پیپلز الائنس پارٹی، پاکستان اور چودھری صاحب

پیپلز الائنس پارٹی، پاکستان اور چودھری صاحب

  



ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے جوانوں سے اقبالؒ نے اسی لئے اظہارِ محبت کیا تھا کہ ان میں کچھ کر جانے کا جذبہ ہر آن مچل مچل جاتا ہے۔ شاعرِ مشرق کے کلام میں موجود تذکرۂِ خودی اور استعارۂِ شاہین ہمیں خود داری، تحریک اور حفاظتِ عزتِ نفس کی تلقین کرتا ہے۔ وہ ہمیں اپنے سارے کلام میں خانقاہوں میں بیٹھ کر اللہ ہو کرتے رہنے کے بجائے میدانِ عمل میں اتارنے پر زور دیتے ہیں۔ اُن کی کلیات میں ہمیں دلِ یزدان میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والا ابلیس ہر وقت وِرد کرتے چلے جانے والے ملا کو طنز کرتا نظر آتا ہے۔ حکیم الامت کی ساری زندگی امت کو بیدار کرنے اور انہیں ان کا تابناک ماضی یاد دلاتے گزر گئی۔ اب کہنا مشکل ہے کہ اُن میں سے کتنے بیدار ہو سکے، کتنے ستاروں پر کمندیں ڈال سکے اور کتنے پہاڑوں کی چٹانوں میں جا بسے، مگر آج کے اس گئے گزرے دور میں بھی ہمیں چند ایک چہرے ایسے ضرور مل جاتے ہیں کہ جن کے بارے میں گمان ہو چلتا ہے کہ اقبال حقیقتاً ایسی ہی روحوں کے متلاشی تھے۔ مجھے چند دن پہلے ایسے ہی ایک مردِ قلندر سے ملنے کا اتفاق ہوا کہ جن کی عمر بھر کی کمائی محض پاک سر زمین سے والہانہ محبت ہے۔

عامر چودھری صاحب عین عنفوانِ شباب میں پاکستانی دار الحکومت چھوڑ کے اعلیٰ تعلیم کے لئے برطانیہ آئے۔ انہوں نے یہاں سے تعلیم مکمل کی، سخت محنت کی، خوب نام کمایا اور مقام بنایا اور پھر پاکستان واپسی کے لئے رختِ سفر باندھ لیا۔ اپنی کُل پونجی سمیٹی اور اسلام آباد میں راول ڈیم کے کنارے تیس ایکڑ کے لگ بھگ ایک قطعہ اراضی کا انتظام کیا، دنیا کی مستند اور مسلمہ کمپنیوں کو ساتھ ملایا، ان کی اٹھارہ رکنی ٹیم کو ہمراہ لیا اور وہاں ڈزنی لینڈ بنانے کے لئے ایک غیر معمولی پراجیکٹ پرکام شروع کر دیا۔ انہوں نے زندگی کی اپنی ساری متاع اور پورے اخلاص کے ساتھ عوامی تفریح کا یہ جوا کھیلا، مگر وہ یہ بازی ہار گئے۔ سیاسی گماشتوں اور افسرانِ شاہی کی لمبی زبانیں بیرونی سرمایہ کاری دیکھ کے صرف مزید لمبی ہی نہ ہوئیں، بلکہ رالیں بھی ٹپکانے لگیں۔ بڑے بڑے ناموں والے سیاسی بونوں نے کروڑوں روپے رشوت یا پھر کاروباری اشتراک کی شرطیں رکھ ڈالیں۔ ان کے کام میں بلا وجہ اور غیر ضروری روڑے اٹکائے جانے لگے،حتیٰ کہ انہیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے واپس برطانیہ آنا پڑا۔ حد تو یہ ہوئی کہ وہ زمین بھی ان سے چھین لی گئی کہ جس پر انہوں نے اپنی تمناؤں کا عوامی منصوبہ بنانا تھا۔ ایک اعشاریہ چھ ملین پاؤنڈ برباد کرنے کے بعد آج وہ میرے سامنے بیٹھے تھے۔

