لکھنے اور بولنے والے کتے بھی جرمن فوج میں شامل تھے

لکھنے اور بولنے والے کتے بھی جرمن فوج میں شامل تھے
لکھنے اور بولنے والے کتے بھی جرمن فوج میں شامل تھے
کیپشن: German dogs

  

برلن (نیوز ڈیسک) دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھنے والے ہٹلر نے اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے جہاں خوفناک فوج اور گولہ بارود تیار کیا وہیں کچھ انتہائی مضحکہ خیز ہتھیار بھی تیار کئے جن میں سے ایک بولنے والے کتے بھی تھے۔ کارڈف یونیورسٹی کے ڈاکٹر بونڈرسن کی تحقیق سے نکشاف ہوا ہے کہ نازی جرمن کتوں کو بھی انسانوں کی طرح ہی عقلمند سمجھتے تھے اور انہوں نے دوسری جنگ عظیم میں استعمال کرنے کیلئے بولنے والے کتوں کی ایک فوج تیار کرنے کا ایک پروگرام شروع کر دیا۔ہٹلر کا خیال تھا کہ کتوں کوبولنے کی تربیت دی جا سکتی ہے اور اس مقصد کیلئے ایک خصوصی سکول بھی قائم کیا۔ جرمن ڈکٹیٹر کا خیال تھا کہ یہ تربیت یافتہ کتے اس کے ایس ایس گارڈ کے سپاہیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ جرمنی کے طول و عرض سے زہین کتوں کو بھرتی کر کے اس سکول میں تربیت کیلئے لایا گیا۔ ان بولنے والے کتوں میں سے ایک کے بارے میں مشہور ہے کہ جب اس سے ہٹلر کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ کون ہیں تو اس نے جواب دیا’’مین فیوہرر‘‘ یعنی یہ میرے قائد ہیں۔ ایک اور کتے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے بنجوں کے اشاروں سے بات کر سکتا تھا اور فلسفے اور شاعری کے بارے میں اظہار خیال کر سکتا تھا۔ ڈاکٹر بونڈرسن کا کہنا ہے کہ نازی جرمنوں کو اس پراجیکٹ میں کسی حد تک کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ انہوں نے یہ انکشافات اپنی کتاب ’’امیزنگ ڈاگز‘‘ میں کئے ہیں۔

مزید :

تفریح -