پی ٹی آئی مشکل میں

پی ٹی آئی مشکل میں
 پی ٹی آئی مشکل میں

  



سالِ نو میں ہونے والے جملہ انتخابات میں پی ٹی آئی کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ دھرنے کا کریڈٹ اس کے ڈس کریڈٹ میں بدل گیا ہے۔ عام خیال یہ تھا کہ پیپلز پارٹی کا ووٹ شفٹ ہو کر پی ٹی آئی کا ووٹ بن گیا ہے، لیکن زمینی صورت حال یہ ہے کہ جیالا پیپلز پارٹی کے لئے نکل رہا تھا نہ پی ٹی آئی کے لئے نکل رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے حامیوں کی دم توڑتی ہوئی سانسوں کی آواز بڑھتی جا رہی ہے، ان کے دعوے زمیں بوس ہوتے جا رہے ہیں اور زبانوں کو لگے تالوں کو زنگ لگتے جا رہے ہیں۔ اب ٹی وی چینلوں کے ٹاک شوز میں وہ شوخیاں اور گرمیاں دیکھنے کو نہیں ملتی ہیں جو پی ٹی آئی نواز چہروں کی نشانی ہوا کرتی تھیں۔ یہ تاثر پختہ ہو تا جا رہا ہے کہ غلطی پر غلطی کرنے کا دوسرا نام عمران خان ہے۔کچھ تو اس قدر اوتاولے ہوئے پڑے ہیں کہ عمران خان کی موجودہ کیفیت کو اس وقت کے ایئر مارشل اصغر خان سے ملاتے نظر آ رہے ہیں، جب ان کی تحریک استقلال عوام میں مقبولیت کھو رہی تھی ۔صورت حال یہی رہی تو پنجاب میں بہت جلد بلاول بھٹو اور عمران خان مد مقابل ہوں گے، چن چن کے سامنے ہو گا،کیونکہ بلاول بھٹو ابھی تک نان سٹارٹر ہیں تو عمران خان بھی ریورس گیئر میں ہیں۔ وہ جب جب ریس پر پاؤں رکھتے ہیں ، پی ٹی آئی ایک دو فٹ اور پیچھے چلی جا تی ہے اور اب پیپلز پارٹی کے برابر کھڑی نظر آرہی ہے۔

حالات عمران خان کے سیاسی قتل کے مترادف ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ وہ کس طرح سے پہئے کو الٹا گھمائیں کہ رائے عامہ دوبارہ سے ان کے حق میں ہو جائے۔ منڈی بہاؤالدین میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے جس طرح سے بلے کا استعمال کیا ہے اس کے نتائج آنے والے دِنوں میں عمران خان کے سامنے آئیں گے۔ سیاست بہت بے رحم ہوتی ہے ، یہ جس کو چاؤ سے گلے لگاتی ہے اسی کو گلے سے اتار پھینکتی ہے۔ عمران خان سیاست کے میدان میں ان فٹ ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ کرکٹ میں جس طرح ایک میچ ہارنے کا مطلب پوری سیریز ہارنا نہیں ہوتا ، کسی وقت بھی کم بیک کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکے ہیں کہ سیاست میں واپسی ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہوتی ہے ، جیسے غلام مصطفےٰ کھر سیاست میں واپسی کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں، مگر کہیں کوئی جگہ بنا نہیں پا رہے ہیں۔

عمران خان کو یہ زعم لے ڈوبا ہے کہ وہ بہت مقبول ہیں، حالانکہ وہ بھول گئے ہیں کہ مقبول ہونے اور قابل قبول ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ خوبصورت انگ لہرا کر ناچتی ہوئی رقاصہ ہر ایک کو بھاتی ہے، مگر کوئی بھی اسے بیاہ کر گھر میں بسانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اس صورت حال کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ آج ابرارالحق سنگر رہے ہیں اور نہ ہی سیاست دان، بلکہ چوں چوں کا مربّہ بن چکے ہیں، انہیں جہاں گانے کے لئے بک کیا جاتا ہے ، جا کر گا آتے ہیں اور جہاں تقریر کے لئے بلایا جاتا ہے ، جا کر تقریر کر آتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں صورت حال پی ٹی آئی کے بس سے باہر ہوتی جا رہی ہے ۔ ایسا نہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت جانے والی ہے ، بلکہ پی ٹی آئی کی مخالف سیاسی جماعتیں ابھی پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو گھر بھیجنے میں سنجیدہ بھی نہیں ہیں، بلکہ چالاک بلیوں کی طرح ہاتھ آئے چوہے کے ساتھ کھیلنے کو ترجیح دے رہی ہیں، ان کا مقصد ابھی پی ٹی آئی کی خاک اڑانا ہے، اسے سیاسی طور پر بے وقعت کرنا ہے ، دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے دوبارہ بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان اپنے خلاف لگائی جانے والی فرد جرم کی توثیق کے مترادف ہے۔

ایسے میں پی ٹی آئی کے حامیوں کو سمجھ نہیں آرہی ہے کہ وہ کس طرح سے پی ٹی آئی کی وکالت کریں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ٹی وی چینلوں کے ٹاک شوز بدذائقہ ہوتے جا رہے ہیں، بے مزہ اور بے رونقے ہوتے جا رہے ہیں، چونکہ پی ٹی آئی نواز تجزیہ کار پی ٹی آئی کی تعریف نہیں کر پارہے، اس لئے وہ پی ٹی آئی مخالف جماعتوں پر تنقید بھی ڈھنگ سے نہیں کر پار ہے۔

عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مستقل مزاج نہیں ہیں۔ وہ بیک وقت سب کچھ کرنا چاہتے ہیں ، سب کچھ بننا چاہتے ہیں، جبکہ وہ کچھ بھی ڈھنگ سے نہیں کر پارہے ہیں۔ وہ سیاست میں ایک ایسے اونٹ کی صورت کھڑے ہیں، جس کی کوئی کل سیدھی نظر نہیں آرہی ہے، وہ ناچنا جانتے نہیں ہیں اور بتا رہے ہیں کہ آنگن ٹیڑھا ہے، الیکشن خود ہار رہے ہیں اور قصور وار ملک کے انتخابی نظام کو قرار دے رہے ہیں۔پی ٹی آئی مشکل میں ہے!

مزید : کالم


loading...