ہمدرد حکومت ؟

ہمدرد حکومت ؟
ہمدرد حکومت ؟

  



کیا قومی میزانئے کو پیش کرنے کا انداز اور اسحاق ڈار دونوں کو ہی تبدیل نہیں کیا جا سکتا؟ شاید قوم ابھی ایسی راحت رسانی کی مستحق نہ سمجھی جائے۔ قومی میزانیہ دہائیوں سے قوم پر محض اعدادوشمار کی گولہ باری کا موقع بن کر رہ گیا ہے۔ اب اگر قوم پر اعداد وشمار کا حملہ کرنا ہی مقصود ہے تو کم ازکم حملہ آور اسحاق ڈار کو ہر گز نہ ہونا چاہئے۔ ہماری قوم کا مذاق اردو غزل کا مزاج آشنا ہے، جس میں سخت سے سخت حملہ بھی محبوب کے ہاتھوں ہنسی خوشی برداشت کر لیا جاتا ہے۔ آپ خود ہی سوچئے کہاں اُردو غزل کا محبوب اور کہاں حملہ آور اسحاق ڈار !!!!! تحریک انصاف ٹھیک کہتی ہے ، تبدیلی ضروری ہے۔

قوم کی رگِ حیات سے خون نچوڑنے والے یہ میزانئے آخر قوم کی تفہیم سے بہت دور کیوں رکھے جاتے ہیں؟ پھر اس قوم کے نمائندے بن کر ایوانوں میں جانے والے اس میزانئے کو عوامی امنگوں کا آئینہ دار بنانے کے لئے بحث میں حصہ تک کیوں نہیں لیتے؟ اِن چبھتے ہوئے سوالات کی پشت پر کچھ سنگین حقیقتیں ہیں جو جعلی جمہوریت کے جعلساز نمائندوں کا پردہ چاک کرتی ہیں۔ پہلے پلڈاٹ کے اعدادوشمار کی طرف توجہ دیتے ہیں جس سے ہم جمہوریت کے جمہور سے غیر متعلق ہونے کا پوری طرح اندازا لگا سکیں گے۔بیس کروڑ کی قوم کی زندگی اور موت سے جڑے میزانئے کے حوالے سے منتخب پارلیمنٹ کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ 1988-89ء کا پورا میزانیہ صرف 17 گھنٹے کی بحث کے بعد منظور کر لیا گیا۔ 2008-09ء میں اسی میزانئے پر صرف 41گھنٹے صرف کئے گئے۔ اوسطاً مملکت کی یہ سب سے بڑی معاشی دستاویز صرف و محض 34 گھنٹے میں منظور کرکے پرے کر دی جاتی ہے اور پورا سال اِسے بدعنوان وزارتِ خزانہ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے،جو اس میں تین کو تیرہ اور نو کو دو کرتے رہتے ہیں۔آپ نے خبر پڑھ ہی لی ہوگی کہ اسحاق ڈار آئندہ جمعہ کو میزانئے میں ضروری ردوبدل فرمائیں گے۔اب سوال یہ ہے کہ قوم کے منتخب نمائندے اس اہم ترین دستاویز پر بحث میں حصہ کیوں نہیں لے پاتے؟

