بلدیاتی انتخابات کی آمد، سب جماعتیں مسائل کے حل پر اتفاق کریں

بلدیاتی انتخابات کی آمد، سب جماعتیں مسائل کے حل پر اتفاق کریں

  



کراچی (نصیر احمدسلیمی)

رمضان المبارک کی آمد جیسے جیسے قریب ہو رہی ہے، ویسے ویسے کراچی میں صاف پانی کی عدم دستیابی کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے جو ذمہ دار ہیں وہ بلیم گیم میں لگے ہوئے ہیں۔ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی پانی کے بحران کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کررہی ہیں اور سندھ میں حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری پانی بحران پر عوام کے غیظ و غضب سے بچنے کے لئے ذمہ داران کا اجلاس بلا کر بحران پر قابو پانے کی تدبیر کررہے ہیں۔شہریوں کی اصل تشویش یہ ہے کہ رمضان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ ،سحر و افطار کے اوقات میں پانی کی عدم دستیابی کے عذاب سے کیسے نمٹا جائے گا۔ خطرہ یہ ہے کہ ’’ٹینکر مافیا‘‘عام آدمی کے لئے پانی کا حصول اتنا مشکل بنا دے گا کہ وہ رمضان میں بچوں کی عید کی خریداری کریں یا ساری تنخواہ پانی کا ایک ٹینکر خریدنے پر خرچ کریں یا پھر شہریوں کو سحر و افطار میں پانی کے لئے کسی ’’سخی کی سخاوت‘‘ کے اعلان کا محتاج ہونا پڑے گا۔ اس وقت کراچی میں تین طرح کا پانی ٹینکروں کے ذریعہ فروخت ہو رہا ہے۔ بعض علاقوں میں ’’درجہ اول‘‘ کے پانی کا ایک ٹینکر 15000تک پہنچ گیا ہے۔ ملاوٹ شدہ پانی کا ٹینکر بھی پانچ ہزار سے کم دستیاب نہیں ہے۔ شہری بنیادی سوال یہ کررہے ہیں کہ اگر پانی کی واقعی اتنی شدید کمی ہے تو نئے ہاؤسنگ پروجیکٹس کے ساتھ پانی کی فراہمی کی یادداشتوں کے معاہدے کس بنیاد پر اور کیوں کئے جا رہے ہیں؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ اگر پانی نہیں ہے تو ’’ٹینکر مافیا‘‘ پانی کہاں سے لا کر فروخت کر رہا ہے؟

پانی بحران پر سیاست کرنے والے خود اس بحران کے کتنے ذمہ دار ہیں؟ حکومت پانی کی چوری پر قابو پانے میں کیوں ناکام ہے؟ کراچی میں پانی کا بحران خطرہ کے سارے سرخ نشان عبور کررہا ہے۔ کراچی کو اس بحران سے باہر نکالنے کے لئے سیاسی جماعتوں کا احتجاج اور حکمران جماعت کے سربراہ کا ذمہ داران کے ساتھ اجلاس بلانا کافی نہیں ہے۔ حزب اختلاف اور حزب اقتدار کو اس پر ’’پوائنٹ اسکورنگ‘‘ کے ’’بلیم گیم‘‘ کے کھیل سے اوپر اٹھنا ہوگا۔

ایم کیو ایم کا یہ مطالبہ سو فیصد درست ہے کہ شہر کراچی کے ذریعہ وفاقی اور صوبائی حکومت کو محاصل کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی کا 50فیصد کراچی کے شہریوں کے مسائل حل کرنے پر صرف ہونا چاہیے، مگر ایم کیو ایم کو یہ بھی تو بتانا پڑے گا کہ وہ 1988ء سے اب تک قائم ہونے والی تمام حکومتوں میں شامل ہونے کے باوجود اگر ایسا نہیں کرا پائی تو اب سڑکوں پر احتجاج کرکے کیسے کرا پائے گی؟ کراچی کو مسائل اور مشکلات سے باہر نکالنا اگر واقعی مقصود ہے تو پھر ایم کیو ایم کراچی میں تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک ’’میثاق‘‘ پر اتفاق رائے پیدا کرے کہ ہر سیاسی جماعت بلدیاتی انتخابات کے لئے اپنے منشور میں کراچی کے مسائل حل کرنے اور اس کے جائز آئینی حقوق کے تحفظ کے قابل عمل حل کا منصوبہ پیش کرے اور یہ حل ایسا ہو جس سے دوسروں کے جائز حقوق پر کوئی زد نہ پڑتی ہو۔

