ترکی میں پارلیمانی انتخابات

ترکی میں پارلیمانی انتخابات

  



تیرہ برس بعد ترکی میں سیاسی منظر تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ عام انتخابات کے نتائج کے مطابق حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ کو پارلیمانی اکثریت حاصل نہیں ہو سکی اور اسے حکومت سازی کے لئے کم از کم18ووٹوں کی حمایت درکار ہے۔اس پارٹی کے سربراہ صدر طیب اردوان ہیں۔ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو 41فیصد ووٹ ملے، جبکہ گزشتہ انتخابات میں اسے49 فیصد ووٹ ملے تھے، یعنی اس کے ووٹوں میںآٹھ فیصد کمی واقع ہو گئی۔یہ نتائج طیب اردوان کی امید کے بالکل برخلاف معلوم ہوتے ہیں، جو آئین میں ترمیم کے لئے فیصلہ کن اکثریت، بلکہ دو تہائی اکثریت کی امید لگائے بیٹھے تھے۔انتخابات میں دوسرے نمبر پر ریپبلکن پیپلز پارٹی رہی جسے 25فیصد ووٹ ملے، نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کو 16فیصد،جبکہ کرد پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے 12اعشاریہ 5فیصد ووٹ حاصل کئے۔نشستوں کے تناسب سے 550 کے ایوان میں حکمران جماعت کو 259، ریپبلکن پیپلز پارٹی کو 131، جبکہ کردش پارٹی کو 80 نشستیں ملی ہیں۔ انتخابات میں 86فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔کرد پارٹی کو پہلی بار 12 فیصد ووٹ ملے ہیں۔اس طرح ان کے لئے اسمبلی میں جانے کا راستہ کھل گیا ہے کیونکہ ترکی کے آئین کے مطابق اگر کوئی جماعت 10 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو اس کو اسمبلی تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔

اس صورت حال میں اب حکومتی جماعت کو تین جماعتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے مخلوط حکومت بنانا پڑے گی، جو کہ اس کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہو گا،کیونکہ یہ تینوں جماعتیں اس کی مخالف ہیں، اپنی انتخابی مہم کے دوران طیب اردوان بھی ان کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ بہت مشکل ہے کہ وہ طیب اردوان کی جماعت کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر رضا مند ہو جائیں۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ ان جماعتوں میں سے کچھ لوگ ٹوٹ کر حکومتی جماعت میں شامل ہو جائیں اور دوسری صورت یہ ہے کہ تمام مخالف جماعتیں اکٹھی ہو جائیں تو پھر اکثریت ان کے پاس آ جائے گی اور وہ اپنی حکومت قائم کر سکیں گی اور اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی ترکیب کارگر نہیں ہوتی تو پھر دوبارہ انتخابات کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔انتخابات کے نتائج صدر طیب اردوان کے لئے کسی دھچکے سے کم نہیں، لیکن پھر بھی نتائج آنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ان کا یہی کہنا تھاعوام کی رائے ان کے لئے بہت اہم ہے۔ انہوں نے تمام جماعتوں کو مل کر کام کرنے پر زور دیا۔صدر طیب اردوان کی جماعت 2002ء سے متواتر انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرتی آ رہی ہے، لیکن اس دفعہ فیصلہ ان کے حق میں نہیں ہو سکا۔ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو سب سے زیادہ نشستیں تو مل گئیں،لیکن وہ حکومت بنانے کے لئے ناکافی ہیں۔ پھر یہ کہ آئین میں ترمیم کر کے اسے صدارتی بنانے کا خواب تو بالکل ہی ادھورا رہ گیا ہے۔

