نئی اسٹیبلشمنٹ پرانے سیاست دان

نئی اسٹیبلشمنٹ پرانے سیاست دان
 نئی اسٹیبلشمنٹ پرانے سیاست دان

  



بے چینی کے آثار نمودار ہو چکے ہیں۔ بھانپنے کے لئے نہ تو سمندر کی گہرائیوں میں تیرتی سنہری مچھلیوں کا رقص دیکھنے جیسی صلاحیت چاہئے اور نہ ہی کالے پہاڑوں پر محرومیوں کا بین کرتی غربت سے آنکھیں چار کرنے کی ضرورت۔ ایک موقع ملا تھا موجودہ حکمرانوں کو جسے بے دردی سے ذبح کر دیا گیا۔ میدان صاف ،قوم منتظر اور ادارے بے پناہ اختیارات میں کمی کو پوری طرح تیارتھے۔ ہر کسی کو توقع تھی نئی حکومت کا بنیادی ایجنڈہ وسیع پیمانے پر ادارہ جاتی و معاشرتی اصلاحات متعارف کروانا ہوگا۔ بڑی۔۔۔مستقبل کی بڑی قوم اور چھوٹی۔۔۔ بہت ہی چھوٹی بہتری کی خواہشیں۔ سارے نہ سہی پولیس سمیت چند ایک اداروں میں ہی اصلاحات متعارف کروالی جاتیں تو تبدیل شدہ پاکستان کے خدوخال نظر آنا شروع ہو جاتے، لیکن حسب معمول صبر کو جبر کی بے رحم وادی میں پٹخ دیا گیا۔ کس بنا پر خوشیاں منائی جا رہی ہیں مرکز میں؟کیونکر اطمینان جھلک رہا ہے پنجاب کے طرز حکمرانی سے اور کس مصنوعی سکون کے جزیرے پر قیام پذیر ہیں سندھ کے کرتا دھرتا؟ 80فیصد لوگ غربت کی چکی میں پس چکے۔ ان ذہنوں میں نفرت کا جو لاوا پک رہا ہے اسے بہنے کو صرف ایک بہانہ چاہئے ۔ریاست اور فرد میں دوری اتنی بڑھ چکی عام لوگ عزت نفس کے سونے، تحفظ کی چاندی اور آسودگی کے کنگنوں سے کب کے محروم ہوچکے ہیں۔

کسی کے تقدس کو جوتے مارنے ہوں ، ریٹ فقط دس سے بیس ہزار روپیہ، تھانے جائیے ، رقم رکھئے ، جھوٹا مقدمہ درج کروائیے اور پورے محلے کے سامنے گھسیٹے ہوئے وین میں ڈالئے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں، کوئی بھی نہیں، پولیس جیت چکی اور مرکزی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ میاں شہباز شریف بھی ہار گئے۔تقریبا دو ہفتے قبل انہوں نے اس ہار کو تسلیم بھی کیا۔ اب زیب نہیں دیتا دوبارہ پولیس کلچر میں تبدیلی بارے کبھی کوئی بات کریں؟ دو چیزیں ہیں، یا تو وہ فائٹنگ سپرٹ کھو چکے یا طویل حکمرانی کی اسیری میں پولیس کو کسی قیمت پر تبدیل ہی نہیں کرنا چاہتے ۔ہسپتال ، انسانی جان کے تحفظ کے مراکز، لیکن سرکاری علاج گاہوں کا عالم یہ ہوچکا ایک ایک بیڈ پر دو دو مریض۔ کاش کوئی سمجھانے والا بچا ہو، کوئی قریب بیٹھا نصیحت کرنے کی جرات ہی رکھتا ہو، اللہ کی عدالت میں حاکم کا احتساب عام آدمیوں سے ہٹ کر ہوگا۔ لوگ علاج کے ہاتھوں مر رہے ہوں اور جان بچانے والی رقم تاریخ میں نام امر کرنے کی خاطر پلوں،جنگلوں پر لٹائی جارہی ہو۔ بس اتنا عمل ہی کافی ہے اس بوجھ کو اٹھانے کیلئے جس کا تصور ہی مقدس ہستیوں کی پیشانیوں کو عرق آلود کر دیتا تھا۔

