کراچی ، جناح ائر پورٹ پر حملے کے بعد کولڈ سٹورج میں پھنسے افراد کوبچانے کے لیے ریسکہو آپریشن

کراچی ، جناح ائر پورٹ پر حملے کے بعد کولڈ سٹورج میں پھنسے افراد کوبچانے کے ...

  

                                        کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) جناح ایئرپورٹ پر حملے کے دوران کارگو ٹرمینل کے 7ملازمین نے کولڈ اسٹوریج میں پناہ لے لی تھی۔ کولڈ اسٹوریج کی دیواریں گر گئیں اور آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد پناہ لینے والے ملازمین کولڈ اسٹوریج میں محصور ہو گئے۔ لاپتہ افراد کے رشتے داروں کی بڑی تعداد اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے کولڈ اسٹوریج کے باہر جمع ہو گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ کولڈ اسٹوریج میں آگ بجھ نہیں پائی لیکن ریسکیو ادارے محصور افراد کو بچانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہے۔ مشتعل افراد نے کولڈ اسٹوریج کے باہر ہنگامہ آرائی بھی کی اور شاہراہ فیصل پر احتجاج کرتے ہوئے سڑک ٹریفک کے لیے بند کر دیاائیرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلڈنگ میں لگی آگ بجھانے کیلئے مشینری پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی نگرانی میں ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے موقع پر موجود لواحقین سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں جلد از جلد ریسکیو آپریشن شروع کرانے اور تمام افراد کو باہر نکالنے کی یقین دہانی کرائی۔ سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ بھی ائیرپورٹ پہنچے تاہم انہوں نے ریسکیو آپریشن میں تاخیر کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق ریسکیو آپریشن میں تاخیر کے باعث وہاں موجود لواحقین کا غم و غصہ بڑھنے لگا ہے۔ قبل ازیں جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کام کرنے والی نجی کارگو سروس کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے ان کے 7 ملازمین شیزان، نبیل، فرید، سیف، سلطان، فرحان اور عنایت لاپتہ ہیں جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس پر لاپتہ افراد کے لواحقین جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچ گئے اور سٹار گیٹ کے سامنے احتجاج شروع کر دیا اس کے باوجود جب انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو آپریشن ہوتا نظر نہ آیا تو اہل خانہ اپنے پیاروں کو پانے کی آس میں بلڈنگ میں گھس گئے اور انتظامیہ کے خلاف سراپا احتجاج رہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اندر بچے افراد نے دہشت گردوں کے حملے کے وقت جان بچانے کی غرض سے کولڈ سٹوریج میں پناہ لی تھی جس کے بعد بلڈنگ میں آگ لگ گئی اور ایک دیوار گر گئی جس کے باعث تمام افراد اندر پھنس گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اندر پھنسے افراد میں سے کچھ افراد نے موبائل فون کے ذریعے رابطہ کیا جس پر یہ انکشاف ہوا تھا کہ جس بلڈنگ میں آگ لگی ہے ان کے پیارے اسی بلڈنگ میں موجود ہیں۔ موقع پر موجود چیئرمین یونین کے مطابق ملازمین سے رات گیارہ سے ساڑھے گیارہ کے درمیان آخری رابطہ ہوا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے اور مسلسل دھماکوں کے باعث کولڈ سٹوریج میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملازمین سے اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا اور ملازمین نے جس کولڈ سٹوریج میں پناہ لی تھی اس کا ٹمپریچر 2.8 ہوتا ہے جبکہ بجلی منقطع ہونے کے بعد وہاں سانس لینے کا بھی کوئی ذریعہ نہیں ہوتا اور نہ ہی موبائل سگنل موجود ہوتے ہیں۔ چیئرمین یونین کا کہنا ہے ملازمین کی تلاش کیلئے ہماری کوئی مدد نہیں کی جارہی ہے۔ میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوج اور رینجرز کو فوری طور پر فوج اور رینجرز کو ریسکیو آپریشن شروع کر کے آگ بجھانے اور اندر پھنسے افراد کو بچانے کی ہدایت کی۔ اس ہدایت کے بعد سندھ حکومت کو بھی ہوش آیا اور سندھ کے گورنر اور وزیراعلیٰ ائیرپورٹ پہنچے جہاں انہوں نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو ریسکیو آپریشن کی یقین دہانی کرائی۔

مزید :

صفحہ اول -