غریبوں کی اصل تعداد بتائیں 10 روز میں اشیاءضروریہ سستے داموں فراہم کی جائیں

غریبوں کی اصل تعداد بتائیں 10 روز میں اشیاءضروریہ سستے داموں فراہم کی جائیں

  

                        اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے آٹے کی قیمت میں اضافہ کے حوالے سے مقدمہ میں متعلقہ وزارتوں کو عوام کو اشیاءضروریہ کی سستے داموں فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ عدالت کودس روزمیں ا س حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کی رپورٹ فراہم کی جائے۔ پیرکوجسٹس گلزار احمد اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اس موقع پرپنجاب حکومت کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ پنجاب سے صوبہ خیبر پختونخوا کوگندم کی نقل و حرکت پر عائد پابندی اٹھالی گئی ہے ،عدالت کوسیکرٹری وزارت فوڈ سیکورٹی سیرت اصغر نے بتایا کہ انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے لوگوں کومالی امداد فراہم کی جارہی ہے، اس پروگرام کے بہتر نظام کار کی وجہ سے اس میں کرپشن کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ انکم سپورٹ پروگرام کی امداد عام آدمی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کابا عث نہیں بن رہا‘ اس پروگرام سے ملک میں غربت کم نہیں ہو سکتی، یہ خوراک کی سستے داموں فراہمی کا مسئلہ ہے، ایک طرف اربوں روپے بانٹے جارہے ہیں مگر عام لوگوں کو سستی اشیاءضروریہ بھی دستیاب نہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل عتیق شاہ نے عدالت کے استفسارپربتایاکہ بھارت میں اس سلسلہ میں قانون سازی بھی کی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل زاہد قریشی نے پیش ہو کر عدالت کو پنجاب کی جانب سے خیبرپختونخوا کو گندم کی سپلائی پر عائد پابندی کے بارے میں آگا ہ کیا۔ ۔ سیرت اصغر نے بتایا کہ خط غربت سے نیچے زندگی گذارنے والے5.6ملین افراد کو اشیاءضروریہ کی فراہمی کیلئے بی آئی ایس پی پروگرام کے تحت فنڈز فراہم کئے جارہے ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ حکومت کو غریب طبقے کو سستی اشیاءفراہمی کیلئے خصوصی انتظامات کرنا ہونگے‘ اس معاملے میں اداروں کا آپس میں کوارڈینیشن ضروری ہے ۔ سماعت کے دوران عدالت میں موجود ایک وکیل نے کہاکہ خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی بتائی جارہی ہے۔اس حوالے سے عالمی رپورٹس بھی موجود ہیں۔ جسٹس گلزار نے کہاکہ متعلقہ وزارت کے لوگ خود مختلف علاقوں کا دورہ کرکے غربت کے بارے میں اپنی رپورٹس تیار کرکے عدالت کوصحیح صورتحال سے آگاہ کریں۔

 سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ آخر -