پڑھی لکھی حوا کی بیٹیاں کہاں جائیں؟

پڑھی لکھی حوا کی بیٹیاں کہاں جائیں؟
 پڑھی لکھی حوا کی بیٹیاں کہاں جائیں؟

  



رش اتنا تھا، مَیں سمجھا خواتین کا کوئی جلوس آ رہا ہے، موٹر سائیکلوں، رکشاؤں اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں بھی موجود تھیں۔ یہ ایجوکیشن یونیورسٹی ملتان کیمپس کا منظر تھا۔ ذرا سا کھوج لگانے پر علم ہوا کہ یہاں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام ایم اے اُردو لیکچررز کی اسامیوں کے لئے درخواست دینے والی امیدوار لڑکیوں کا ٹیسٹ ہے۔ ان کی تعداد دیکھ کر مَیں حیران رہ گیا، کُل52 اسامیوں کے لئے ملتان میں ہزاروں امیدوار ٹیسٹ میں شامل ہوئیں، پورے پنجاب میں کیا حال ہوگا؟یہ مُلک کی اعلیٰ ترین تعلیم کی حامل لڑکیاں تھیں، جن کی تعداد تمام مضامین کو ملا کر بلا شبہ لاکھوں میں ہو گی۔ ماں باپ نے انہیں کتنی مشکلوں سے پڑھایا ہو گا۔ایک لڑکی کی تعلیم معاشرے میں کتنا مشکل مرحلہ ہے، یہ وہی والدین جانتے ہیں، جن کی بیٹیاں پڑھ رہی ہیں، انہیں لانا لے جانا ہی ایسا کام ہے کہ جس سے کئی گھرانے تو لڑکیوں کی تعلیم ہی موقوف کرا دیتے ہیں۔ ذاتی طور پر میرے علم میں ہے کہ غریب والدین ذہین بیٹیوں کے اصرار پر انہیں اعلیٰ تعلیم دِلانے کی حامی تو بھر لیتے ہیں، مگر اُن کے پاس فیس دینے کے لئے پیسے نہیں ہوتے، فیس معافی کی درخواستیں دینے کا نوٹس لگتا ہے تو پورے کالج کی طالبات درخواستیں دیتی ہیں، پھر جن کا نام نہیں آتا وہ رونے لگتی ہیں، کیونکہ چند ہزار روپے بھی اُن کے لئے ایک بہت بڑا امتحان ہوتے ہیں۔

ان تمام مراحل سے گزر کر ایم اے/ایم ایس سی کی ڈگریاں لے کر انہیں دھکے کھانا پڑتے ہیں، ان کا کوئی مستقبل نہیں، بلکہ الٹا مستقبل تاریک ہوجانے کا ڈر ہوتا ہے۔ اس بات پر حیران نہ ہوں، پاکستان میں لڑکیاں زیادہ پڑھ رہی ہیں اور لڑکے پیچھے رہ گئے ہیں۔ جب غریب گھرانوں کی بچیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر لیتی ہیں تو اُن کے لئے رشتہ نہیں ملتا، چونکہ برادری کے سارے لڑکے کم تعلیم یافتہ یا اَن پڑھ ہوتے ہیں۔ اگر زبردستی اُن کی شادی کسی کم تعلیم یافتہ سے کر بھی دی جائے تو ذہنی ہم آہنگی کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، جو آگے چل کر طلاق پر بھی منتج ہو سکتے ہیں۔ ہاں اگر پڑھ لکھ کر لڑکیوں کو روزگار مل جائے، تو وہ نہ صرف اپنے گھرانے کا سہارا بن جاتی ہیں،بلکہ انہیں ہم پلہ رشتہ ملنے کی امید بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ مجھے نوجوان لڑکوں کے بیروزگار رہنے کی اتنی فکر نہیں، کیونکہ وہ بہت سے محنت مزدوری والے کام کر کے بھی روزگار کما سکتے ہیں، مگر لڑکیوں کے لئے اعلیٰ تعلیم کے بعد بھی بیروزگار رہنا انہیں ایک ایسے دوراہے پر لے آتا ہے،جہاں سے کوئی راستہ بھی منزل کی طرف نہیں جاتا۔