عام فرد کو توقع تھی میاں نواز شریف وزیراعظم بنیں گے تو پولیس تبدیل ہو گی۔ جھوٹی ایف آئی آرز ختم ہوں گی۔ بالخصوص سنگین مقدمات میں سارے کے سارے خاندان کے ’’نام ‘‘ ڈالنے جیسے قبیح عمل کا خاتمہ ہوگا۔ ایسا نہیں ہوا۔ الٹا پولیس نے اپنے حلف کے تقدس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ بیشتر اہلکار وں نے فیکٹریوں، ہاؤسنگ سکیموں ، پٹرول پمپوں اور ریسٹورنٹس میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ رشتے داروں سے لے کر سینئر و جونیئر کولیگ تک، علاقے کے بدمعاشوں سے لے کر حجام تک، ہر کوئی اس انویسٹمنٹ سے آگاہ ہوتا ہے۔ اگر خبر نہیں ہوتی تو صرف حکومت کو۔ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ایٹمی مُلک کے دیہاتوں میں پولیس کے خوف کا یہ عالم ٹاؤٹ کو گلی میں منڈلاتے دیکھ کر لوگ گھروں میں دبک جاتے ہیں۔ووٹروں نے میاں صاحب کو عمران خان پر ترجیح کیوں دی تھی؟ تجربہ کار سمجھتے ہوئے زیادہ احسن انداز میں نیا نظام متعارف کروانے کی آس پر، لیکن کیا نظام بدلا؟ بدلنا تو دور کی بات کیا اداروں کی اپ گریڈیشن کا کوئی ابتدائی ڈرافٹ تک بھی تیار ہوا؟ چلئے ڈرافٹ نہ سہی کیا آتے جاتے، جلسے جلوسوں یا نجی محفلوں میں ہی کبھی بھولے سے ان آٹھ اداروں پر بات تک بھی کی گئی،جنہوں نے لوگوں کی زندگیوں کو جہنم بنا کر رکھ دیا ہے۔

آخر میاں نواز شریف کس وقت کا انتظار کر رہے ہیں؟ ان کے مشیروں میں کون سا ایسا فرد ہے جو اداروں کے لئے نئے بزنس رولز آف گورننس متعارف کروانے میں رکاوٹ بن رہا ہے؟کیا یہ سمجھا جائے مرکز کے حکمران اداروں کی اپ گریڈیشن سے خوفزدہ ہیں؟ کیا وہ ناراضگی کے ڈر سے ٹاپ سول بیوروکریسی کے اختیارات محدود کرنے سے اجتناب برت رہے ہیں؟ اگر وجوہات یہی ہیں تو پھر سمجھنا چاہئے حکومت دم خم کھو چکی۔ اس میں اتنی سکت ہی نہیں بچی وہ کسی حقیقی چیلنج کا سامنا کر سکے۔ کیا اقتدار اس لئے سنبھالا گیا کہ جیسا ہے ویسا ہی چلتا رہے۔ کیا عظیم ادارہ جاتی و معاشرتی تبدیلیوں کا نچوڑ میٹرو بسوں کے چند روٹس تک محدود ہو چکا ہے؟ میاں نوازشریف کی وزڈم کو کس نے ہائی جیک کیا؟ جس میاں نواز شریف سے دنیا آگاہ تھی وہ تو اکنامک لبرلائزیشن، فری اکانومی، درجنوں نئے شہر بسانے کا آرزو مند، یوکے بیسڈ پولیس کلچر کا خواہاں، یوروپین سٹینڈرڈ ہسپتالوں کے جال کا خواہشمند اور تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیوں کا داعی تھا، لیکن پھر ایسا کیا ہوا جو کسی ایک چیز پر بھی کام شروع نہ کیا جا سکا۔ یہ بہت ہی گہرا سوال ہے اتنا گہرا اگر باریکی میں جائیں تو سر پکڑنا پڑے ۔ خاص کر ان حالات میں جبکہ اسٹیبلشمنٹ سیاست دانوں کی نسبت انتہائی برق رفتاری سے خود کو بدل رہی ہے۔

