موجودہ صورتحال میں اس سے بہتربجٹ پیش نہیں ہوسکتاتھا: شاہ فیصل آفریدی

موجودہ صورتحال میں اس سے بہتربجٹ پیش نہیں ہوسکتاتھا: شاہ فیصل آفریدی

  



لاہور(کامرس رپورٹر )پاک چین جوائینٹ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے بجٹ 2015-16 کو ایک ترقیاتی بجٹ قرار دیا ۔ اس ضمن میں جاری شدہ اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ موجود ہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی صورتحال میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اس سے بہتر بجٹ پیش نہیں کر سکتے تھے جس میں ہر شعبے کی ضروریات کو بھی مد نطر رکھا گیا ہے اور بیرونی قرضوں پرانحصار کو بھی حتی الوسع کم کیا گیا ہے۔فیصل آفریدی نے کہا کہ بجٹ کے بارے میں تنقیدی رائے کا اظہار کرنے والوں کو ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ مستحکم ترقی وقت کی ضرورت ہے اور حالیہ بجٹ میں حکومت نے معاشی استحکام اور تسلسل کو ممکن بنانے کی مقدور بھر کوشش کی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ قرضوں کی واپسی، نجی سرمایہ کاری میں اضافہ، مینوفیکچرنگ سیکٹر کی جدت طرازی اور بے روزگاری کے خاتمے کیلئے وافر رقم کا مختص کیا جانا اس بجٹ کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

اُنہوں نے ایک کامیاب عملی بجٹ پیش کرنے پر وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسھاق ڈار کو مبارکباد پیش کی ۔فیصل آفریدی نے بجٹ میں دفاعی رقوم میں اضافے کو سراہا ۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک اس وقت ترقی کے اہم موڑ پر ہے جہاں اسے دشمنوں سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں سرگرم چینیوں کی حفاظت کیلئے 3.5بلین روپے مختص کرنے کے اقدام کو بھی سراہا اور زراعت، تعمیرات اور بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی مراعات کے اعلان کو بھی خوش آئیندقرار دیا تاہم اُنہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ طے شدہ اقدامات کو عملی طور پر ممکن بنانے کیلئے بھی خصوصی اقدامات بروئے کار لائیں۔فیصل آفریدی نے وزیراعظم یوتھ قرضوں پر شرح سود میں کمی اور شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کیلئے سود سے پاک قرضوں کی فراہمی کے اعلان پر بھی حکومت کو داد دی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے اتنا بھاری بجٹ مختص کیا گیا ہے۔اسی طرح صحت کے شعبے کی ترقی کیلئے مختص رقوم میں بھاری اضافہ حکومت کی تعلیم دوست پالیسیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔فیصل آفریدی نے تجویز پیش کی کہ حکومت کو اپنے ٹیکس محصولات کو بہتر بنانے پر توجعہ مرکوز کرنی چاہئے اور تمام باقاعدہ ٹیکس دہنگان کیلئے ترغیات کا اعلان کرنا چاہئے ۔اُنہوں نے کہا کہ اگر اس تجویز کو بجٹ میں ترمیم کے طور پر شامل کیا جائے تو ڈومیسٹک ڈیبٹ سروسنگ کے اخراجات میں نمایاں کمی ہوگی، جس سے افراط زر کی شرح میں کمی آئے گی اور عام آدمی کی زندگی پر معاشی دباؤ کم ہوگا۔

مزید : کامرس


loading...