مکوں نے انسانی چہرہ”بدل“دیا: تحقیق

مکوں نے انسانی چہرہ”بدل“دیا: تحقیق
مکوں نے انسانی چہرہ”بدل“دیا: تحقیق

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک نئی تحقق میں کہا گیا ہے کہ ہمارے آباﺅاجداد نے عورتوں اور وسائل پر لڑائی کے دوران مکے سے بچنے کیلئے چہرے کے موٹے نقوش اختیار کئے جو ہڈیاں چہرے پر مکہ کھانے کے باعث ٹوٹتی ہیں، وہ بھی ارتقا کے عمل سے گزرکر زیادہ مضبوط ہوئیں اور کچھ ہڈیاں ٹوٹنے سے انسان موت کی آغوش میں پہنچ گئے ہوں گے۔ بائیولوجیکل ریویوز نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں چہرے کے نقوش میں تبدیلی عورتوں اور وسائل پر ہونے والی لڑائیوں کے باعث پیش آئیں،موجودہ انسانی ہڈیاں مردوں اور عورتوں میں بہت مختلف ہیں۔ کئی سال تک یہی سمجھا جاتا رہا کہ چہرے کی ہڈیوں کی مضبوطی کا راز خوراک تھی تاہم تحقیق کار پروفیسر کیریئر اور ان کے ساتھی ڈاکٹر مائیکل مورگن کا کہنا ہے کہ چہرے کے نقوش میں تبدیلی کا سبب پر تشدد طرز زندگی تھا۔ اپنی تحقیق میں انہوں نے جدید انسانی لڑائیوں کے اعدادوشمار شائع کئے ہیں جن کے مطابق مکہ بازی میں چہرہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ لڑائی کے نتیجے میں جبڑے کی ہڈی سب سے زیادہ ٹوٹتی ہے، اب ماہر سرجن موجود ہیں لیکن 40 لاکھ سال قبل اگر جبڑے کی ہڈی ٹوٹ جائے تو ممکنہ طور پر یہ جان لیوا چوٹ ہوتی ہوگی کیونکہ ہڈی ٹوٹنے کے باعث لوگ کچھ کھانہیں پاتے ہوں گے اور بھوکے مرجاتے ہوں گے۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -