صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کو مشکلات کا سامنا

صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کو مشکلات کا سامنا

  



پشاور سے بابا گل

خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوران ہونے والی دھاندلی بے ضابطگی اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا سخت گیر رویے پر مبنی ردعمل صوبائی حکومت اورتحریک انصاف کی مرکزی قیادت کیلئے مشکل سے مشکل امتحان بنتا جارہاہے پاکستان پیپلز پارٹی عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام پر مشتمل سہ فریقی اتحاد نے آج بدھ کے روز سے صوبہ گیر شٹرڈاؤن ہڑتال اورمظاہروں کااعلان کیا ہے اے این پی کے مرکزی رہنما اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے سہ فریقی اتحاد کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر مستعفی ہوکر قومی نگران حکومت تشکیل دے اورصوبائی اسمبلی کے انتخابات کااعلان کیا جائے میاں افتخار حسین نے ان مطالبات کاپس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت مکمل طورپر ناکام ثابت ہوئی ہے 123 دن تک کنٹینر میں بیٹھ کر دھاندلی کا رونا رونے والی پارٹی کی اپنی حکومت نے دھاندلی کے ایسے ریکارڈ قائم کیئے جس کی تاریخ میں کوئیمثال نہیں ملتی میاں افتخار حسین نے واضع کیا کہ یہ تحریک حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں شمولیت کیلئے دیگر جماعتوں کو بھی دعوت دی جائے گی اسی تناظر میں میاں افتخار حسین کی قیادت میں سہ فریقی اتحاد کے وفد نے مرکز اسلامی میں جماعت اسلامی کے صوبائی امیر پروفیسر ابراہیم کے ساتھ ملاقات اور انہیں حکومت کیخلاف شروع ہونے والی تحریک میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی جماعت اسلامی نے جو کہ تحریک انصاف حکومت کی سب سے بڑی حلیف اور اتحادی جماعت ہے محتاط رویہ اپناتے ہوئے مشروط حمایت کا یقین دلایا اس مشروط حمایت میں صوبائی حکومت کے ہٹانے کی مخالفت کی گئی جبکہ دھاندلی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے نئے انتخابات کی حمایت کی گئی سہ فریقی اتحاد کی طرف سے شٹر ڈاؤن ہڑتال اور مظاہرں کی کال کے فوراً بعد وزیر اعلی پرویز خٹک نے اپوزیشن کی طرف سے استعفے کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کااعلان کیا جس میں بلدیاتی انتخابات کی تحقیقات اور نئے انتخابات کے انعقاد سمیت دیگر آپشنز پر تمام جماعتوں کی رائے لینا مقصود تھی اس کانفرنس کے انعقاد کیلئے 9 جون کی تاریخ مقرر کی گئی جو سہ فریقی اتحاد کی تحریک سے ایک روز قبل کی تاریخ ہے سہ فریقی اتحاد نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے اسے احتجاجی تحریک کیخلاف ایک سازش قراردیا اور میاں افتخار نے مکرر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 10 جون (یعنی آج بدھ کے روز)شٹر ڈاؤن ہڑتال اورمظاہرے کئے جائینگے وزیراعلی پرویز خٹک سہ فریقی اتحاد سمیت ہرطرف سے آنیوالی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ایک سے زائدم رتبہ وضاحت کرچکے ہیں کہ شفاف بلدیاتی انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی لہذا الیکشن کمیشن کی کمزوریوں کا ملبہ حکومت پرنہ ڈالا جائے اسی دوران تحریک انصاف کے مرکزی قائد عمران خان نے بھی دھاندلی کے الزامات پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے پیشکش کی کہ اپوزیشن سمیت تمام جماعتیں متفقہ طور پر لکھ کردیں تو وہ نئے انتخابات کرانے کو تیار ہیں اگر دھاندلی زدہ حلقوں میں انتخابات کرانے کی