پہلی سنگین حقیقت تو یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں تربیت کا کوئی نظام ہی نہیں۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں دراصل خاندانی اجارے اور ملکیت رکھتی ہیں۔ چنانچہ مضبوط جماعتی گرفت کے باعث منتخب اراکین قومی مباحث تک سے لاتعلق رہتے ہیں۔ اُنہیں بولنے اور نہ بولنے دونوں کے لئے ہی جماعت کی دیوتا نما قیادت سے اجازت درکار ہوتی ہے۔اس طرح تمام تر قومی معاملات جماعتی دیوتاؤں کے جنبشِ ابرو کے مکمل محتاج ہوتے ہیں۔ایک دوسرا مسئلہ صلاحیت کا ہے۔ منتخب اراکین میں سرے سے اس کی قابلیت ہی نہیں ہے کہ وہ میزانئے کے مباحث میں حصہ لے سکیں۔ دُنیا کے دیگر ممالک میں ماہرین کی خدمات لے کر اراکین کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ قومی معاملات پر اپنی مہارت میں اضافہ کریں۔ میزانئے کے باب میں بھی ترقی یافتہ ممالک کا یہی رویہ ہے،مگر پاکستان میں اس طرح کے کھڑاک نہیں پالے جاتے۔ یہاں مجلسیں غوروفکر اور مہارت میں اضافے کے لئے برپا نہیں کی جاتیں،بلکہ یہاں پر ’’روٹی شوٹی ‘‘کھلائی اور ’’لسّی وسّی‘‘ پلائی جاتی ہے۔ یہ وہ جمہوریت ہے جس کی تقدیس کے ترانے گائے جاتے ہیں اور جس کے رومان پرور خیالات میں کتنے ہی ’’بے وقوف لوگ ‘‘ جاں کی بازی ہار گئے۔ اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ جمہوریت کو ایک مذہبی عقیدے کی طرح تقدیس دے دی گئی ہے، جس پر سوال اُٹھانے کا مطلب دراصل کسی عقیدے پر سوال اُٹھانے کی طرح بنا دیا گیا ہے۔اگر جمہوریت ، جمہور کی زندگی سے جڑے قومی میزانئے سے بھی لاتعلق ہو توپھر سمجھ آتی ہے کہ عام لوگ انقلاب کے بعد اپنی قیادتوں اور اشرافیہ کو کیوں خون میں نہلا دیتے ہیں؟ اس کی تقدیس کے گیت گانے والوں پر لعنت ملامت کیوں کرتے ہیں؟ نظام کوئی بھی ہو اگر وہ عام آدمی سے متعلق نہیں تو اس کوتارا مسیح کے حوالے کر دینا چاہئے۔

اب بحث کو براہِ راست میزانئے کی طرف موڑتے ہیں۔قومی میزانئے کا سب سے بڑا اورپہلا مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ نصف صدی سے یہ اُلٹے دماغوں اور سرکے بل کھڑے ہو کر بنایا جاتا رہا ہے۔ اس میں آمدنی اور اخراجات کے درمیان کوئی توازن ہی نہیں ہوتا۔ کسی بھی میزانئے میں اس خلیج کو دور کرنے کے لئے جو مجوزہ نقشہ تجویز کیا جاتا ہے وہ کسی بھی میزانئے کے اختتام پر پورا نہیں ہوتا۔سالہا سال سے جاری اس مکمل نارسائی پر کسی بھی نئے میزانئے کی ترتیب میں سوال بھی اُٹھایا نہیں جاتا۔ گویا جب آمدنی اور اخراجات میں موجود فرق کو پہلے دن پیش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اِسے فلاں فلاں جگہوں سے پُر کیا جائے گا، تو اُسی دن یہ یقین کر لیا جاتا ہے کہ ایسا ہو نہیں سکے گا۔ ایسا میزانیہ جو پہلے دن سے سطح شعور میں مسترد شدہ ہو اُسے اگلے چند گھنٹوں میں ڈیسک بجا کر منظور بھی کر لیا جاتا ہے۔ پھراس یرغمال جمہوریت اور جماعتی آمریت پر تین حرف کیوں نہ بھیجے جائیں؟ مسئلہ یہ ہے کہ آمدنی اور اخراجات میں فرق بھی کوئی حقیقت پسندانہ نہیں ہوتا۔ اب ذرا اس میزانئے کے اعدادوشمار ہی دیکھ لیجئے!قومی اخراجات کا تخمینہ چار ہزار ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ قومی آمدنی محض 2700ارب روپے ہے۔اب اس پورے سال میں 1300 ارب روپے کا فرق عوام کو نچوڑ کر یا پھر دُنیا سے بھیک مانگ کر پورا کیا جائے گا۔ پھر یہ پورا کام بھی ایمانداری سے نہ ہوگا۔ چار ہزار ارب روپے ہمارے قومی اخراجات میں پوری ایمانداری سے خرچ نہ ہوں گے اور فرق دور کرنے والی رقم جہاں جہاں سے جیسے جیسے بھی حاصل کی جائے گی وہ بھی اپنے بیان کردہ مقاصد پر خرچ نہ ہو گی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس اُصول پر کوئی گھر کوئی کریانے کی دُکان تک بھی چلتی ہے، جس میں اخراجات اور آمدنی میں فرق کا عملاًتناسب تقریباً 40فیصد تک پہنچ جاتا ہو؟ اسحاق ڈار نے جو میزانیہ قوم کے منہ پر مارا ہے کیا وہ اِسی اُصول پر دبئی میں اپنا کاروبار بھی چلاتے ہیں؟حیرت ہے کہ قومی میزانئے کے ساتھ وہ یہ سلوک کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں، جس کا تصور تک ایک کریانے کی دُکان چلاتے ہوئے نہیں کیا جاسکتا۔

