بلاول کی آمد

بلاول کی آمد
 بلاول کی آمد

  



بلاول بھٹو زرداری ایک بار پھر پاکستان آ گئے ہیں، باوجود اس کہ وہ پاکستان کی ایک بہت بڑی سیاسی جماعت کے وارث ہیں، کروڑوں لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے بے پناہ محبت ہے اور ان کے ورکرانہیں پاکستان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے کارکنوں کی خواہش ہے کہ وہ اپنے نانا کی سیاسی وراثت اور اپنی والدہ کی سیاسی طاقت پی پی پی کے وارث بنیں۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا اور والدہ کی پارٹی کو ان ہی کے انداز میں چلانا چاہتے ہیں، لیکن سابق صدر کی خواہش ہے کہ اب پیپلزپارٹی کو زرداری سوچ کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ پیپلزپارٹی کے منشور اور دستور کو زرداری منشور میں بدل دیا جائے اور بے نظیر شہید اور ذوالفقار علی بھٹو کی سوچ اور نظرئے کو بدل دیا جائے۔ آصف علی زرداری چاہتے ہیں کہ پی پی پی کے پرچم کا رنگ وہی رہے بھٹو اور بے نظیر بھٹو شہید کی تصویریں اور نعرے تو موجود رہیں۔ مگر پیپلزپارٹی میں سے ان دونوں کی روح کو نکال دیا جائے۔ اپنی اس سوچ کو نمایاں کرتے ہوئے گزشتہ دنوں آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ میری قیادت میں پیپلزپارٹی نے بہت ترقی کی ہے۔ میرے ہوتے ہوئے پیپلزپارٹی نے پہلی بار وفاق میں اپنے پانچ سال پورے کئے ہیں اورساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بے نظیر شہید کی زندگی میں ایسا وقت بھی آیا کہ باوجود کوشش کے سندھ میں اپنی حکومت نہ بناسکیں۔ ان کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر سے بڑے لیڈر ہیں۔

آصف علی زرداری کی اس سوچ کی وجہ سے بہت سے لوگ پیپلزپارٹی سے دور ہوچکے ہیں ان میں ایک نمایاں نام ذوالفقار مرزا کا ہے۔ ذوالفقارمرزا نے چند سال پہلے کراچی کے حالات کے حوالے سے آصف علی زرداری سے اختلاف کیا اور پھر آصف علی زرداری نے الطاف بھائی کی شکایت پر ذوالفقار مرزا کو کھڈے لائن لگا دیا۔ ذوالفقار مرزا ایک عرصے تک خاموش رہنے کے بعد گزشتہ دنوں ایک بار پھر منظر عام پر آئے اور انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے ان کی نجی زندگی کے بارے میں کچھ سوالات اٹھائے۔ ذوالفقار مرزا نے سیاست سے دوقدم آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ بے نظیربھٹو شہید اور آصف علی زرداری کے درمیان رشتہ ختم ہوچکا تھا، دونوں کے درمیان شدید قسم کے اختلاف تھے، انہوں نے آصف زرداری کی دولت پر براہ راست سوال اٹھائے، انہوں نے براہ راست آصف علی زرداری پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ دھرتی کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں۔ ذوالفقار مرزا کے ان الزامات کے جواب میں سابق صدر نے کوئی ایک جوابی جملہ بھی نہیں کہا، البتہ وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر اطلاعات شیرجیل میمن نے ذوالفقار مرزا کے الزامات کا جواب دیا، حالانکہ ذوالفقار مرزا کی طرف سے لگائے گئے الزامات کاتعلق براہ راست سابق صدر کی ذات سے تھا جس کا جواب دیا جانا چاہئے تھا لیکن نہیں دیاگیا۔