اللہ کا کوئی بندہ اسحاق ڈار کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرائے کہ انہوں نے کم سے کم اجرت13ہزار روپے کرنے کا اعلان تو کر دیا ہے، کبھی وہ اس حوالے سے بھی سروے کرائیں کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کو سکولوں، پرائیویٹ اداروں اور کارخانوں میں کیا اجرت دی جا رہی ہے؟ اچھے سے اچھا سکول بھی ایم اے پاس ٹیچر کو رو دھو کے دس ہزار روپے تنخواہ دیتا ہے، باقی تو چار سے پانچ ہزار بھی وقت پر نہیں دیتے۔ آٹھ سے دس گھنٹے کی نوکری کا یہ معاوضہ استحصال کی بدترین شکل ہے، مگر حکومت یا اُس کے کسی ادارے نے کبھی یہ زحمت گوارا نہیں کی کہ خواتین کے ملازمتی حالات اور شرائط و ضوابط کا جائزہ لے۔ خواتین کو ملازمت کی جگہ پر ہراساں کرنے کے خلاف تو قانون بنا دیا گیا ہے، مگر اصل قانون اس حوالے سے بننا چاہئے کہ کوئی بھی محکمہ، ادارہ یا آجر خواتین ملازمین کو کم سے کم اجرت سے کم ہر گز دینے کی جرأت نہ کرے۔سُنا ہے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرٹ پر نوکریاں مل جاتی ہیں۔بڑی اچھی بات ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ایک طرف مشکل ٹیسٹ لئے جاتے ہیں اور دوسری طرف انٹرویوز میں صوابدیدی اختیارات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اب کوئی امیدوار جو تحریری امتحان میں کامیاب ہو گیا ہے، ان صوابدیدی اختیارات کی کُند چھری سے ذبح کر دیا جائے، تو وہ کیا کر سکتا ہے۔ کیا اس صوابدیدی اختیار کا غلط استعمال نہیں ہو سکتا؟ کیا یہاں پرچی نہیں چل سکتی؟ سب کچھ ہو سکتا ہے اور ہو بھی رہا ہے، لیکن پھر بھی ابھی تک امیدواروں کا بھرم قائم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سو فیصد نہیں تو 80فیصد چانس ضرور ہے کہ انہیں میرٹ پر بھرتی کر لیا جائے گا۔

یہاں سوال یہ ہے کہ کیا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مشتہر کی جانے والی اسامیوں کی تعداد اتنی ہوتی ہے کہ وہ بیروزگاروں کی فوج ظفر موج کو روزگار دے سکیں۔ ہر گز نہیں، اعداد و شمار کے مطابق لیکچررز کی 1500اسامیوں کے لئے پنجاب پبلک سروس کمیشن کو دو لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔ گویا یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ پنجاب میں دو لاکھ سے زائد ایسے بیروزگار موجود ہیں، جنہوں نے یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے باوجود ان کا مستقبل تاریک ہے، انہیں یا تو چھوٹی چھوٹی ملازمتیں کرنا ہوں گی، جو استحصال کی بدترین شکل ہیں یا پھر بیروزگاری کے زخم سہنے ہوں گے۔ جہاں تک سرکاری ملازمتوں کا تعلق ہے، تو پنجاب پبلک سروس کمیشن سے ہٹ کر وفاقی و صوبائی محکموں میں جتنی بھی تقرریاں ہوتی ہیں، وہ سب کی سب سیاسی آشیر باد کے ذریعے کی جاتی ہیں۔ ایم این اے اور ایم پی ایز کے کوٹے مختص ہیں، البتہ پرچی انہیں لاہور سے لینا پڑتی ہے، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ حمزہ شہباز شریف کے دستخطوں سے جاری ہوتی ہے۔ پڑھے لکھے بیروزگاروں کی ایک فوج تیارکر کے ہم معاشرے کو کس طرف لے جا رہے ہیں؟ ایک طرف ہم تعلیم دیئے جا رہے ہیں، دوسری طرف ہماری ترجیحات میٹرو بس جیسے منصوبے ہیں، جن سے روزگار کے قطعاً کوئی مواقع پیدا نہیں ہوتے۔

