نئے بھارتی مشیر قومی سلامتی کا کارنامہ؟

نئے بھارتی مشیر قومی سلامتی کا کارنامہ؟

  

جوڑ میلہ کی تقریبات میں حصہ لینے کے لئے بھارت سے چار سوسے زائد سکھ یاتری پاکستان آئے ہیں جو قریباً ایک ہفتے تک یہاں قیام کریں گے اور اپنی مذہبی رسومات میں حصہ لیں گے۔ پاکستان میں متروکہ وقف املاک بورڈ کی طرف سے یاتریوں کی خدمت کے لئے خصوصی انتظامات اور انتظامیہ کی طرف سے سخت سکیورٹی مہیا کی گئی ہے۔سکھ یاتریوں کی آمد معمول کی بات ہے تاہم اس مرتبہ بھارت کی طرف سے ان کی آمد کو ایک نیا ہی رخ دے دیا گیاہے جو تعجب کا باعث بنا ہوا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارت کے نئے وزیر اعظم نریندر مودی کے نئے قومی سلامتی کے مشیر نے اپنے کرتب دکھانا شروع کر دیئے ہیں۔

میزبانوں کی طرف سے یاتریوں کے لئے جن میں بوڑھے ، خواتین اور بچے بھی ہیں خصوصی ٹرین کا اہتمام کیا جو معمول کی کارروائی کے بعد اٹاری ریلوے سٹیشن(بھارت) پہنچ گئی تھی کہ یاتریوں کو لے کر پاکستان آئے لیکن بھارتی حکام نے یاتریوں کو ٹرین کے ذریعے بھیجنے سے انکار کر دیا اور یہ کہہ کر ٹرین واپس کر دی کہ پاکستان میں ٹرینوں پر حملے ہو جاتے ہیں پھر ان یاتریوں کو بسوں کے ذریعے سرحد پر پہنچایا گیا اور پھر یہ پیدل سرحد پار کر کے واہگہ سے سڑک کے ذریعے باہر آئے۔ یہاں ان یاتریوں کو بسوں میں بٹھا کر لاہور ریلوے سٹیشن پہنچایا گیا۔ جہاں سے ٹرین لے کر ننکانہ صاحب چلی گئی، یہ یاتری سچا سودا، حسن ابدال ، پھر ننکانہ اور آخر میں پنجہ صاحب(لاہور) آئیں گے ۔

طے شدہ پروگرام کو ختم کر کے ٹرین کو واپس بھجوانے کا یہ فیصلہ عجیب و غریب ہے جو پہلی بار پیش آیا، اس سے پہلے ایسا کچھ کبھی نہیں ہوا، اس وقوعہ سے یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ بھی پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے ورنہ ٹرین میں حملہ تو بھارتی سر زمین پر ہوا جس کے بعد تحقیقات سے ثابت ہو گیا کہ یہ سب کیا دھرا ایک بھارتی میجر کا ہے اور تاک کر مسلمان مسافروں والی بوگی کو نشانہ بنایا گیا تھا پہلے بھی بھارت بدنام ہوا، اب بھی بھارت ہی کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ ٭

مزید :

اداریہ -