کیا اسٹیبلشمنٹ نے خود کو محض امریکہ ، افغانستان، سعودی عرب اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی حد تک تبدیل کیا ہے؟ کیا اسٹیبلشمنٹ کے ہاں تبدیلی کا تصور پراکسی وارز میں غیروں کے مفاد کی خاطر استعمال ہونے سے اجتناب کی حد تک محدود ہو رہا ہے؟کیا ان کی سوچ محض جنگی محاذوں اور علاقائی دہشت گرد گروپوں کے قلع قمع تک اٹکی ہوئی ہے؟ نہیں حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پوری مضبوطی کے ساتھ اس باوقار و خوشحال پاکستان کی منزل کو بھانپ چکی ہے جہاں نا اہل سیاست دانوں کی عدم موجودگی اور رول آف لاء کے بغیر کسی صورت نہیں پہنچا جا سکتا۔ عالمی سطح پر ملنے والا وقار سب سے پہلے اسٹیبلشمنٹ ہی انجوائے کرتی ہے۔ اقوام عالم میں ایسا وقار پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو بھی حاصل ہونا شروع ہو چکا ہے۔ بڑی سرعت سے وہاں یہ خواہش زور پکڑ رہی ہے اس وقار کے سرور کو مضبوط اور جوابدہ اداروں کی صورت عام پاکستانیوں کے جسم و جان تک بھی پھیلایا جائے۔ فرد کی ریاست سے محبت اسی وقار کے دبیز پردے تلے چھپی ہوئی ہے۔ کیا پرانے سیاستدان کچھ سمجھ بھی رہے ہیں کہ نہیں؟اسٹیبلشمنٹ کے تمام قابل ذکر ونگز ایک ایک کرکے ہر اس چیز کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ بنا چکے ہیں، جس نے عام پاکستانی کے دل میں وطن مخالف جذبات پیدا کئے۔ زیادتی تھانیدار کرتا ہے گالی ملک کو پڑتی ہے۔ کھاتوں ، رجسٹروں میں ہیر اپھیری کے ذمہ دار پٹواری، کلرک ہوتے ہیں، فرد کے مخالفانہ جذبات کا نشانہ وطن بنتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ درحقیقت ہر اس فیکٹر کے گرد سرخ دائرہ کھینچ چکی جو عام پاکستانیوں کو وطن کی محبت سے عاری کرنے کا باعث بن رہا ہے۔

مستقبل قریب میں جن بلندیوں کی جانب پاکستان جانے والا ہے اور اسے روکنے کے لئے عالمی اسٹیبلشمنٹ جن خطرناک عزائم کے ساتھ میدان میں اُترچکی ہے، وہاں یہ اور ضروری ہو جاتا ہے،جس قدر جلد ممکن ہو سکے عام پاکستانیوں میں نیشنل ازم کو ابھارا جائے۔ بھلا بھارت کس طرح برداشت کر پائے گا وہ آدھی دُنیا کی کھربوں ڈالرز پر مشتمل مارکیٹ سے کٹ کر بیٹھ جائے۔ پاکستانی سڑکوں پر چائنہ کے ٹرک دوڑیں، سنکیانگ سے گوادر تک مال بردار گاڑیاں نان سٹا پ چلیں، گیس و تیل کی لائنوں کی مد میں پاکستان کو اربوں ڈالرز کی راہداریاں ملیں، اگر یہ سب کچھ اسی طرح آرام سے ہوگیا تو مہا بھارت کا سپنا تو ایک طرف خود بھارت کی اقتصادی ترقی پاکستان کی مرہون منت ہو جائے گی۔