کھڑیانوالہ فیصل آباد کے ایک شخص نے اپنی تین معصوم بیٹیوں کو گلا دبا کر قتل کر دیا، خدا جانے اس کے ذہن میں کیا خدشات ہوں گے، جو اُسے اس درندگی کی طرف لے آئے، لیکن مَیں سوچتا ہوں اگر وہ غربت کی وجہ سے اپنی بچیوں کو نہ پڑھا سکتا تو وہ پڑھی لکھی لڑکیوں کی فوج ظفر موج کے مقابلے میں اجڈ و گنوار رہ جاتیں اور اگر وہ کہیں سے پکڑ دھکڑ کے قرضہ اُٹھا کے، محنت مزدوری کر کے اُنہیں پڑھا بھی لیتا تو پھر کیا کرتا۔ اس کی بیٹیوں کو روزگار تو ملنا نہیں تھا، الٹا وہ اُن کی شادی بھی نہ کر پاتا کہ پڑھی لکھی لڑکیوں کی شادی بھی بڑے جہیز کے بغیر ممکن نہیں رہی۔ جن گھرانوں کے لڑکے پڑھ گئے ہیں اور برسر روزگار ہیں، وہ یا لیڈی ڈاکٹر کا رشتہ ڈھونڈتے ہیں یا پھر لیڈی لیکچررزکا۔ اگر یہ دونوں چیزیں ناپید ہیں تو پھر لڑکی کے والدین کا مالدار ہونا اور جہیز میں گاڑی سمیت سب کچھ دینا بنیادی تقاضا بن گیا ہے۔ بچپن میں ایک پنجابی فلم دیکھی تھی، جس میں بیٹی کے غریب باپ پر یہ گانا فلمایا گیا تھا:

دھیاں دیتیاں تے کیوں نہ دِتا مال مالکا

آج اس گانے کو کم و بیش نصف صدی کا عرصہ بیت گیا ہے، مگر یہ آج بھی لمحہ موجود کا المیہ لگتا ہے، بلکہ اب اس میں اور بھی سفاکی پیدا ہو گئی ہے ۔ جہیز نہ لانے والی بہوئیں تیزاب یا پٹرول ڈال کر جلا دی جاتی ہیں۔ پاکستانی معاشرہ اپنی نوعیت کی دُنیا میں شاید انوکھی مثال ہے کہ جہاں لڑکیاں جب اَن پڑھ ہوتی تھیں، تب بھی ایک بوجھ سمجھی جاتی تھیں اور اب جبکہ وہ اپنی ذہانت اور محنت سے تعلیم کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں تو ہم انہیں راستہ دینے کی بجائے نت نئی مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں۔ لیکچرار بننے کی خواہشمند لڑکیوں کے ہجوم کو دیکھ کر ذہن میں اُٹھنے والے خیالات کہاں سے کہاں لے گئے، لیکن کیا ہم اِن خیالات کو اسی طرح وقتی اہمیت دے کر نظر انداز کرتے رہیں گے؟ کیا پڑھے لکھے نوجوان خصوصاً لڑکیوں کے ایک مایوس اور ناامیدانبوہ کثیر کو ہم حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ سکتے ہیں؟ کیا اس طرح یہ معاشرہ مستحکم بنیادوں پر کھڑا ہو سکتا ہے؟۔۔۔ سوالات ہی سوالات، مگر جواب ندارد۔

مزید : کالم


loading...