اگر صحت مند رہنا ہے تو اس قسم کی چپل کبھی بھی پہنیں،ماہرین نے صاف صاف بتا دیا

اگر صحت مند رہنا ہے تو اس قسم کی چپل کبھی بھی پہنیں،ماہرین نے صاف صاف بتا دیا
اگر صحت مند رہنا ہے تو اس قسم کی چپل کبھی بھی پہنیں،ماہرین نے صاف صاف بتا دیا

  



نیویارک(نیوزڈیسک)اکثر یہ بتایا جاتا ہے کہ اونچی ایڑھی والی جوتیاں ہمارے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں لیکن اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ چپلیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ’ہیلز‘سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چپلوں کی بناوٹ اور ان میں استعمال کیا گیا میٹیریل کسی بھی طور پر ہمارے پاﺅں کو آرام دہ نہیں کرتا جس کی وجہ سے ہمیں پاﺅں میںتکلیف سمیت، ٹانگوں اور سر میں درد بھی ہوسکتا ہے۔

یونیورسٹی کالج ہسپتال لندن کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر طارق خان کا کہنا ہے کہ یہ چپلیں نقصان د ہ ہوتی ہیں جس کی وجہ ان کی بناوٹ ہے جو کسی بھی طور پر پاﺅں کو پرسکون نہیں کرتیں۔

ایک 44سالہ برطانوی خاتون سینڈی کراوئچر کا کہنا ہے کہ وہ گرمیوں میں ہمیشہ ہی چپلیں پہنتی تھی،کہین بھی جانا ہووہ چپلوں کو ترجیح دیتی تھی کہ اس کا خیال تھا کہ چپلوں میں اس کے پاﺅں کو نہ صرف آرام ملے گا بلکہ اس کی ٹانگوں میں درد بھی نہ ہوگا لیکن تمام اندازے اس وقت غلط ثابت ہوئے جب اس کے پاﺅں ،ٹانگوں اور کمر میں درد رہنے لگا۔اس نے اپنے فزیو تھراپسٹ سے مشورہ کیا اور اس نے مختلف چیزوں اور ورزشوں کت بارے میں بتایا لیکن سینڈی کی درد ٹھیک نہ ہوئی ۔آخر کار اس کے علم میں یہ بات آئی کہ یہ تمام مسائل اس کی چپلوں کی وجہ سے ہے ۔ڈاکٹر طارق خان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی علامات ان لوگوں میں زیادہ ظاہر ہوتی ہیں جو اپنی زندگی میں زیادہ تر چپٹے اور سیدھے جوتوں کا استعمال کرتے ہیں اور جو لوگ چپلیں پہنتے ہیں ان میں یہ مسائل بہت زیادہ ہوتے ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ کبھی بھی سیدھے جوتے نہیں پہننے چاہیں کیونکہ اس طرح پاﺅں اور مسلز میں سوزش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔لہذا ایسے جوتوںکا انتخاب کریں جس میں ایک سے ڈیڑھ انچ تک کی ہیل ہو۔

ایک تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چپل پہن کر گاڑی بھی ہرگز نہیں چلانی چاہیے کیونکہ اس طرح حادثے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

مزید : تعلیم و صحت