پاکستان جب چاہے انڈین اکانومی کو لاک کر سکے گا۔مستقبل کی انڈین اکانومی ہے کیا؟ امریکن و یورپین بلاک کے بچے کھچے پر نظر۔ اقتصادی روٹ کی تکمیل کے بعد وہ بچا کھچا بھی ہاتھوں سے نکلتا نظر آرہا ہے۔ اسرائیل، امریکہ اور انڈیا ہر صورت اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ انڈین معاشرہ اپ گریڈیشن کی سپرٹ کھو چکا ہے۔ بالخصوص اکیسویں صدی کے پہلے چودہ سالوں میں انڈین سماج کو جس عالمی انسانی بیداری کے شانہ بشانہ چلنا چاہیے تھا وہاں بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

انڈین اسٹیبلشمنٹ میں کبھی بھی یہ صلاحیت نہیں رہی وہ معاشرتی اکائیوں کو بیک وقت زمانے کی ترقی سے ہم آہنگ کروا سکے۔ دوسری جانب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اس معاملے میں مہارت حاصل رہی۔ انڈین اسٹیبلشمنٹ نئے معاشرتی تجربات سے ہمیشہ خوفزدہ رہی، نتیجے کے طور پر وہاں کے سیاستدانوں نے طرز زندگی کو جہاں ہے جیسے ہے کی بنیاد پر کھلا چھوڑ دیا۔ آج چند شہروں کے سوا انڈیا بھر میں ریس ازم، مونک ازم، طبقاتی سپریمیسی کی آگ بھڑک چکی ہے۔ سیاست دان اکھنڈ بھارت کی پالیسیوں میں غرق، ادارے اختیارات کی راجدھانیوں میں مگن اور عوام دس روپے کی زہر یلی پڑی پھانکنے پر مجبور۔ انڈیا گلوبلائزیشن کے چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام رہا۔ایک معصوم صورت انڈین لڑکی نے پاکستان کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’پاکستان حیران کن حد تک امیر ملک ہے لیکن بھارتیوں کو غربت نے مار ڈالا اور پاکستانیوں کو وسوسوں نے‘‘۔ ان وسوسوں کا علاج کس نے کرنا ہے؟ سیاست دانوں نے۔ بے چینیاں کس طرح کم ہوں گی۔ بہتر نظام حکومت سے، نظام کس طرح بہتر ہوگا، اداروں کی یورپین سٹینڈرڈ تک اپ گریڈیشن سے، اور اپ گریڈیشن کب ہوگی جب سیاست دان اداروں بالخصوص پولیس کو آزاد کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ بہت بہتر ہوگا یہ کام وہ خود کر لیں وگرنہ یہ کام بھی وہی سر انجام دیں گے جو نئے بلاک کی خاطر امریکہ، اسرائیل سے پوری طرح ٹکر لے چکے ہیں۔ ایک جھلک پچھلے سال دکھلائی، سیاست دانوں نے کالے بکروں کے صدقے تو دینے شروع کر دیئے، لیکن اداروں کی آزادی بارے ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ دوسری جھلک ستمبر میں نظر آئے گی۔ اگر اس دوران اداروں کی آزادی جیسی حقیقی خوشخبری لوگوں تک نہ پہنچائی گئی تو وہ کچھ ہوسکتا ہے جو ہر سیاست دان کے لئے پچھلے پہر کے ڈراؤنے خواب کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ شہیدوں کو دفنانے اور غمزدہ یتیم بچوں کی آنکھوں سے ٹپکتے آنسوؤں کو کو گننے کے مراحل سے آگے نکل چکی ہے۔ اب وہ بیرون مُلک بھی حساب برابر کرے گی اور اندرون ملک بھی۔اس سوال کی مسلسل بازگشت سنائی دے رہی ہے، اگر ہم تبدیل ہو سکتے ہیں تو دوسرے کیوں نہیں؟

مزید : کالم


loading...