا کیرئیر نہیں بنا سکتے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہمارے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بھی ہیں ۔ان کی پوری کوشش ہے کہ اس قوم کی حالت بدلی جائے ،ہر لمحہ اسی فکر میں ہیں کہ اس ملک کو درپیش مسائل کو حل کیا جائے۔۔۔ پچھلے دنوں تو انہوں نے ایک جلسے میں باقاعدہ ہاتھ باندھ دےئے ،کہ خدا کے لئے ! اس ملک کو چلنے دیں۔

وہ دل و جان سے چاہتے ہیں کہ اس ملک سے اندھیرے چھٹ جائیں۔ عوام لوڈشیڈنگ کے عذاب سے آزاد ہو جائے،نوجوانوں کو روزگار مل جائے ،کارخانے چلتے رہیں، مزدور کے گھر میں چولہا جلتا رہے، ملک کا انفراسٹرکچر جدید ترین بن جائے، امن وامان ایسا ہو کہ شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پئیں، تعلیم اور صحت کی جدید ترین سہولتیں عوام کو گھر کی دہلیز پر ملیں، لوگوں کو انصاف ملے ، مظلوم کی داد رسی ہو ۔ ظالم اپنے انجام تک پہنچے،ایسے ہی بے شمار خواب میاں صاحب اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں ۔ہمارے ایک صحافی دوست ہیں جو ذہنی طور پر پراپرٹی ڈیلر یا شوروم کے مالک لگتے ہیں، لیکن بات صحیح کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میاں صاحب کی کوششیں اور خواہشیں اپنی جگہ۔۔۔! لیکن ہمارا معاشرہ بھی اسی لاڈلے بچے کی طرح بگڑا ہوا ہے، جس پر والدین اور اساتذہ کی نرمی یا سختی کا کوئی اثر نہیں پڑتا اور اس نے وہی کرنا ہے، جو اس نے سوچا ہے اور اس نے وہی بننا ہے،جو اس کے من میں ہے ۔ *

مزید :

کالم -