تفتان! زائرین پر حملہ، افسوسناک سانحہ!

تفتان! زائرین پر حملہ، افسوسناک سانحہ!

  

ایران سے آنے والے زائرین پر خود کش حملوں اور فائرنگ کی وجہ سے 23 افراد جا ں بحق اور بیسیوں زخمی ہو گئے۔ یہ حملے ایران اور پاکستان کی سرحد پر واقع تفتان کے دو ہوٹلوں میں کئے گئے جہاں زائرین ٹھہرے ہوئے تھے، بسوں کے ذریعے آنے والے یہ زائرین المرتضیٰ اور الہاشمی نامی ہوٹلوں میں مقیم تھے ان میں خواتین اور بچے بھی تھے۔ یہ زائرین بسوں کے ذریعے آئے اور رات کے لئے ان ہوٹلوں میں قیام کیا تھا، پہلے ایک ہوٹل میں دو خود کش حملہ آواروں نے یکے بعد دیگر خود کو اڑایا اور پھر باہرسے آنے والوں نے فائرنگ کی دوسرے ہوٹل میں پہلے فائرنگ اور پھر دھماکے ہوئے۔ یوں ایک بار پھر زائرین نشانہ بن گئے۔ اس سے پہلے جو حملے ہوئے وہ بسوں پر اس وقت ہوئے جب بسیں کوئٹہ کے نزدیک پہنچ گئی تھیں اس مرتبہ حملہ کوئٹہ سے سات سو کلومیٹر کے فاصلے پر پاک ایران سرحد کے قریب شہر تفتان میں ہوا، اس مرتبہ جیش الاسلام نامی تنظیم نے ذمہ داری لی ہے۔

یہ انتہائی افسوسناک سانحہ ہے جس میں بے گناہ زائرین نشانہ بنے ہیں اس سے پہلے بھی بسوں والے زائرین نشانہ بنتے رہے ہیں، کچھ عرصہ قبل حکومت نے طے کیا تھا کہ زائرین کے لئے محفوظ راستے کا انتظام کیا جائے گا اور فیری سروس شروع کر کے سمندری راستے سے بھجوایا اور واپس لایا جائے گا تا حال یہ سلسلہ شروع نہیں ہو سکا اور زائرین نے بسوں پر سفر جاری رکھا، بسوں کی حفاظت کے لئے سیکیورٹی کے دستے ہمراہ ہوتے ہیں، لیکن یہاں تو ہوٹلوں پر خودکش حملے اور فائرنگ کی گئی۔

اس سانحہ پر دکھ کا جتنا بھی اظہار کیا جائے کم ہے کہ مسلک کے اختلاف پر یوں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا خون بہے، بلوچستان شدت پسندی کے حوالے سے پہلے ہی مسائل کا شکار ہے۔ یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا یہ درست ہے کہ دھماکوں اور فائرنگ کے بعد سیکورٹی حکام بھی حرکت میں آئے اور انہوں نے جوابی فائرنگ کی جس میں ایک حملہ آور ہلاک ہوا جبکہ چار نے خود کو دھماکوں سے اڑالیا خبر یہ ہے کہ سیکورٹی حکام اور مزید نفری موقع پر پہنچ گئی۔ حملہ آواروں کی تلاش شروع کر دی گئی ا ور زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے تفتان سے سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر ایسے انتظامات کرنا ہوں گے کہ ایسے واقعات نہ ہوں۔

مزید :

اداریہ -