ضروت محسوس کرتے ہیں تو وہ اس کیلئے بھی تیار ہیں مگر سہ فریقی اتحاد سمیت اپوزیشن کی جماعتیں مذاکرات کی میز پر مسائل حل کرنے کی بجائے سٹرکوں پر فیصلہ کرنے کو ترجیح دے رہی ہیں تین اپوزیشن کا یہ غصہ اور سٹرکوں پر ا حتجاج صرف ایک ہفتے کی بات ہے کیونکہ کم وبیش ایک ہفتہ بعد رمضان المبارک کا آغاز ہورہا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں حسب رویت ایک یا دو روز قبل رمضان کے آغاز کااعلان ہوسکتا ہے جس کے بعد یقینی طور پر صوبے میں خاموشی چھا جائے گی اورعیدالفطر کی تعطیلات کے بعد ہی جب گرمی اور حبس کی شدت عروج پر ہوگی میدان گرم کرنے کی کوشش کی جائیگی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کو صرف اپوزیشن جماعتوں نے دھاندلی زدہ نہیں قرار دیا بلکہ حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے بھی ان انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے کر مسترد کردیا اور فوج کی نگرانی میں نئے الیکشن کرانے کامطالبہ کیا یہاں تک کہ تحریک انصاف کے مرکزی قائد عمران خان بھی بلدیاتی انتخابات میں اپنی جماعت کی کارکردگی سے مطمن نہیں ہیں اور انہوں نے اسکی وجوہات جاننے کیلئے پارٹی کے وزراء اور اراکین اسمبلی کو اسلام آباد طلب کرلیا خو دالیکشن کمیشن بھی بلدیاتی انتخابات کی شفافیت پرمطمن نہیں ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کون ہے جو بلدیاتی انتخابات کے نتائج اورشفافیت پر مطمئن ہے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سے تحریک انصاف اور اسکی صوبائی حکومت کو یقیناًدھچکا لگا ہے مگر دوسری طرف الیکڑانک میڈیا کے مختلف چینلز میں وزیر اعلی پرویز خٹک کے بارے میں مختلف نوعیت کے سیکنڈلز سامنے لائے جارہے ہیں ان سیکنڈلز میں پولیس بھرتیوں میں بھاری رقم لینا اور بلدیاتی انتخابات کے دوران وزیرا علی کے بھائی کے حلقے میں رات 12 بجے تک پولنگ جاری رکھنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں ان الزامات میں کتنی حقیقت ہے اور یہ کتنا فسانہ ہے یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کرئے گا مگر حقیقیت یہ ہے کہ ان سکینڈلز سے وزیر اعلی پرویز خٹک اور تحر یک انصاف کی قیادت کی پریشانیوں اورمشکلات میں ا ضافہ ہوا ہے حکومت مخالف خوتین ان الزامات کو بنیاد بنا کر طنزیہ بیان بازی اورحکومت کے مستعفی ہونے کے مطالبات کرنے لگی ہے خدشہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان الزامات اور تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جائے گا بعض مبعرین کاکہنا ہے کہ وزیر اعلی پرویز خٹک پرمرکزی قیادت کی طرف سے دباؤ بھی آسکتا ہے جو اندرون خانہ اختلافات کا سبب بن سکتے ہیں اگر وزیر اعلی پرویز خٹک پر براہ رات کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا لیکن ان کے بیٹے داماد اور بھائی پر سنگین الزامات کی سیریز شروع کردی گئی ہے جس کے بارئے میں کوئی نہیں جانتا کہ انکا اختتام کہاں اور کیا ہوگا؟ بہرحال اگلے چند دنوں میں صوبائی اسمبلی سے بجٹ بھی آرہا ہے اور اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ رمضان المبارک کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے احتجاج کا کوئی ایسا فارمولا سامنے آئے گا جو صوبائی حکومت اورتحریک انصاف پردباؤ ڈالنے کیلئے موثر معیار ثابت ہوسکے گا فی الحال ایک دو مظاہروں کے بعد اپوزیشن اور عوام عبادت کرنے اور روزے رکھنے کی تیاریاں شروع کرئینگے جس سے اتحاجی تحریک وقتی طورپر پریس منظر میں چلی جائے گی۔

مزید : ایڈیشن 1