بجٹ آگیا ، نفع نقصان کا اندازہ ہونے لگا: ایوان میں تقاریر شروع

بجٹ آگیا ، نفع نقصان کا اندازہ ہونے لگا: ایوان میں تقاریر شروع

  



اسلام آباد سے ملک الیاس:

وفاقی بجٹ 2015-16کااعلان کردیا گیا ،پرسکون ماحول میں وزیرخزانہ اسحق ڈار نے بجٹ پیش کیا نہ کوئی شورشرابا دیکھنے میں آیا اور نہ ہی بجٹ اجلاس کے موقع پر اراکین اسمبلی میں گہما گہمی دیکھنے کو ملی،یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالیہ بجٹ نے عوام کو کیا دیا؟اپوزیشن اراکین اسمبلی اور جماعتیں بجٹ کو ظالمانہ قراردے رہی ہیں جبکہ حکومت نے اسے عوام دوست بجٹ کانام دیا ہے بجٹ عوام دوست ہے یاظالمانہ اس کے اثرات تو عوام پر چند روزمیں ہی پڑنا شروع ہوجاتے ہیں،ابھی تو بجٹ پر قومی اسمبلی کے اراکین نے کئی روز تک بحث و مباحثہ کرنا ہے حکومتی و اپوزیشن اراکین اسمبلی اپنی تقاریر میں سارا زور بجٹ کے نقصانات اور فوائد ثابت کرنے میں لگادینگے چند ایک کٹوٹی کی تحریکیں منظور ہوں گی اور پھر بجٹ کو پاس کرلیا جائے گا ،اپوزیشن اراکین اسمبلی نے بجٹ تقاریرکو براہ راست دکھانے کا مطالبہ کیا جس پر حکومت نے سست روی کا مظاہرہ کیا تو بجٹ تقاریر براہ راست نہ دکھانے پر اپوزیشن نے دونوں ایوانوں سے علامتی واک آؤٹ کردیا، خورشید شاہ نے کہا کہ میں تب تقریر کرؤں گا جب میری تقریر براہ راست دکھائی جائیگی اس پر وزیراطلاعات پرویزرشید نے کہا کہ صرف وزیرخزانہ کی تقریر براہ راست دکھائی جاتی ہے ،اس پر اپوزیشن اراکین نے کہا کہ جب تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کرلیا جاتا ہم واک آؤٹ کرینگے پی ٹی آئی کے شاہ محمودقریشی نے کہا کہ حکومت فراخ دلی کا مظاہرہ کرئے اور تقریر براہ راست دکھائے ساتھ ہی ساتھ اپوزیشن کو زیادہ بولنے کا موقع دیا جائے ایم کیو ایم کا یہاں موقف سامنے آیا کہ دھرنے کے دوران لائیو تقاریر ہوسکتی ہیں تو اب ایسا کیوں نہیں ہوسکتا ،وزیراطلاعات پرویز رشید نے بالاآخرتقاریر لائیو دکھانے کی حامی بھری ساتھ ہی انکا کہنا تھا کہ پی ٹی وی تمام چینلز کو بجٹ سیشن کی لائیو فیڈ دے گا مگر آگے چینلز کی مرضی کہ وہ اپنی پالیسی کے مطابق کسی کو دکھائے یا نہ دکھائے ،اس موقع پرانکا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر خزانہ کی الگ ٹی وی چینل قائم کرنے کی تجویزکو عملی جامہ پہنانے کیلئے وقت اور فنڈ درکار ہیں، وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر براہ راست نشر کرنا ایک روایت چلی آ رہی ہے۔

راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کے افتتاح کے اگلے روز تقریبا ایک لاکھ پینتیس ہزار مسافروں نے جڑواں شہروں کے درمیان سفر کیا جو کہ میٹرو بس سروس کی کامیابی سمجھا جارہا ہے وزیراعلی پنجاب محمدشہبازشریف نے تیسرے روز پھر میٹرو بس پر سفر کیا اور راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کا نام تبدیل کرکے باقاعدہ طورپر پاکستان میٹرو بس سروس رکھ دیا گیا ،وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف نے اس موقع پر میٹرو بس سروس کوکامیاب بنانے کیلئے فیڈرروٹس سے بسیں چلانے کااعلان بھی کیا انکا کہنا تھا کہ فیڈرروٹس سے بسں چلنے سے عوام کو سہولت میسر ہوگی اور اسکا کرایہ بھی میٹرو بس کے کرایے میں شامل سمجھا جائے گا یہ انکی طرف سے بہت بڑی سہولت کااعلان کیا گیا اس سے میٹرو ٹریک کے قریبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی بھی باآسانی میٹرو بس سروس تک رسائی ہوسکے گی اور وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے ،اسکے ساتھ مری روڈ پر جس روٹ پر میٹرو بس چل رہی ہے پبلک ٹرانسپورٹ کے روٹ بند کردیے گئے ہیں خاص کر ایک نمبر روٹ جو راولپنڈی اسلام آباد کا سب سے پرانا روٹ تھا اسے مری روڈ سے تبدیل کرکے علیحدہ روٹ دے دیا گیا جو کہ اب ڈھوک سیداں راولپنڈی،مصریال روڈ سے سپرمارکیٹ اسلا م آباد تک کا ہے اب مری روڈ پر لوکل اور اسلام آباد جانیوالے مسافروں کا تمام ترانحصار میٹرو بس پر ہوگا اس کے ساتھ ساتھ لوگوں نے وزیراعلی سے یہ اپیل کی ہے کہ میٹرو بس کامکمل کرایہ تو 20روپے ٹھیک ہے مگر راولپنڈی کے اندر یا اسلام آباد کے اندر سٹاپ ٹوسٹاپ کرایہ کم کرکے 20روپے کے بجائے 10روپے رکھا جائے کیونکہ جس نے راولپنڈی سے اسلام آباد جانا ہے اس نے بھی 20روپے دینے ہیں اور جس نے اگلے سٹاپ پراترجانا ہے اس نے بھی 20روپے دینے ہیں اس کے علاوہ ابھی تک میٹرو بس کے صدر اسٹیشن پر پارکنگ پلازہ فنکشنل نہ ہونے کیوجہ سے لوگوں کو اپنی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں پارک کرنے میں مشکلات کاسامنا ہے پارکنگ کی سہولت میسر آجانے سے میٹروبس کے ذریعے سفر کرنیوالوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوجائے گا اس میں کوئی شک نہیں کہ میٹرو بس کے اسٹیشنز پر ہر وقت رش لگا نظرآرہا ہے خاص کر شام کے وقت تو تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی لوگوں کو بسوں میں کھڑے ہوکر سفرکرنا پڑرہا ہے مگر یہ ابھی شروعات ہیں لوگ شام کے وقت تفریحا اسلام آباد جانے اور میٹرو بس کے مزے لینے کیلئے سفر کرتے ہیں چند روز گزرنے کے بعد رش میں کچھ کمی واقع ہوگی تو لوگوں کو سہولت کے ساتھ میٹرو میں سفر کی آسانی بھی مل جائیگی۔

راولپنڈی میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں دوبھائیوں کی ہلاکت نے عوام میں شدید خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے مقتول بھائیوں کے گھر پر تعزیت کرنیوالوں کا تانتا بندھا ہوا ہے واقع کے روز مقتولین کے ورثاء نے اسلام آباد ایکسپریس وے پر نعشیں رکھ کر احتجاج کیا اس موقع پر آنیوالے راولپنڈی پولیس کے افسران کو وہاں سے مشتعل عوام نے بھگادیا تھا ،گزتہ روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان بھی مقتول بھائیوں کے اہلخانہ سے تعزیت کرنے انکے گھر گئے ،اس کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی وہاں جارہے ہیں مگر حکومتی جماعت کی جانب سے ابھی تک کسی بھی ممبر اسمبلی نے ادھر کارخ نہیں کیا،وزیراعلی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیکرپولیس حکام کو مقتولین کے ورثاء کوانصاف کی فراہمی کا کہا ہے مگر عوام کا پولیس خاص کر پنجاب پولیس کی ایسی کاروائیوں کے باعث ان پر سے اعتماد جو پہلے ہی اٹھا ہوا تھا مزید اٹھتا جارہا ہے حکومت کو چاہیے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کرئے اور واقعہ میں ملوث اہلکاروں کونشان عبرت بنایا جائے تاکہ مزید اس طرح کے واقعت رونما نہ ہوں۔

مزید : ایڈیشن 1