امریکی سفیر رچرڈ اولسن کی ملتان آمد: یوسف رضا گیلانی سے ملاقات، مزارات پر حاضری!

امریکی سفیر رچرڈ اولسن کی ملتان آمد: یوسف رضا گیلانی سے ملاقات، مزارات پر ...

  



جنوبی پنجاب کی زرعی زرخیزی کے ساتھ سیاسی اہمیت بھی مسلمہ ہے ۔یہ اور وجہ ہے کہ مقامی سیاستدان جب کسی بڑے عہدے پر پہنچتے ہیں تو پہلے اپنی"کمر"سیدھی کرنے پر وقت صرف کرتے ہیں اور اس دوران انکا دور اقتدار ختم ہوچکا ہوتا ہے لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ ملتان کبھی اس خطے کا دارالخلافہ ہوا کرتاتھا اور کہا اجاتا تھا کہ جس کا ملتان مضبوط ہو گا وہی اقتدار یا حکمرانی کا حقدار ہوگا۔وقت کے ساتھ ساتھ اس علاقہ کے سیاستدانوں نے محض اپنے ذاتی فائدے کیلئے اس پورے خطے کو نہ صرف نظرانداز کرائے رکھا بلکہ اس کے نام کے ساتھ پسماندگی کا لفظ ثبت ہوکر رہ گیاہے۔یعنی جنوبی پنجاب اور پسماندگی لازم و ملزوم یا پھر یوں کہیں کہ اگر کسی نے پسماندگی کو حقیقت میں دیکھنا ہے تو وہ بلا جھجک جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں میں سفر کر لے اسے اندازہ ہوگا کہ وہ شاید پتھر کے دور میں واپس آگیا ہے۔حالانکہ اگر ہم ایمانداری سے جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ باقی اضلاع کی جس طرح ترقی ہوئی ہے اس طرح ان علاقوں پر توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی انہیں زیر غور لایا گیاہے۔یہ درست ہے کہ کسی بھی شہر کی ترقی پر تنقید نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے شاباش دینی چاہیے لیکن جب معاملہ اس طرح ہو کہ ایک طرف تو انسان جانوروں کی طرح زندگی گذاریں اور دوسری طرف ائر کنڈیشن میٹرو بس چل رہی ہو اور سگنل فری روڈز ہوں پھر دکھ کے ساتھ خیال آتا ہے کہ اس علاقے کی بد قسمتی یہاں کے عوام خود ہیں یا پھر انکے مقامی حاکم ہیں جو سرداروں ، چوہدریوں، ملکوں ،میروں، گیلانیوں،ڈوگروں، گجروں اور قریشوں کی شکل میں ان پر صدیوں سے مسلط ہیں اور انہیں اپنی ناک سے آگے نہیں نکلنے دے رہے جب بھی عام انتخابات ہوتے ہیں یا پھر ضمنی انتخاب ہوں سیاسی جماعتوں کے قائدین اس خطے کے عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے ایسے خوش کن نعرے لیکر آتے ہیں الامان۔۔۔ لیکن جب الیکشن ہو جاتے ہیں اور وہ اقتدار میں پہنچ جاتے ہیں تو پھر ایسا ہوتا ہے کہ انہیں تمام تر ترقیاتی کاموں کیلئے مکمل طور پر نذر انداز کردیاجاتا ہے بلکہ یوں کہیں کہ نااہل قرار دے دیا جاتا ہے اس مرتبہ بھی وفاقی بجٹ میں مسلم لیگ کی حکومت نے جنوبی پنجاب کے ساتھ نہ صرف سوتیلی مال جیسا سلوک کیا ہے بلکہ اس کیلئے کوئی قابل ذکر فنڈز نہیں رکھے ، حالانکہ ضرورت تھی اس خطے کی کئی سٹرکیں نہ صرف مرمت طلب ہیں بلکہ بڑے شہروں کو ملانے والی شاہرات فوری طور پر دو رویہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ خصوصاً ملتان ڈیرہ غازی خان روڈ کی دو رویہ کرنے کی اشد ضرورت تھی اس طرح کچھی کینال جو 90فیصد مکمل ہے اور صرف تھوڑی رقم سے یہ منصوبہ قابل استعمال ہو سکتا ہے۔ جبکہ اس علاقے میں روہود کوہیوں کے پانی کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے اور تو اور پہلے سے قائم دو یونیورسٹیوں اوراور نئی قیام پذیر یونیورسٹیوں کیلئے خاطر خواہ فنڈز نہیں رکھے گئے ہیں ، ملتان تا فیصل آباد موٹر وے کے دو سیکشن کو مکمل کرنے کیلئے مکمل فنڈز فراہم نہیں کئے گئے ہیں ۔ زراعت کو کوئی قابل توجہ مراعات نہیں دی گئیں اور نہ ہی مقامی انڈسٹری کے حوالے سے کوئی ریلیف یا منصوبہ دیا گیا۔ سول نیوکلےئر پلانٹ مظفر گڑھ اور قائداعظم سولر پارک بہاولپور کیلئے بھی ضروری اور ضرورت کے مطابق فنڈز نہیں رکھے گئے ایسا لگتا ہے کہ ان لیگ کی حکومت اس خطے کو بوجوہ نظر انداز کررہی ہے جو سیاسی طور پر حکمران جماعت کیلئے رسک ہے کیونکہ اسی نعرے کو پیپلز پارٹی ایک مرتبہ کم از کم سرائیکی علاقے میں اپنا نعرہ بنارہی ہے جو آئندہ انتخابی سیاست پر اثر انداز ہوگا۔

گذشتہ دو دہائیوں سے جنوبی پنجاب میں غیر ملکی ( ڈپلومیٹس) سفارت کاروں کی آمدو رفت بہت زیادہ ہو رہی ہے حالانکہ قبل ازیں کبھی کبھار کسی اہم ملک کا سفارت کار مقامی سیاستدانوں یا پھر کاروباری و صنعتکاروں سے ملاقات کیلئے چلا آتا تھا لیکن اب یہ آمدورفت بڑھ گئی ہے ، امریکہ، برطانیہ سمیت یورپی ممالک کے سفارت کاروں کے ساتھ ساتھ اب جنوبی امریکہ اور وسطی امریکہ اور آسٹریلیا کے سفارت کار بھی مسلسل اس علاقے کے دورے کر رہے ہیں اور ان کی زیادہ توجہ یہاں کے مذہبی دربار ہیں جن کی تعمیر و مرمت کیلئے وہ بڑے بڑے فنڈز بھی مہیا کر رہے ہیں اسی طرح وہ مقامی سیاستدانوں سے بھی ان کے رابطے بڑے مضبوط ہیں ، خصوصاً امریکہ کے نئے تعینات ہونے والے سفیر رچرڈ اولسن گذشتہ روز یہاں یک دوزہ مختصر دورے پر آئے ، ملتان آمد کے موقع پر انہوں نے دربار حضرت موسی پاک شہید ، بہاء الدین زکریا پر حاضری دی اور سابق وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے مہمان خانے میں شرکت کی ۔ اور بعد ازاں بلیو پاٹری دیکھنے کیلئے گئے جبکہ سابق ڈسٹرکٹ ناظم صنعتکار میاں فیصل مختار کے ظہرانے میں بھی شرکت کی ۔ واضح رہے کہ فاطمہ گروپ اس وقت کھادکا نہ صرف پاکستان میں بلکہ امریکہ میں بھی ایک فیکٹری قائم کر رہا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...