ہمارے بعض لوگ تو اتنی بڑی رقم لاٹری تک میں جیتنے کی امید نہیں رکھتے، جتنی وہ پاکستان کی محبت میں اسلام آباد لُٹا آئے تھے۔ یہ میرا اعزاز تھا کہ آج وہ میرے پاس تشریف لائے تھے۔ آج ہماری پہلی ملاقات تھی۔ وہ ہشاش بشاش، مستعد، توانا اور اتنے چرکے کھانے کے باوجود بھی پہلے سے زیادہ پر اُمید نظر آ رہے تھے۔ میں نے اُنہیں حیلوں بہانوں سے کریدنے کی کوشش کی، مگر انہوں نے کفِ افسوس ملا، کسی تأسف کا اظہار کیا، گہری سانسیں لیں اور نہ ہی آنکھیں نم کیں۔ ان کے لہجے کے اتار چڑھاؤ میں قطعاً کوئی فرق نہیں آیا۔ بھاری مالی نقصان برداشت کرنے کے بعد اور گھر والوں اور اعزہ کی مخالفت کے باوجود ان کے اندر سے پاکستان کے لئے کچھ کرنے کی آرزو مات نہیں کھا سکی۔ وہ پہلے سے زیادہ لگن، اخلاص اور ہمہ جہتی رفقائے کار کے ساتھ نئے ولولے کے ساتھ ایک بار پھر عمل کے میدان میں کودے ہیں۔ میں نے ان کی آنکھوں میں مستقبل کی کامیابی کی چمک دیکھی ہے۔ میں نے ان کے لہجے میں موجودہ نظامِ سیاست و عدالت کی بابت جو دو ٹوک موقف سنا ہے اس سے اندازہ ہو چلا ہے کہ یہ بے سمت چلنے والا نوجوان نہیں، بلکہ وہ پوری ہمت سے سُوئے منزل رواں ہے اور اگر وہ اسی عاجزی اور اسی تڑپ سے جانبِ منزل گامزن رہا، تو کوئی بھی اس سے مقامِ منزل دُور نہیں کر سکتا۔

پاکستان پیپلز الائنس پارٹی، برطانیہ میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی میں مختصر وقت میں اپنا منفرد نام بنانے والی پہلی تنظیم ہے۔ انہوں نے پہلے برمنگھم اور اب سلاؤ میں اپنے کامیاب ترین پروگرام کر کے لوگوں کی کثیر تعداد کو اپنی جانب کھینچ لیا ہے۔ عامر چودھری صاحب پاکستان پیپلز الائنس کے سرپرستِ اعلیٰ ہیں اور ان کا اصرار تھا کہ میں بھی سلاؤ والے پروگرام میں حاضر ہوتا، مگر میں روایتی سستی کا شکار ہو گیا۔ میں یہاں اپنی غیر حاضری پر ان سے معذرت بھی کرتا ہوں اور اظہارِ افسوس بھی کہ میں نے نہ جانے کیوں اتنا اہم اور مؤثر پروگرام ضائع کر دیا۔ یہ الائنس پاکستان میں تعمیری اور اصلاحی کلچر کی روایت ڈالنے کا خواہاں ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ تنقید برائے تنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ الائنس اتحاد، امن، ترقی و خوش حالی اور مہذب قوم کی تشکیل ایسے اہم نکات پر مرکوز کر کے اپنے کام کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ ان کے نزدیک مملکتِ خداداد کی کشتی کو ایک سازش کے تحت فرقہ واریت اور دہشت گردی کے گرداب میں لا کر چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ قوم تمام تعصبات سے بالا تر ہو کر متحد ہو اور یہی اتحاد اسے فرقہ واریت سے نجات دلائے۔ اِن کے مطابق اتحاد کے بغیر پاک وطن میں امن قائم نہیں ہو سکتا، لہٰذا ہمیں ہر قسم کے جرم کے لئے فوری اور بے لچک سزاؤں کو نافذ کرنا ہو گا جس سے مجرموں کی حوصلہ شکنی ہو گی اور جرائم کی روک تھام کے لئے فوری سزاؤں کا نسخہ کارگر ثابت ہو گا۔