صدر طیب اردوان بہت اچھے منتظم اور بَلا کے مقرر ہیں،انہوں نے کئی پہلوؤں سے ترکی کو بہت زیادہ ترقی دی ہے۔ بہت سی کامیابیاں اُن کے عہدِ وزارتِ عظمیٰ میں ہوئی ہیں، لیکن ناقدین کے مطابق ان کی مقبولیت میں کمی کی بڑی وجہ ان کا سخت گیر رویہ ہے۔وہ اپنے اوپر تنقید برداشت نہیں کرتے تھے، بلکہ ایساکرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے۔میڈیا کا مخالف حصہ اکثر ان کے عتاب کا شکار رہتا۔ ترکی کے مشہور مذہبی مفکر گولن موومنٹ کے بانی فتح اﷲ گولن سے بھی ان کی ٹھن چکی تھی۔ اُن کا خیال تھا کہ گزشتہ برس کے تشدد آمیز ہنگاموں میں گولن موومنٹ کا ہاتھ تھا۔رہی سہی کسر انہوں نے شاندار صدارتی محل کی تعمیرکروا کر پوری کر دی۔ ایک ہزار سے زائد کمروں پر مشتمل صدارتی محل نے ان کے مخالفین کو کھلے عام حملے کرنے کا موقع دے دیا۔ بھلے ہی ان کا موقف تھا کہ ترکی ایک بڑا ملک ہے اور اس کے صدر کی رہائش گاہ بھی شایان شان ہونی چاہئے، لیکن بہت سے لوگ اس سے متفق نہیں ہو سکے۔ایک خیال یہ بھی ہے، چونکہ طیب اردوان خود صدر تھے اور اپنی جماعت کی مہم پُرجوش طریقے سے نہیں چلا سکتے تھے اور وزیراعظم داؤد اوغلو کی شخصیت ایسی نہیں تھی، جس کے طلسم میں گرفتار ہو کر لوگ ان کی جماعت کو ووٹ دے دیتے، اس لئے بھی ان کی جماعت کو اس ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ ان کا خیال تھا کہ صدر بننے کے بعد وہ دستور میں تبدیلی لے آئیں گے، صدارتی نظام نافذ کر دیں گے اس طرح طاقت ان کے ہاتھ میں ہی رہے گی، لیکن اب ان کا یہ خواب تو پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔دستور میں تبدیلی کے لئے انہیں 330 نشستوں کی ضرورت تھی۔

دوسری طرف کرد پارٹی جس نے پہلی مرتبہ اتنی کامیابی حاصل کی ہے ، کے رہنماصلاح الدین ایک خوش شکل اور42سالہ جوان ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ان کی جماعت حکومت کا حصہ بن گئی تو مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا، خواتین کی وزارت بنائی جائے گی اور خواتین کے عالمی دن پر تعطیل بھی ہو گی، وہ ہم جنس پرستی کی حمایت بھی کرتے رہے۔اس کے علاوہ انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ بنیادی تنخواہ میں اضافہ کرائیں گے اور اعلیٰ تعلیم عام کریں گے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ کرد پارٹی میں مرد اور عورت کو چےئرز ہیں اور خواتین کے لئے50 فیصد کوٹہ بھی مختص ہے۔ان کی ایسی باتیں طیب اردوان کے مخالفین کے لئے امید کی کرن بن گئیں۔ان انتخابات میں ایک اور قابلِ ذکر بات جو سامنے آئی وہ خواتین کی ریکارڈکامیابی ہے،اس بار 17 فیصدنشستیں خواتین کے حصے میں آئی ہیں، یعنی 96 خواتین نے کامیابی حاصل کی ہے۔ اس ساری صورت حال میں انتظار اس بات کا ہے کہ اونٹ آخر کس کروٹ بیٹھے گا؟ ترکی میں ایک طویل عرصے کے بعد سیاسی استحکام متاثر ہوتا نظر آ رہا ہے۔اہلِ اقتدار کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ بساط لپٹتے دیر نہیں لگتی۔ بہرحال مُلک میں جمہوریت قائم رہنی چاہئے، چہروں میں تبدیلی اس پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ جمہوریت میں چہرے بھی بدلتے ہیں اور منشور بھی بدلتے رہتے ہیں۔

مزید : اداریہ