ان حالات میں کہ جب ذوالفقار مرزا لندن جانے کے لئے آمادہ ہوچکے ہیں اور چلے بھی جائیں گے تو ان کے الزامات کی دھند چھائی رہے گی۔ اس دھند کے ہوتے ہوئے بلاول زرداری واپس پاکستان آچکے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے ذوالفقار مرزا اور اپنے تعلق کو واضح کریں، کیونکہ پاکستان کے مختلف حلقوں میں یہ بات بھی گردش کررہی ہے کہ ذوالفقار مرزا اور بلاول بھٹو زرداری ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ دونوں پی پی پی کے موجودہ سیاسی کردار کو بدلنا چاہتے ہیں۔ دونوں کی خواہش ہے کہ پیپلزپارٹی کو ایک بار پھر بھٹو مرحوم اور بینظیر بھٹو شہید کی سوچ کے ساتھ آگے بڑھایاجائے۔ مختلف عہدوں پر کام کرنے والے بعض لوگوں کو ہٹادیا جائے، سندھ حکومت کو بھی تبدیل کیا جائے، کیونکہ وہاں کے وزیراعلیٰ انتظامی اور سیاسی طورپر بہت کمزور ہیں، وہ عمر کے اس حصے میں درست طورپر حکومت کرنے سے معذور ہیں ،ان کی حالت یہ ہے کہ کوئی بھی وزیر ان کے کسی حکم کو خاطر میں نہیں لاتا۔ تمام بڑے بڑے فیصلے اوپر سے آتے ہیں۔ بعض فیصلوں کے بارے میں تو وزیراعلیٰ سندھ کو کئی روز بعد پتہ چلتا ہے کہ اس کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے، خود وزیراعلیٰ سندھ کی جسمانی صحت بھی اچھی نہیں،اکثر مقامات پر وہ لڑکھڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

حال ہی میں وزیراعلیٰ پنجاب کے دورۂ کراچی کے موقعہ پر وزیراعلیٰ سندھ لڑکھڑا کر گرنے والے تھے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے انہیں گرنے سے بچا لیا۔ سو بلاول زرداری کی پاکستان آمد کے اگر کوئی بڑے سیاسی مقاصد ہیں تو پھر تو ان کا پاکستان آنا اچھا شگون ہے اور اگر ان کا دورہ محض ذوالفقار مرزا کو لندن بھجوانے کے لئے ہے تو پھر ان کے آنے یا نہ آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلاول کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ پنجاب میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سندھ میں ان کی جماعت مقبولیت کے آسمان پر پہنچ چکی ہے ۔ گزشتہ پانچ سال سے دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کا سارا زور پنجاب کی طرف دکھائی دیتا ہے آصف علی زرداری جب حکومت میں تھے تو وہ بھی اعلان کرتے تھے کہ اب وہ لاہور میں رہیں گے اور پنجاب میں پیپلزپارٹی کو زندہ کریں گے، مگر نہ وہ لاہور میں رہ سکے اور نہ پی پی پی کو زندہ کرسکے۔ اب تو گلگت بلتستان میں بھی پارٹی بُری طرح ہار گئی ہے، جہاں پانچ سال اس کی حکومت رہی۔گزشتہ سال سیلابوں کے دوران بلاول بھٹو زرداری پنجاب کے مختلف اضلاع کا دورہ کرنے کے لئے آئے، ان دوروں کے دوران انہوں نے اپنے چار پانچ قیمتی سوٹ بھی خراب کئے، مگر پھر دوبارہ پنجاب کی طرف نہ آئے، بلکہ سندھ کے عوام کے ساتھ بھی مناسب رابطہ نہ رکھ سکے اور لندن چلے گئے ۔

اب منتوں اور ترلوں کے بعد وہ پاکستان آئے ہیں، ان کے آنے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے ، لیکن اس بات کا تو پتہ چلے کہ وہ آخر کس سیاسی مشن پرہیں ؟ کیا وہ پارٹی کو عوامی سطح پر متحرک کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ اگر وہ پارٹی کی سیاست کو آگے بڑھانے کے لئے آئے ہیں تو یہ ایک اچھی بات ہے، لیکن انہیں سب سے پہلے پارٹی کی تنظیمی حالت کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت پی پی پی مختلف سربراہوں کے حصار میں ہے۔ آصف علی زرداری کے اپنے معاملات ہیں۔خود بلاول زرداری کے بارے میں ان کے والد کی رائے یہ ہے کہ بلاول ابھی سیاسی طور پر نابالغ ہیں، اب اگر ان کے والد کی بات درست ہے تو پھر کسی نابالغ سے پیپلزپارٹی کے ورکر کیا امید رکھ سکتے ہیں،ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر بلاول بھٹو زرداری واقعی سیاسی طور پر بالغ ہو چکے ہیں تو اس بار انہیں ایسے فیصلوں کے ذریعے آگے بڑھنا ہو گا کہ جن فیصلوں کے ذریعے پاکستان کے عوام، پارٹی کے جیالوں اور پی پی پی مخالف سیاستدانوں تک یہ پیغام پہنچے کہ بلاول اب سیاسی طورپر ’’بالغ‘‘ ہوگیا ہے۔

مزید : کالم