اب ذرا اس فرق کو دور کرنے کے لئے حکومت دیگر طریقوں کے ساتھ محصولات(ٹیکسز) کاجو ایک طریقہ اختیار کرتی ہے، اُس کی سائنس بھی دیکھ لیجئے۔پاکستان میں محصولات کا سب سے بڑا اوربُرا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سب سے زیادہ محصولات بالواسطہ (indirect ) لگائے جاتے ہیں۔ موجودہ میزانئے سے بھی آشکار ہے کہ قوم کی گردن پر بالواسطہ محصولات 57 فیصد مار دیئے گئے ہیں، جبکہ راست (direct) محصولات 43فیصد عائد کئے گئے ہیں۔ محصولات کے اس طریقے میں جو سفاکیت ہے اُس کی تفہیم بہت ضروری ہے۔ بالواسطہ محصولات کے طریقے میں آمدنی جوں جوں کم ہوتی چلی جاتی ہے ،محصولات توں توں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ یہ بالواسطہ محصولات براہِ راست ایک عام آدمی کو افراطِ زر کی صورت میں سب سے زیادہ پریشان کرتے ہیں۔ یہ کام میاں نواز شریف کی حکومت نے بھی نہایت ظالمانہ انداز سے کیا ہے۔پھر اس حکومت کادھوم دھام سے غریبوں کی ہمدرد حکومت کا دعویٰ بھی برقرار ہے۔عوام سماجی ذرائع ابلاغ پر ان حکمرانوں کو گالیاں نہ دیں تو پھر کیا کریں؟

مگر اس میزانئے میں عوامی غیظ و غضب کو بڑھانے والے پہلو پہلے سے بھی زیادہ ہیں۔ عوام پر اعدادوشمار کے اس حملے کے مضمرات پر غورآئندہ بھی جاری رکھیں گے، مگر ایک عام آدمی کی سطح پر یہ بات راسخ کرنا بہت ضروری ہے کہ میزانئے کو ایک رسمی کے بجائے قوم کے لئے حقیقی مشق بنا نی چاہئے اور اِسے ایک حکومت کے انتخابی وعدوں کی روشنی میں پرکھنے کی عادت پیدا کرنی چاہئے۔ اگر ایک قومی میزانئے پر یہ قوم زبردست احتجاجی تحریک چلاسکے تو پھر اُنہیں وزیر خزانہ کی صورت میں حکومت کے سمدھی نہ ملاکریں گے۔یاد رکھیں کوئی بھی حکومت عوام کے لئے کچھ بھی نہ کرے گی، عوام کو ہی اپنے لئے کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔اس قومی میزانئے نے اس نتیجے کو مزید مستحکم کردیا ہے۔

مزید : کالم


loading...