ان کے بقول اتحاد اور امن کے بعد ملک میں خوش حالی اور ترقی کے دور کا آغاز ہو گا۔ پاکستان اپنی ضروریات میں خود کفیل ہو گا، تو درآمدات کا سیلاب رُک سکے گا جس سے زرِ مبادلہ بڑھے گا، روپے کی قدر میں اضافہ ہو گا اور مہنگائی کا جن بوتل میں جائے گا۔ لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی جس سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا جو امن اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لئے مؤثر ہتھیار ثابت ہو گا۔ ان کے خیال میں موجودہ نظام اتنا بوسیدہ اور باسی ہو چکا ہے کہ اب باقاعدہ سڑانڈ مارنے لگا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سبھی سیاسی جماعتیں کسی پروگرام اور منشور کی بجائے شخصیات کے گرد گھوم رہی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ عوام کے سامنے چہرے نہیں، ہوم ورک رکھا جائے، کیونکہ اس شخصیت پرستی نے ملکِ عزیز کا آمریتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ نقصان کیا ہے۔ پیپلز الائنس کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک متبادل قیادت فراہم کرنے کے پوری طرح اہل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں موقع ملا، تو ہم نئے پاکستان کی چنداں بنیاد نہیں رکھیں گے، بلکہ ہم پہلے سے موجود پاکستان کو مضبوط بنائیں گے۔ وہ کسی کے مقاصد پر بپا کی گئی کسی بھی احتجاجی تحریک کے ساتھی نہیں بنیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ درآمدات گھٹا اور برآمدات بڑھا کر، غیر ملکی امداد سے جان چھڑا کر اور سرمایہ کاری بڑھا کر، قرضے کم کر کے اور روپے کی قدر بڑھا کر، اخراجات کم کر کے اور بچت میں توازن کی فضا بنا کر ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں بآسانی کھڑے ہو سکتے ہیں۔

سمندر پار بسنے والے پاکستانی جب دیگر ممالک میں ہوتی ترقی دیکھتے ہیں، تو ان کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش ہمارا ملک بھی یونہی پھلے پھولے اور اسی خواب کی عملی تعبیر کے لئے کئی لوگ پاکستان واپس جاتے ہیں، مگر سست روی کا شکار دفتری نظام ہی ان کی بقیہ ساری عمر اور توانائی نگل جاتا ہے جو دوسرے ذہن رسا رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی کا موجب بنتا ہے۔ ہمارے کلرک بادشاہ گھر سے عزمِ صمیم لے کے نکلتے ہیں کہ انہوں نے کسی کا کام کرنا ہے اور نہ ہی ہونے دینا ہے۔ نیچے سے لے کر اوپر تک آوے کا آوا ہی تباہ حال ہے۔ جو پہیے نہیں لگا سکتا اس کی فائلیں نسل در نسل یک دفتر سے دوسرے دفتر تک دھکے کھاتی رہتی ہیں، مگر شنوائی نہیں ہو پاتی۔ چار سُو پھیلے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اگر کوئی سچے جذبے کی دیا سلائی جلاتا بھی ہے، تو عقلی نابینے پھونکوں سے اسے بجھا دیتے ہیں۔

ایسے مایوس کُن حالات میں جو بندہ پورے ماحول کو یکسر بدل ڈالنے کی بات کرے، تو وہ بظاہر دیوانے کی بڑ معلوم پڑتا ہے، لیکن اب اس کے علاوہ چارہ بھی کیا ہے۔ ہمیں چلے ہوئے کارتوسوں کو اور کب تک چلاتے جانا ہے؟ بھجے ہوئے دانے کبھی اُگا نہیں کرتے خواہ مٹی کتنی ہی زرخیز کیوں نہ ہو۔ جن تلوں میں تیل نہ ہو انہیں جتنا کولہو میں پِیس لیجیے، تیل نہیں نکل سکتا اس لئے بار بار دھوکے کھاناایک سچے مومن کی شان کے خلاف ہے۔ ہمیں ہوش کی آنکھیں چوپٹ کھولنی ہوں گی اور ان ازلی بے رحموں سے التجائیں کرنا بند کرنا ہوں گی۔ ہمیں اُن کا دست و بازو بننا ہو گا کہ جو ہم میں سے ہیں۔ جن کی خوشیاں اور دکھ مشترک ہیں۔ جو اسی زمین سے پیوست ہیں کہ جن پر میں اور آپ رینگ رہے ہیں۔ صدیوں کا بُعد رکھنے والے کبھی سانجھی نہیں ہو سکتے ہیں۔ میں جناب عامر چودھری سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اخلاص اور کرب کو دعووں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ کا کام یارانِ نکتہ دانان کو صرف صلائے عام دینا ہے اور آپ یہ کام بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ اب اگر کوئی لبیک کہتا ہے، تو اُس کا بھلا، ورنہ آپ تو ناکام پھر بھی نہیں۔ ہماری مذہبی تعلیمات یہ ہیں کہ ’’اعمالکم عمالکم‘‘۔ اگر عوام بدستور انہی سے توقعات رکھتے ہیں، تو یہی چہرے نئے میک اپ کے ساتھ آ جائیں گے اور اب اگر لوگ اکتا گئے ہیں، تو عوام الناس کے دل رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں وہ یقیناً یہ دل آپ کی جانب پھیر دے گا اور جب یہ دل پھر گئے تب آپ کے اخلاص کا جادو سر چڑھ کر بولے گا۔

مزید : کالم


loading...