ناسا کا مستقبل میں مریخ پر اترنے کی کوششوں کے سلسلے میں ہیلیم سے بھرے غبارے کا تجربہ ناکام رہا

ناسا کا مستقبل میں مریخ پر اترنے کی کوششوں کے سلسلے میں ہیلیم سے بھرے غبارے ...

  



نیویارک (این این آئی)امریکی خلائی ادارے ناسا کا مستقبل میں مریخ پر اترنے کی کوششوں کے سلسلے میں ہیلیم سے بھرے غبارے کا تجربہ ناکام رہا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ناسا کی ترجمان کمبرلی نیوٹن نے ایک ای میل کے ذریعے یہ بات بتائی رپورٹ کے مطابق غبارے کو امریکی ریاست ہوائی کے کاؤآئے جزیرے سے چھوڑا گیا اور تجرباتی طور پر اس میں طشتری کی شکل اور وزن کی چیز رکھی گئی لیکن منصوبے کے مطابق یہ کامیاب نہیں رہا کیونکہ اس کا پیراشوٹ بروقت نہ کھل سکا۔ناسا کے سائنسدانوں کو امید تھی کہ اس تجربے سے خلابازوں کا مریخ پر اترنے کا راستہ ہموار ہوگا۔

تجربے میں اس بات کی کوشش کی گئی تھی کہ آواز کی رفتار سے زیادہ تیز چلنے والی کوئی گاڑی جب مریخ کے فضائی حدود میں پہنچے گی تو وہ اپنی رفتار کس طرح کم کرے گی۔ہیلیم گیس سے پر ایک غبارے کو، جس میں طشتری نما چیز رکھی گئی تھی خلا میں 37 کلو میٹر کی بلندی پر لے جایا گیا اور پھر وہاں اس میں موجود ایک خودکار راکٹ کے ذریعے مزید 50 کلومیٹر دور بھیجا گیا۔منصوبے کے مطابق وہاں پیراشوٹ کو رفتار کم کرنے کے لیے کھلنا تھا لیکن یہ پیرا شوٹ جزوی طور پر ہی کھل سکا اور تمام چیزیں بالآخر بحرالکاہل میں جا گریں۔خیال رہے کہ ناسا اس ٹیکنالوجی کا مستقبل قریب میں استعمال نہیں کرنے والا ہے اور اگر تجربہ ناکام رہتا ہے تو وہ اس کا استعمال ہی نہیں کرے گا۔ناسا نے کہا کہ وہ خلابازوں کو مریخ پر 2030 کی دہائی میں روانہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔آواز کی رفتار سے زیادہ تیز چلنے والا یہ غبارہ اپنے قطر میں 30 میٹر ہے اور یہ 2012 میں کیوروسیٹی نامی خلائی گاڑی کو مریخ پر لے جانے کے لیے استعمال کیے جانے والے غبارے سے دوگنا بڑا ہے۔۔

مزید : عالمی منظر


loading...