سکولوں کا تین ماہ کی فیسیں وصول کرنا بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے،نظرانداز نہیں کر سکتے،ہائیکورٹ

سکولوں کا تین ماہ کی فیسیں وصول کرنا بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے،نظرانداز نہیں ...

  



 لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ حیرانی ہے کہ گھر بیٹھے طلباء سے بھی اضافی چارجز وصول کئے جا رہے ہیں، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تین ماہ کی یکمشت فیسوں کی وصولی عوام کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ، جہاں آئین کی خلاف وزری ہو وہاں عدالتیں مداخلت کرسکتی ہیں، مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی نے یہ ریمارکس گرمیوں کی تعطیلات کے دوران تین ماہ کی فیسوں کی یکمشت وصولی کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کی رپورٹ 17جون تک طلب کرتے ہوئے دیئے ۔عدالت کے روبرو شبیر الزمان کی درخواست پر سماعت شروع ہوئی تو ای ڈی او ایجوکیشن پرویز اختر نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود 77نجی تعلیمی اداروں نے اپنے طلباء سے یکمشت فیس وصول کی ۔ان 77 سکولوں کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں اور تسلی بخش جواب نہ ملنے پر ان اداروں کو سیل یا ان کی رجسٹریشن منسوخ کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ حیرانی کی بات ہے کہ گھر بیٹھے طلباء سے بھی اضافی چارجز وصول کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عدالتی استفسار پر مزید بتایا کہ پرائیویٹ ایجوکیشن بل تیاری کے حتمی مراحل میں ہے جلد اسے پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فیس کی وصولی کے معاملے پر کارروائی پالیسی معاملہ ہے اور اس حوالے سے حکومت اقدامات اٹھا رہی ہے ،ا درخواست نمٹا دی جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جہاں آئین کی خلاف ورزی ہو وہاں عدالتیں مداخلت کر سکتی ہیں۔ تین ماہ کی یکمشت فیسوں کی وصولی عوام کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے سماعت 17جون تک ملتوی کرتے ہوئے گرمیوں کی تعطیلات کی فیس یکمشت وصول کرنے والے سکولوں کے خلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کر لی۔

مزید : علاقائی


loading...