حملہ آور غیرملکی تھے ٹارگٹ جہاز تباہ کرنا تھا ،چوہدری نثار

حملہ آور غیرملکی تھے ٹارگٹ جہاز تباہ کرنا تھا ،چوہدری نثار

  

                              کراچی(سٹاف رپورٹر) وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا کہ کراچی ائر پورٹ میں بے گناہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا شواہد ثابت کر رہے ہیں کہ دہشت گرد غیر ملکی تھے، حتمی طور پر پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد پتا چل جائے گا، دہشت گردوں کی 7 لاشوں کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا جا رہا ہے۔پکڑے گئے اسلحے سے شواہد ایک ملک کی طرف جا رہے ہیں، وزیر داخلہ نے کہا دہشت گردوں کے اسلحے اور سامان سے لگتا تھا کافی عرصے تک مقابلہ کرنا چاہتے تھے، دہشت گردوں کے پاس راکٹ لانچر، ایس این جی ، ہینڈ گرنیڈ، کھانے پینے کی چیزیں ،ادویات بھی تھیں۔ انہوں نے کہا تین دہشت گردوں نے اپنے آپ کو اڑایا ، باقی کو آپریشن کے دوران گولیاں لگیں اور دہشت گردوں کا جو مقصد تھا وہ حاصل نہ کر سکے۔ وزیر داخلہ نے کہا ایئر پورٹ کے اندر 10 دہشت گرد داخل ہوئے تھے، پانچ دہشت گرد ایک ، پانچ دوسرے راستے سے داخل ہوئے تھے اور ڈیڑھ بجے فورسز کے مطابق آپریشن مکمل ہو چکا تھا۔ وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا سات منٹ کے اندر رینجرز جبکہ 20 منٹ میں پاک فوج کے جوان بھی پہنچ گئے تھے۔ ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے تین بہادر نوجوانوں نے پہلے فائر پر پوزیشنیں سنبھال لی تھیں اے ایس ایف کے گیارہ جوان شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا دہشت گردوں کا مقصد جہازوں کو ٹارگٹ کرنا تھا اور دو سے تین جہازوں کو معمولی نقصان ہوا لیکن شہدا نے جانوں کا نذرانہ دے کر قیمتی اثاثوں کی حفاظت کی۔ وزیر داخلہ نے کہا حملہ کراچی ایئر پورٹ نہیں پرانے ٹرمینل پر ہوا۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا کچھ اندرونی اور کچھ بیرونی دشمن ہیں، ہم مقابلے کیلئے تیار ہیں اور سب ایک ہیں ہمیں آپس میں نہیں لڑنا چاہیے۔ انہوں نے کہا حکومت نے ڈائیلاگ بھی نیک دلی سے کیا تھا، دہشت گردی کے واقعے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنا چاہتا۔ ان کا مزید کہنا تھا دہشت گردی کا مسئلہ 13 سال سے ہیں کیوں نہیں حکمت عملی بنائی گئی، خطرہ ہر جگہ ہے لیکن ہمیں متحرک ہونا ہو گا۔ وزیر داخلہ نے کہا دہشت گرد سامنے آ کر نہیں چھپ کر حملے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کراچی ایئر پورٹ حملے کی ہر زاویئے سے تحقیقات ہوں گی کچھ شواہد آئے ہیں کہ اس کے پیچھے کون ہے۔

چودھری نثار

مزید :

صفحہ اول -