کراچی کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے غم میں مگرمچھ کے آنسو بہانے والوں کی تو کوئی کمی نہیں ہے، مگر اس کے جائز حقوق کے تحفظ کا جب وقت آتا ہے تو ہر ایک اپنے مسائل کے حل کے لئے ریاستی وسائل کی بندربانٹ میں اپنے اور اپنے وفاداروں کے لئے حصہ وصول کرکے کراچی کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ہے۔

پیپلزپارٹی ، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ(ن) اور (قاف) اور مسلم لیگ فنگشنل سمیت سب ذمہ دار ہیں۔ کراچی میں پانی کا بحران پیدا کرنے میں اہم کردار رشوت اور سیاسی اثرورسوخ کے ذریعہ بھرتی ہونے والی بیورو کریسی کا ہے۔ پیپلزپارٹی ہو یا ایم کیو ایم تین عشروں میں بھرتی ہونے والوں کا تعلق انہی کے ذاتی وفاداروں سے ہے جنہوں نے ریاست کی انتظامی مشینری کو ناکارہ بنا کر اپنے اپنے ’’وارلارڈز‘‘ کی متوازی حکومتیں قائم کررکھی ہیں۔ جب تک قانون کی پاسداری کا دور واپس نہیں لایا جائے گا۔ تب تک شہر کراچی کے باسی ’’مافیاز‘‘ کے ظلم و جبر کا شکار رہیں گے۔خواہ حکمران کوئی جماعت ہو، اگر ہمارے ارباب حل و عقد پاکستان کے پہلے پنج سالہ منصوبہ کا مطالعہ کرنے کی زحمت گوارا فرمائیں تو انہیں پتہ چلے گا کہ اس میں یہ اصول طے کر دیا گیا تھاکہ ہر پنج سالہ منصوبہ کراچی کے لئے 30سال کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ضروری ہوگا کہ مردم شماری کے مطابق جامع منصوبہ بندی ہوگی جس میں موجودہ اور 30سالوں میں بڑھنے والی آبادی کا لحاظ رکھ کر تعلیم، صحت،بجلی، سڑکیں اور ذرائع آمد و رفت کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے وفاق اور صوبہ رقم مختص کرے گا۔

جناب زاہد حسین (مرحوم) کی سربراہی میں قائم پہلے پنج سالہ منصوبہ میں کراچی کی آبادی کی تیس سالہ ضروریات کو مدنظر رکھا گیا تھا، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح (مرحومہ) نے جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن کی مہم کے دوران (ایوب رجیم) کو تنقید کا ہدف بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے اپنے پہلے پنج سالہ منصوبہ میں پاکستان کے تمام بڑے شہروں کی طرف آبادی کے دباؤ کو پیش نظر رکھا تھا، جس میں 30سال کی ضروریات پوری کرنے کے لئے پانی ،تعلیم، صحت اور سڑکوں کی جامع منصوبہ بندی کی تھی۔ نارتھ ناظم آباد کی سڑکیں اس کا عملی نمونہ ہیں۔ واضح رہے کہ ناظم آباد اور نارتھ ناظم آباد کی منصوبہ بندی پاکستان کے پہلے پنج سالہ منصوبہ میں شامل تھی، جس میں 30 سال کی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا تھا، مگر عملاً نارتھ ناظم آباد کی سڑکوں نے ساٹھ سال میں بڑھنے والی آبادی کا بوجھ اٹھایا ہے، اگر بعد میں آنے والے ہر پنج سالہ منصوبہ میں اسی طرح کی منصوبہ بندی جاری رہتی تو آج کراچی نہ تو فلیٹوں کا جنگل نظر آتا اور نہ ہی اس کے باسی پانی کی بوند بوند کو ترستے نظر آتے۔ آج بھی دیرپا واحد حل کراچی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع منصوبہ بندی اور اس کو پورا کرنے کے لئے وفاق اور صوبہ کے بجٹ میں اس کا جائز حق مختص کرنے میں اور اس پر عمل درآمد میں ہے۔ اللہ کرے وفاقی بجٹ میں جن منصوبوں کا اعلان کیا گیا ان پر اسی سال آغاز بھی ہو جائے ؟ ناظم آباد اور نارتھ ناظم آباد کی منصوبہ بندی پاکستان کے پہلے پنج سالہ منصوبہ میں شامل تھی، جس میں 30 سال کی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا تھا۔

ایک سال پہلے وزیراعظم میاں نوازشریف نے کراچی کے لئے پانی کی فراہمی کے منصوبہ اور میٹروبس اور جاپان کی مدد سے سرکلر ریلوے مکمل کرنے کے لئے وسائل فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، اس پر عملدرآمد کی نوبت کب آئے گی؟ اس کا سب کو انتظار ہے کراچی کے مسائل اور اس کی حساسیت کا ادراک حکمرانوں کو ہوگا تو ہی پیش رفت ممکن ہوگی۔

مزید : ایڈیشن 1